429

ختمِ نبوت

تحریر شئیر کریں

حمادیہ صفدر

نبی کےمعنٰی خبردارکرنےوالا، جزاوسزاسےمتنبہ کرنےوالا۔اوروہ نفوس جن کواللہ رب العزت نےدنیاۓفانی میں لوگوں کوجہالت کی تاریکیوں سےنکال کرایمان کی روشنیوں میں داخل کرنےکیلیےبھیجا۔
اسی سلسلہ میں ربِ کائنات نےایک لاکھ چوبیس ہزارانبیاءعلیھم السلام بھیجے۔جن میں کچھ کامقام “رسول” بھی ہے۔
رسول کادرجہ نبی سےبلندہوتاہے۔
یوں کہ سکتےہیں کہ ہررسول نبی ہوتامگرہرنبی رسول نہیں ہوتا۔
آپﷺسےنبیوں اوررسولوں کی تعدادپوچھی گئ توآپﷺنےکل انبیاءکی تعداد١٢٤٠٠٠بتائی جبکہ انھی میں سےجن کامقام رسول کاہےان کی تعداد٣١٣یا٣١٥بتائی۔
محمدﷺجوکہ نبی بھی ہیں رسول بھی اورساتھ ہی خاتم الرسل اورخاتم النبیّین بھی ہیں۔
لفظ ختمِ نبوت سےمراد”نبیوں کی مہر”یعنی جب کسی چیزکومہربندکردیاجاتاہےتواس میں نہ کوئی چیزداخل ہوسکتی ہےاورنہ ہی کچھ نکالاجاسکتاہے۔
اسی طرح رسول اللہﷺکوخاتم النبیّین کہاجاتاہےکہ آپﷺآۓتوبابِ نبوت کومہرلگادی گئ اب قیامت توقائم ہوسکتی ہےمگرکوئی نبی اورنہیں آسکتا۔
ہاں یہ بات یادرہےکہ سیّْدناعیسٰیؑ جب روۓزمین پرآئیں گےتووہ رسول اللہﷺکےامتی کی حیثیت سےآئیں گے۔اگرچہ وہ اللہ کےنبی ہیں لیکن آپﷺکےبعدزمین پراتریں گےتواورنبی کی حیثیت سےنہیں بلکہ رسولِ کریمﷺکی امت کاایک فردہونےکی حیثیت سےآئیں گے۔

اورختمِ نبوت کاسالارآیا
بابِ نبوت کوہےمارآیا
قیامت تلک اب کوئی
نیانبی آنہیں سکتا
آقامدنیﷺ کے رتبےکو
پاکوئی نہیں سکتا

قرآن حکیم کی سورة احزاب آیت40میں اللہ تعالٰی واضح طورپرآپ ﷺکوخاتم النبیین کہ کرہرطرح کےاختلاف کوختم کردیتےہیں۔اورخودمحمدعربیﷺکی لسانِ اطہرسےایسےاقوال منقول ہیں جن سےآپﷺکی ختمِ نبوت کےدلائل ملتے ہیں۔
آپﷺنےفرمایا۔
بنی اسرائیل کی قیادت انبیاءکرتےتھےجب کسی نبی کاوصال ہوتاتوبعدمیں اس کاجانشین بھی نبی ہی ہوتامگرمیرےبعدکوئی نبی نہ ہوگابلکہ خلفاءہونگے۔
(بخاری۔کتاب المناقب ۔ذکرعن بنی اسرائیل)
ایک اورحدیث میں فرمایا۔
میری اورمجھ سےپہلےگزرےہوۓانبیاکی مثال ایسی ہےجیسےایک شخص نےخوب حسین وجمیل عمارت بنائی ہومگرایک کونےمیں اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔لوگ عمارت کےگردپھرتےاس کی خوبی پراظہارِ حیرت کرتےمگرکہتےتھےکہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئ ۔تووہ اینٹ میں ہوں اورمیں
” خاتم النبیین” ہوں ، میرےآنےسےنبوت کی عمارت مکمل ہوچکی ہےاب کوئی جگہ باقی نہیں ہےجسےپُرکرنےکیلیےکوئی آۓ۔
(بخاری ۔کتاب المناقب۔باب خاتم النبیین)
اب ان دلائل سےیہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ آنحضرتﷺنبیوں کی لڑی میں آخری گوہرنایاب ہیں ۔
مگرپھربھی اس زمانہ سےلیکراب تک شرپسندلوگ اس بات کہ منکرہیں اور آپﷺکی ختم نبوت کونہیں مانتےیہی لوگ ملعون ہیں۔
عصرِ حاضرمیں فتنہ پردازی کی اسقدربھرمارہےکہ ہرمسلمان کافریضہ بنتاہےکہ وہ فتنوں سےآگاہی حاصل کرےاوران لوگوں جوخبردارکرےجوبےخبرہیں۔اورمعاشرےمیں پیداہونےوالی خرابیوں کی نشاندہی کرے۔مسلمانوں کوان سےبچانےکی کوشش کرے۔
جنابِ نبی کریمﷺاورصحابہؓ کےادوارمیں بھی کچھ لوگوں نےنبوت کادعوٰی کیا۔
مسیلمہ کذاب۔اسودعنسی۔طلیحہ اسدی اورسجاح۔
ان میں مسیلمہ کذاب اوراسودعنسی تومقابلہ میں واصلِ جہنم کیےگۓتھے۔اورطلیحہ اورسجاح نےتوبہ کرلی تھی۔
اب دورِ حاضرمیں قادیانیوں کی سازشوں اوردعوتوں کاعمومی میدان وہ لوگ ہیں جن کودین سےکم آگاہی ہےاوروہ اپنی دعوت میں وسیع ترہوتےچلےجارہےہیں۔مگرافسوس کہ مسلمانوں کےدلوں عقیدہءِ ختمِ نبوت کی اہمیت ہی اجاگرنہیں ہے۔یہاں تک ایمان گرچکاہےکہ اگرکوئی کسی قادیانی یاآنحضرتﷺکی شان میں گستاخی کرنےوالےکوقتل کردےتواس مسلمان ہی کوسزاؤں سےدوچارکیاجاتاہےایسےحالات دیکھ کراپنی ہی مسلمانی پرشرم آتی ہے۔
اوراگرنبوی دوریاادوارِ اصحاب کا جائزہ لیاجاۓتوہمیں معلوم ہوتاہےکہ کسطرح ان مدعیانِ نبوت کاقلع قمع کیاجاتاتھا ۔
یہ وہی قادیانی ہیں جن کوآئین ١٩٧٤میں غیرمسلم اقلیت قراردیاگیا۔مگراب انہی قادیانیوں کوملک میں آزادانہ رہنےکی اجازت ہےیہ کیسی محبت ہےختم الرسل سےکہ انﷺکےمنکرین کوبلندعہدوں پرفائزکیاگیاہے۔
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کرشرمائیں یہود
اب تومسلمانوں ہی کیلیےمقامِ شرم ہے۔موجودہ حالات میں قادیانی جس تیزرفتاری سےوسعت اختیارکررہےہیں مسلمانوں کوبیدارہوناچاہیےاوران کےخلاف اقدام کرنےچاہیئیں۔۔۔

جس رستےسےسنت کی مہک آۓ
اس ہی رستےسےگزرناضروری ہے
اورجوپاک نبیﷺکی توہین کرے
اسےسولی پہ لٹکاناضروری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں