471

خود کو جج مینٹل بننے سے کیسے روکیں؟

تحریر شئیر کریں

خود کو جج مینٹل بننے سے کیسے روکیں؟

میری نئ نئ شادی ہوئی تھی،میری ایک نند ملنے کے لیے آئی ساتھ اس کا تیرہ سالہ بیٹا بھی تھا۔میں نے کھانے کا پوچھا تو نند کا بیٹا بولا مامی کھانا کھانا تو نہیں ہے مگر آپ بناتی کیسے ہیں یہ دیکھنے کے لیے تھوڑا سا کھانا دے دیں۔میں اس بچے کی سوچ اور الفاظ پہ حیران رہ گی۔جج مینٹل رویے کہاں سے آتے ہیں۔یقینا ماوں سے اسی گھر سے جہاں پیدا ہوتے ہیں۔

انسان اپنی گفتگو اور الفاظ سے پہچانا جاتا ہے۔دوسروں کے لیے ہمارے دل میں کتنی عزت اور وقار ہے یہ پتہ بھی گفتگو سے چلتا ہے۔گفتگو میں دو چیزیں آتی ہیں الفاظ اور لہجے کی ٹون ماہرین کے مطابق الفاظ سے بھی زیادہ ٹون متاثر کن ہوتی ہے۔کبھی کبھی بہت سخت بات بھی اگر نارمل ٹون کے۔ساتھ کہہ دی جائے تو وہ۔بھی ہمیں بری نہیں لگتی اور کبھی کبھی بہت عام سی بات سخت لہجے میں کہہ دی جاتی ہے جو بہت بری لگتی یے۔

روزویلٹ کا مشہور زمانہ قول ہے عظیم لوگوں کی گفتگو آئیڈیاز پر ہوتی ہے جبکہ ایورج لوگ واقعات کو ڈسکس کرنا پسند کرتے ہیں اور چھوٹے دماغ والوں کی گفتگو کا موضوع لوگ ہوتے ہیں۔

دوسروں کی زندگی بہت بہتر ہو سکتی ہے اور خود ہماری بھی اگر ہم لوگوں کو ڈسکس کرنا چھوڑ دیں۔یہی سے کبیرہ گناہوں کا دروازہ بھی کھلتا یے جسے غیبت چغلی فحش بیانی وغیرہ

بس اتنا کام کرنا ہے کہ لوگوں کے علاوہ ہر وہ چیز ڈسکس کریں جو ہمارے دماغ میں آتی ہے۔واقعات ہوں یا آئیڈیاز اور مسائل مگر خدارا لوگوں کے دلوں پہ ہاتھ ڈالنا چھوڑ دیں۔
شادی کب ہو گی؟ابھی تک کنواری بیٹھی ہے؟اگر ہوگی ہے تو
بچہ کب ہوگا؟نوکری کیوں نہیں لگی؟گھر اپنا ہے یا کرایے کا؟کہنے سے پہلے سوچ لیں کہ یہ الفاظ آپ کو کتنا فائدہ دے رہے ہیں؟پہلے تولو پھر بولو،اینڈ رزلٹ سوچ کر بات کرنا شروع کریں۔دنیا جنت نابن گی تو کہنا۔

خود کو جج مینٹل رویے سے کیسے بچاِئیں؟

دوسروں کو بلند مقام دیں یا نا دیں۔مگر ان کو انسان سمجھیں،بالکل اپنے جیسا انسان۔جس سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔بالکل آپ کی طرح

انسان جتنا زیادہ اپنی کوتاہیوں کا ادراک کرتا ہے ، اتنا ہی لوگوں سے محبت کرنا اور قبول کرنا آسان ہوتا جاتا ہے۔

معاف کرنا سیکھیں،معافی اگلے شخص کو متاثر نہیں کرے گی مگر آپ کے دل سے حسد بغض کینہ اور رنج کو ختم کر دے گی جس کی وجہ سے آپ کی زبان کانٹے اگلتی رہتی ہے۔

بچوں کو سکھائیں کہ روزانہ رات سونے سے پہلے دوسروں کو معاف کر کے سونا ہے۔ناروے میں سکولوں میں بچوں کو یہ ایکٹیوٹی کروائی جاتی ہے۔جس کی وجہ سے ان۔بچوں میں حسد اور کینے جیسے منفی جزبات کم پروان چڑھتے ہیں۔
دوسروں کا دفاع کرنا سیکھیں۔جب کوئی تنقید کرنے والا کسی کی آپ کے سامنے تنقید کرے تو اس کا دفاع کریں۔اس سے بھی ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

خود کو جج مینٹل بننے سے کیسے روکیں؟

لکھیں اور اپنا تجزیہ کرتے رہیں۔حل ضرور ملے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں