405

خود کو بدلیے

تحریر شئیر کریں

خودکو بدلیے.. لوگ آپکے لیے نہیں بدلیں گے

اللہ تعالی نے جو آپ کو لباس کا خیال رکھنے کا کہا ہے تو اسی لئے کہ پہچان لی جائیں کہ آپ شریف لڑکی یا عورت ہیں۔

اب یہ آپ پر ہے کہ آپ ان احکامات کو پابندیاں سمجھیں یا اپنے رب کی طرف سے دیئے گئے آپکی سیفٹی کیلئے اقدامات سمجھیں۔*

ہم کیوں اتنا عادی ہوگئے ہیں کہ گھر میں کام کرتے ہوئے خود کو اچھی طرح دوپٹے سے ڈھانپا نہ ہو۔ اور باپ، بھائی، بیٹا، دیور، جیٹھ موجود ہیں۔۔۔

اگر آپکو برا نہیں لگتا کہ بیٹے کی کوئی لڑکی دوست ہے یا بیٹی کا کوئی لڑکا دوست ہے۔ تو یقین کیجئے آپ ایڈوانس نہیں بلکہ زمانہ جاہلیت کا ذہن رکھتے ہیں۔

اس لڑکے لڑکی، اور مرد عورت کے آزادنہ بلا روک ٹوک میل و جول کو ختم کرنے میں ہی ہماری عافیت ہے۔

خدارا اپنی اولاد کی تربیت کریں چاہے وہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں۔

کیا واقعی ٹک ٹاک پر ڈانسز اور ٹائٹ، باریک لباس میں، فل میک اپ سے اپنی سج دھج دکھانے والی لڑکیوں کے والدین زندہ ہیں؟؟؟؟*

کیا واقعی آپ نے اپنے بیٹوں میں خدا کا اتنا خوف بھی نہیں پیدا کیا کہ وہ نیٹ پر فحش اور حیا سوز چیزیں دیکھتے رہیں؟؟؟*

اگر آپ بہت ہی “روشن اور آزاد خیال” ہیں تو آپکی مرضی ہے کہ بیٹیوں کو اکیلے کہیں بھی آنے جانے کی آزادی دے دیں۔
لیکن پھر صرف معاشرے کا شکوہ نہ کیجئے گا۔ اپنی آزاد خیالی پر بھی نظر ڈالئے گا۔*

اس دیوثیت کو ختم کیجئے۔ یعنی وہ مرد نہ بنیں جو اپنے گھر کی عورتوں میں بے حیائی کو برداشت کرتے ہیں۔
اپنی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کی تربیت کرنا انکو پردے کی ترغیب دینا اور ساتر لباس پہنانا آپکی ذمہ داری ہے۔

جن بیٹوں کے ناز اٹھاتے ہیں، اچھا کھانا، اچھا پہنانا، انکو ہر تکلیف سے بچانا یہ سب ہم کرتے ہیں۔
کیا انکو جہنم سے بچانے کی فکر نہیں ہے، تو ان کو سکھائیں کہ سب سے زیادہ ضروری چیز پاکدامن رہنا ہے۔*

کیا واقعی ہمیں کوئی شرم اور غیرت محسوس نہیں ہوتی جب بچیاں ہمارے سامنے کسی غیر مرد، کھلاڑی، ایکٹر، سیاستدان، اپنے کلاس فیلو کے حسن کی تعریفیں کرتی ہیں؟؟؟

خدارا بیٹیوں کو بھی نظروں کی حفاظت سکھائیں اور بیٹوں کو بھی۔*

جیسے ہی کوئی بڑا سانحہ ہو جاتا ہے تو پھر اتنا تعجب کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ وہی فصل ہم کاٹ رہے ہیں جسکے بیج بوئے ہیں۔…. جو ہم کرتے ہیں ہمارے ساتھ ویسا ہی ہوتا ہے

اسلئے خدارا جاگ جائیں۔ اپنے لائف اسٹائل کو بدلیں۔
باریک کپڑے پہن کر، صحیح طرح سےدوپٹہ نہ لے کر، غیر مردوں کے سامنے زینت دکھا کر یقین جانئے کہ اگر آپکو کوئی خوبصورتی لگ رہی ہے تو وہ شیطان کا دھوکا ہے
بے حیائی جس چیز میں ہوتی ہے اسکو عیب دار بناتی ہے۔

ٹک ٹاک یا کوئی بھی سوشل میڈیا ایپ استعمال کرنی ہے تو اسکو لایعنی اور بے مقصد کاموں میں نہ لائیں۔

بالخصوص اگر آپ بے حیائی کا Content لگاتے ہیں، فلموں اور ڈراموں کے سین، یا اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز تو جان لیں کہ فحاشی پھیلانے والوں کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے دردناک عذاب کی وعید ہے۔*

سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ آپکو ہو ہی گیا ہوگا کہ کیسے ایک واقعے کو کیا سے کیا رنگ دیا جا سکتا ہے۔

اسلئے سوشل میڈیا کو دین کو پھیلانے کیلئے استعمال کریں۔ یا کوئی اور فائدہ مند مواد اس سے پھیلائیں۔
بالخصوص بلا تحقیق چیزیں پھیلا کر گناہ میں حصے دار نہ بنیں۔

خود کو بدلیے

ںود کو بدلیے اینڈ رزلٹ سوچ کر کویی بھی کام کریں۔کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔مثبت سوچیں مثبت کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں