بھارت کے شہر احمد آباد میں عائشہ نامی لڑکی نے ندی میں کود کر خودکشی کر لی۔وجہ سسرال والوں کا تششدد اور ڈیمانڈنگ رویہ تھا۔احمد آباد پولیس نے سوشل میڈیا پریشر کی وجہ سے اس کے مبینہ شوہر کو گرفتار کر لیا ہے۔
بہت سے سوالات ہیں جو دماغ میں پک رہے اور ان کو نکالنے کا کوئی سرا نہیں مل رہا۔سوچا آرٹیکل لکھ لیا تاکہ کتھارسس ہو جاۓ۔
عائشہ انسانوں کے رویے سے تنگ آ کر خودکشی میں پناہ لے لیتی ہے۔کیا اسے پتہ نہیں تھا کہ خودکشی حرام ہے۔یا پھر اس کی ذہنی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ سوچنے کے بھی قابل نہیں رہی تھی۔معاشرے کا کردار یقینا صفر ہے ۔وہ۔لوگ قابل معافی نہیں ہونے چاہیے جنہوں نے اسے ایسا کر نے پہ اکسایا۔
ہمارے ہاں عورت جب سسرال سے میکے آ جاتی ہے وجہ تنازع جو بھی ہو۔اسے بوجھ سمجھا جاتا ہے۔اسے اٹھتے بیٹھتے زندگی خراب ہوگی مستقبل تباہ ہوگیا ۔طلاق دھبہ ہے جیسے طعنے سننے کو ملتے ہیں جسے سن سن کے وہ بیچاری ان جملوں پہ ایمان لے آتی ہے اور پھر سچ میں وہ سب ہونے لگتا ہے ۔لاء آف اٹریکشن کے حاملین انسانی سوچ کو خوشی قسمتی اور بدقسمتی کا محور قرار دیتے ہیں۔ان کے مطابق انسان جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے وہ اس پہ گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔انسانی دماغ میں پیدا ہونے والی سوچ لہریں پیدا کرتی ہے اور یہ سوچ اگر مثبت ہے تو پیدا ہونے والی لہریں مثبت مواقع اکٹھے کر نا شروع کر دیتیں ہیں۔اگر منفی ہیں تو منفی .۔اس لیے جو بھی سوچو دھیان سے سوچو۔زندگی خو بصورت اور آسان بن سکتی ہے اگر اپنی سوچ بدل کر تقدیر پہ شاکر ہونا سیکھ لیں۔تو جو وائرس معاشرے سے ا رہے ہیں بعض لوگوں کےا ندر اینٹی وائرس نہیں ہوتا۔وہ عائشہ جیسے ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو دوسروں کے رویے سکین کرنا نہیں آتے جبھی وہ خود کو اتنا انڈر پریشر کرتے ہیں۔کہ موت کو سینے سے لگانا پڑتا ہے۔
شریعت نے نامواقف حالات پہ طلاق کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ہم نے عورت کو اتنا پریشرائز کیا اور اسے ہر طرح سے باور کروایا کہ طلاق یافتہ عورت کے لیے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔نتیجتا وہ خودکشی کی آپشن کو قبول کر کے موت کو گلے لگا لیتی ہے ۔اسلام بہت وسعت والا دین ہے۔زندگی اور زندہ رہنے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ممکن ہے ایک شادی ناکام ہوئی تو دوسری کامیاب ہو جاۓ۔لیکن اگر زندگی کا ہی خاتمہ کر لیا جاۓ تو دنیا اور اخرت دونوں سے گیا۔خدارا ہوش کے ناخن لیجیے۔خودکشی حرام ہے۔آپ مظلوم ہیں تب بھی حرام ہے۔خودکشی مسئلے کا حل نہیں ہے۔بذات خود بہت بڑا مسئلہ ہےایسا مسئلہ جو آپ کے لیے دنیا ہی نہیں آخرت میں کامیابی کو زیرو کر دیتا ہے۔
سائیکالوجسٹ کہتے ہیں کہ “خودکشی کا جس لمحے خیال آئے خود کو تھوڑی سی تکلیف دے کر دیکھیں۔مرنا آسان نہیں ہے بہت تکلیف دہ ہے۔اس سے بھی فرق نہیں پڑتا تو سائیکالوجسٹ کے پاس جائیں۔مسلمان معاشرے میں خودکشی کےواقعات باعث ندامت اور باعث شرم ہونے چاہیے۔ایسے لوگوں کے جنازے نہیں پڑھوانے چاہیے۔تاکہ زندہ لوگوں کو پتہ چل سکیں کہ حرام موت مریں گے تو یہ سب ہوگا۔ہمارے ہاں الٹا چلن ہے ایک طرف آپ کسی کو جینے کا حق نہیں دے رہے وہی بندہ جب خودکشی کر لیتا ہے تو ہم نفسیاتی دباؤ میں آکر اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔جنازہ تک پڑھوا دیتے ہیں۔حالانکہ شریعت کے ان کاموں میں بھی حکمت ہے۔مظلوم کا ساتھ ضرور دیں مگر تب جب وہ زندہ ہو۔
جس معاشرے میں یہ سب ہو رہا ہے وہاں پہ گورنمنٹ کو خصوصی کمیٹیاں تشکیل دینی چاہیے کہ وہ لوگوں کے مسائل کی طرف دھیان دیں ان کو حل کروائیں۔سکول کالج لیول پہ زندگی کی حفاظت کیسے کی جاۓ یہ کتنی قیمتی ہے۔یہ سب بتایا جاۓ۔خودکشی کا خیال آنے پر کیا کیا جاۓ اسے کیسے مینج کیا جاۓ۔ان سب موضوعات کو سلیبس میں شامل ہونا چاہیے ۔
سائیکالوجسٹ کے پاس جانا اور مدد لینا باعث شرم نہیں ہونا چاہیے۔بچوں میں اگرکوئی جزبہ زیادہ ہے یا کم تو فورا سائکالوجسٹ کے اپس لے جائیں جو لوگ خودکشی کی دھمکیاں دیں انھیں کبھی بھی معمولی مت سمجھیں۔آخر میں بس اتنا کہوں گی کہ انسانی جان بہت قیمتی ہے زمین پر پہلا حق انسان کو زندہ رہنے دینے کا حق ہے۔اس حق سے کسی کو محروم نا کیجیے۔