263

خطبہ القاضی محمد بن ابی الحسن 

تحریر شئیر کریں

خطبہ القاضی محمد بن ابی الحسن 

تحریر :ام عبداللہ

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو کیا کچھ نگاہیں دیکھتیں اور کان سنتے ہیں۔
تاریخ میں سفر کرتی میری نگاہیں دیکھتی ہیں کہ
سلطان صلاح الدین ایوبی جنگوں کی ایک عظیم داستان رقم کرتے مورخہ 27  رجب 583ھ بروز جمعہ بیت المقدس میں داخل ہوتے ہیں، مسجد اقصی نصرانیوں کی غلاظت سے پاک کرتے، صلیب توڑتے ہیں اور اس کے میناروں سے اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا گونجنے لگتی ہے۔
بیت المقدس کی آزادی کے ٹھیک ایک ہفتہ بعد یعنی 4 شعبان 583ھ بروز جمعہ القاضی محمد بن ابی الحسن ایک یادگار خطبہ دیتے ہیں۔

سوچتی ہوں فتح و نصرت سے سرفراز مومنین نے جب یہ خطبہ سنا ہوگا تو ان کی پیشانیاں اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر کے لیے کچھ اور جھک گئیں ہوں گی۔ دل جوش سے بھر گیا ہوگا اور لہو جوش مارتا ہوگا کہ کلمہ توحید کا علم مشرق تا مغرب ہمیشہ سربلند رہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ نور توحید سے جگمگاتا رہے۔
مگر ان کا خطبہ میرے لیے تو آنسوٶں کی جھڑی بن گیا ہے۔ دل تڑپتا ہے کہ کیوں
امت غفلت کا شکار ہوئی؟؟
کیوں من حیث القوم ہم نے کفران نعمت کیا اور آج تہی داماں بیٹھے کفار کے ظلم و ستم پر آنسو بہاتے سسکیاں بھر رہے ہیں؟؟

میں اپنے آنسو پونچھتی ہوں،،
کچھ کرنے کا سوچتی ہوں۔
تو القاضی محمد بن ابی الحسن چشم تصور میں مسجد اقصی کے منبر پر آن کھڑے ہوتے ہیں۔
ان کی آواز چار دانگ عالم گونجنے لگتی ہے۔
وہ فرماتے ہیں۔
  “اے مومنو! اللہ کی رضا کے لیے جستجو کرو، کیونکہ وہی کعبہ کا رب ہے اور اسی نے مسجد نبوی کو تمہارے لیے جائے رحمت بنایا ہے اور اسی نے مسجد اقصی میں تمہارے لیے برکت رکھی ہے۔ اپنی نااہلیوں سے گم کردہ اس قیمتی متاع کی پہچان کے لیے آنکھیں کھولو۔ پون صدی سے کفار تمہاری سرزمین پر دندنا رہے ہیں۔ یہ عفریت بن کر تمہارے ہی بہن بھائیوں اور بچوں کا خون پی رہے ہیں۔ اٹھو! اس بابرکت گھر کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کرو، اور یہاں علم توحید بلند کرنے کی جستجو کرو۔

یاد کرو! اس مسجد کی بنیادیں توحید و تقوی پر قائم ہیں۔ یہ تمھارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وطن ہے، اور یہیں سے تمھارے نبی حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کو معراج کے لیے لے جایا گیا۔ یہی تمھارا پہلا قبلہ ہے، یہاں آکر انبیاء علیھم السلام ٹھہرے اور اولیاء رحمہم اللہ نے اس کا قصد کیا۔ یہاں متعدد رسول دفن ہوئے، یہاں اللہ کی وحی اتری۔ یہ سرزمین محشر ہے، اور یہیں سے لوگ حساب و کتاب کے لیے منتشر ہوں گے۔ یہ گھر اس مقدس سرزمین پر واقع ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد یہی وہ تیسری مسجد ہے جس کی طرف شد رحال (باقاعدہ ثواب کی نیت سے سفر) کرنا مشروع ہے۔

اٹھو! قادسیہ، یرموک اور خیبر کی یادیں تازہ کرو۔ کفران نعمت کر کے جس عظیم نعمت کو کھو رہے ہو، کھو چکے ہو۔ اس کی عظمت پہچانو!

کیا یہ ہی وہ گھر نہیں جس کی تمام رسولوں نے تعریف کی،
اور
اس میں چاروں آسمانی کتابوں کی تلاوت کی گئی؟
کیا یہ وہی گھر نہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام  کے لیے سورج کو غروب ہونے سے روک دیا؟
کیا یہی وہ گھر نہیں جسے آزاد کرانے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ نے اپنی قوم کو جہاد کرنے کا حکم دیا ؟
چنانچہ پوری قوم میں سے صرف دو آدمیوں نے ان کی بات کو قبول کیا اور باقیوں نے انکار کر دیا، پھر کیا اللہ تعالی ان سے ناراض نہیں ہوا؟ اور چالیس سال تک انہیں میدان تیہ میں سرگرداں نہیں رکھا؟
تم مسجد اقصی کی حفاظت سے غافل ہوئے، کفار کو یہاں قدم جمانے کی جرات دی۔ اس مقدس سرزمین کا امن پامال کرنے کا انہیں حوصلہ دیا۔
اٹھو! اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرو۔
اٹھو! ابھی بھی وقت ہے۔ اس گھر کو آزاد کرانے کی فکر کرو۔ علم توحید پوری آن بان کے ساتھ اس مقدس سرزمین پر لہراؤ۔ شیطان اور اس کے ساتھیوں کی کمر توڑ ڈالو۔
اللہ سے ڈرو۔
اس کی رضا کی طرف دوڑو۔
فرشتوں کی دعائے مغفرت کے حق دار بنو۔
جہاد سب سے افضل عبادت ہے اس سے منہ نہ موڑو۔
تم اللہ کے دین کی مدد کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔
تم دین الہی کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ کا شکر ادا کرو وہ تمہیں خلافت ارضی سے نوازے گا۔
تم زمین پر پھیل جاؤ اور اسے نجاست کفر وشرک سے پاک کر دو. کفر کی جڑیں اکھاڑ دو اور اس کی شاخیں توڑ ڈالو۔ اسلام کو غالب اور کفر کو ذلیل و خوار کرو۔
وہ وقت آن پہنچا ہے کہ تم پر عزم ہو کر نکل کھڑے ہو اور اللہ اکبر کی صدا سے کفر و شرک اور شیطانوں کے ایوان ہلا ڈالو۔*

آئیں! اس خطبے کو دل کے کانوں سے سن کر عمل کی جانب گامزن ہو جائیں۔

خطبہ القاضی محمد بن ابی الحسن 


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

“خطبہ القاضی محمد بن ابی الحسن ” ایک تبصرہ

  1. قلم کتاب لکھاریوں کے لیے ایک بہترین ساٸٹ ہے جہاں سے وہ اپنی سوچ لاکھوں پڑھنے والوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
    بروقت تحریر کی اشاعت اس ویب ساٸٹ کی بڑی خوبی ہے۔
    میری تحریروں کو جگہ دینے کے لیے بہت شکریہ
    اللہ تعالی آپ کو جزاۓ خیر دے۔ آمین

تبصرے بند ہیں