528

دار چینی قدرتی اینٹی بائیوٹک اور شوگر جیسی مہلک بیماریوں کا علاج

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔۔۔
دارچینی ایک درخت کی چھال ہے جسے چھاؤں میں سکھایا جاتا ہے تاکہ اسکی خوشبو اور تیل ضائع نا ہو سکے۔اس کا مزاج خشک اور گرم ہے۔یہ گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے۔پاکستان اور ہندوستان میں بھی بکثرت ملتی ہے۔اس کی دو اقسام ہیں۔جنگلی اور سری لنکن دارچینی۔سری لنکن اپنے خواص کے اعتبار سے بہترین ہے۔
دارچینی کے خواص درج ذیل ہیں۔یہ قدرتی اینٹی بائیوٹک اینٹی الرجک اور اینٹی فنگس اور اینٹی بیکٹریل ہے۔اس کے علاوہ اس میں وٹامن اے اور ای بھی شامل ہوتا ہے۔میگنیشیم ،کیلشیم ،آئرن اورکوپر بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اس میں پچاس سے زیادہ اینٹی ایکسیڈنٹ پاۓ جاتے ہیں۔اپنے بیش قیمت خواص کی بدولت اسے بیشتر بیماریوں میں بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔یہ جسم میں سوجن کو روکتی ہے۔قدرت مدافعت کو بڑھاتی ہے اور انسولین کی مزاحمت پہ کام کرتی ہے۔اس کے علاوہ شوگر،کینسر،دماغی امراض،کولیسٹرول کا علاج بھی ہے۔

۔۔۔۔۔
موٹاپے کا علاج

۔۔۔۔م
وہ لوگ جو اپنا موٹاپا کم کرنا چاہتے ہیں۔نہار منہ اس کا قہوہ پیئیں لیموں نچوڑ کر تو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔قہوہ پکانے سے بہتر ہے ایک گلاس گرم پانی مءں ایک انچ کا ٹکڑا دارچینی کا ڈال کر کچھ دیر رکھیں پھر لیموں نچوڑ کر پی لیں۔دلیہ،دہی اور سلاد وغیرہ پر اس کا پاؤڈر چھڑک کر بھی اس کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
شوگر کا علاج
۔۔۔
ہمارے ہاں مائنڈسیٹ بنا دیا گیا ہے کہ شوگر لا علاج مرض ہے جبکہ یہ بات اصولی طور پر غلط ہے کل داء دواء ہر بیماری کا علاج ہے۔اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کا علاج نا ہو۔شوگر بھی قابل علاج ہے پہلے تو اس بات کو دماغ میں بٹھا لیں اور پھر دارچینی کا قہوہ پینا شروع کردیں۔اگر آپ کا لبلبہ پوری طرح ختم نہیں ہوا تو آپ کی شوگر قابل علاج ہے ۔
اس کا قہوہ بنانے کا طریقہ یی ہے کہ ایک ٹکڑا دارچینی کا ڈال کر قہوہ بنا لیں۔اور کھانے کے بعد پی لیں۔نہار منہ بھی پی سکتے.سری لنکن دارچینی زیادہ فائدہ مند ہے۔جو لوگ ادویات اور انسولین کے ساتھ دار چینی استعمال کریں ان کو چاہیے کہ ساتھ ساتھ شوگر مانیٹر کرتے رہیں اگر لو ہو رہی تو دوائیاں کم کر دیں۔
بہت سے لوگوں کی شوگر اس کے باقاعدہ استعمال سے ختم ہوگی۔لبلبہ کام کرنے لگا۔
۔۔۔۔

ہڈیوں اور جلد کے امراض

۔۔۔۔
دارچینی ہڈیوں،جلد اور کینسر میں بھی مفید ہے۔دار چینی کو دہی میں مکس کر کے چہرے پہ لگانے سے ایکنی وغیرہ ختم ہو جاتی۔پر پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں لگانا چاہیے۔

کن امراض میں دار چینی ممنوع ہے؟

۔۔۔۔
دار چینی کے جہاں بہت سے فائدے ہیں وہاں کچھ امراض میں یہ نقصان دہ بھی ہے۔جیسا کہ گردے،جگر اور دل کے امراض۔لہذا ایسے تمام مریضوں کو بہت کم مقدار میں دارچینی استعمال کرنا ہوگی۔حاملہ عورتوں کے لیے بھی ممنوع ہے۔

شوگر کے مریض کتنی مقدار میں دارچینی استعمال کریں؟

شروع شروع میں نہایت کم مقدار لینی چاہہے جیسا کہ ایک چوتھائی چمچ۔۔۔دن بھر،پھر آدھا چمچ اور جو لوگ بالکل صحت مند ہیں گردے جگر اور دل کا مسئلہ نہیں ہے وہ ایک چمچ تک لے سکتے۔عام طور پر ایک انچ لمبا دار چینی کا ٹکڑا کافی ہوتا۔اگر پسی ہوئی تو پھر ایک چمچ سے زیادہ نہیں وہ بھی دن میں تین بار تھوڑی تھوڑی کر کے لے سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں