763

دماغ کو پرسکون کیسے کر سکتے ہیں؟

تحریر شئیر کریں

دماغ کو پرسکون کیسے کر سکتے ہیں؟

پروفیسر رف رف

دماغ کو فریش کرنا سیکھیں
دماغ انسانی جسم کا وہ عضو ہے جو ہر وقت بغیر رکے کام کرتا رہتا ہے۔اس کے کام کرنے کی رفتار میں کمی بیشی آ سکتی ہے مگر کام کرنا نہیں چھوڑتا۔
عام طور پر انسانی دماغ چودہ سے تیس ہرڑز فریکوئنسی پر کام کر رہا ہوتا ہے۔عام طور پر فریکوئنسی کی یہی ریشو سارا دن رہتی ہے۔جس کی حالت میں ہم سارا دن سوچ بیچار اور جزبات کا اظہار کرتے ہیں۔
جونہی دماغ کو ئی کہانی کوئی سوچ بیچار کی کیفیت میں آتا ہے تو یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جب یہ فریکوئنسی کم ہوکر آٹھ سے چودہ ہرڑز تک کم ہو جاتی ہے۔اسی حالت میں انسان نیند کی کیفیت میں بھی ہو سکتا ہے۔اسے ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں۔
جبکہ ہلکی نیند کی کیفیت دماغ کی ایک اور کیفیت ہوتی ہے جس میں خواب بھی نظر آتے ہیں۔اس کی فریکوئنسی چار سے آٹھ ہرٹز تک ہوتی ہے۔اسے تھیٹا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں۔
اس سے اگلی حالت گہری نیند کی حالت ہے جسے ڈیلٹا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں۔یہ وہ حالت ہوتی ہے جب دماغ کی رفتار ایک سے چار ہرڑز تک رہ جاتی ہے۔دماغ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حالت میں خواب نظر نہیں آتے۔

دماغ کی سب سے بہترین حالت ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ ہے۔جس سے کام لے کر ہم بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں۔ایلفاسٹیٹ آف مائنڈ کی مثال آپ اس طرح سے سمجھیں۔اکثر جب کوئی انسان کسی دوست رشتے دار کے خیالوں میں کھویا ہوتا ہے۔تو اچانک سے اسکی کال بھی آ جاتی ہے۔ایسا اتفاقا نہیں ہوتا۔ایسا ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس کی فریکوئنسی لا تعداد قوتوں کی مالک ہوتی ہے ان میں سے ایک یہ بھی کہ یہ ایک پل میں ہزاروں میل دور تک پہنچ جاتی ہیں۔جب آپ کسی کو خیالوں میں سوچتے ہیں تو آپ کے سوچ کی فریکوئنسی اس کے دماغ مین داخل ہو جاتی ہے۔اور اس خیال کو جو آپ کے دماغ میں اس کے دماغ میں منتقل کر دیتی ہے یوں وہ آپ کو کال کرتا ہے۔
مراقبہ کی حالت بھی ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ ہے۔مراقبے کا شوق رکھنے والے بھی اپنے مائنڈ کو اس حالت میں لاتے ہیں تاکہ وہ دوسری دنیا میں داخل ہو سکیں۔یہ حالت ہمیں ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جو ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔الہام بھی اسی حالت میں ہوتے ہیں۔آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا کہ فلاں کی چھٹی حس بہت تیز ہے۔تو یہ بھی اسی فریکوئنسی کی بدولت ہوتا ہے۔کشف الہام اور چھٹی حس کے پیچھے ایلفا سٹیٹ ہوتی ہے۔روحانی دنیا سے تعلق مضبوط بھی اسی حالت میں ہوتا ہے۔ایک عجیب تحقیق جو ایلفا کے حوالے سے بتائی جاتی ہے وہ یہ کہ نظر بھی اسی حالت میں لگتی ہے۔جب کوئی ایلفا کی حالت میں کسی کے بارے میں سوچتا ہے تو اسے نظر لگ جاتی ہے۔جب ہم ریلیکس ہو کر اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں تو اس کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ نظر لگ جاۓ۔
ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ میں رہنا سیکھ لیتے ہیں تو درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
سب سے بڑا فائد ہ جو اس فریکوئنسی میں ہوتا ہے وہ یہ کہ انسان کو ڈپریشن انگزائٹی اور غصے جیسے محرک تنگ نہیں کرتے اور وہ ریلیکس رہتا ہے۔
فریش رہنا عصر حاضر کا وہ مشکل کام ہے جو ناممکن بنتا جا رہا اگر ایلفا سٹیٹ میں رہا جاۓ تو انسان اپنے جذبات کو کنٹرول کر کے فریش رہا جا سکتا ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے انسان کے اندر کلیرٹی آتی ہے اور وہ کنفوژن سے بچتا ہے۔
روحانی طور پہ مضبوطی سے آپ کی چھٹی حس تءز ہو گی اور آپ درست فیصلے کر سکیں گے۔
اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کسی سے دھوکہ نہیں کھاتا۔کیونکہ بہت سی باتیں قبل ازوقت پتہ چل جایا کرتیں ہیں۔
اس حالت میں رہنے سے انسان اعلی ظرف بنتا ہے۔اس کے اندر وسعت پید اہوتی ہے۔اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ڈسٹرب نہیں کرتیں۔
اس حالت میں رہنے سے عبادات کا اصل لطف حاصل ہوتا ہے۔اور اللہ کی قربت نصیب ہوگی۔

ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ کیسے حاصل ہوگی؟
اس حالت کو حاصل کر کے بہت اونچے مقام پہ پہنچا جا سکتا ہے۔تھوڑی سی محنت اور ارادی کوشش سے آپ اس سٹیٹ آف مائنڈ کو حاصل کر سکتے ہیں۔
خود کو ریلیکس کریں۔
جسم اور ذہن کو مزید ڈھیلا چھوڑیں۔جب جسم مکمل پع سکون ہو جاۓ تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کے اندر ٹھنڈک ہے اور گرمی باہر نکل چکی ہے۔اور سارا شور ساری آوازیں دم توڑ چکیں ہیں۔خاموشی چھا چکی ہے۔سوچیں تک رک چکیں ہیں۔بس اسی حالت کو ایلفاسٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں۔اس حالت میں دماغ غنودگی میں بھی کا سکتا ہے۔اصل کام اہنے آپ کو اس حالت میں زیادہ سے زیادہ برقرار رکھنا ہے۔ایسا تب یوگا جب آپ جذبات کو نارمل رکھیں گے۔ان کا اظہار نہیں کریں گے۔نا اونچا بولیں گے اور نا ہی غصہ کریں گے۔
کچھ دن کی محنت سے آپ کے ذہنی اور جسمانی مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔اور زندگی کے جس مقام پر پہنچنا چاہیں گے پہنچ جائیں گے۔

دماغ کو پرسکون کیسے کر سکتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں