379

رمضان اور عمرکوٹ لوڈشیڈنگ پلان

تحریر شئیر کریں

تحریر: حمنہ عمر
عمرکوٹ سندھ

سندھ دھرتی کی شناخت اور انڈس ویلی سولائزیشن کا مرکز و محور عمر کوٹ جو امر کوٹ ہوا کرتا تھا اور خطے کا دارالحکومت بھی۔ ایک بلند ٹیلے پر قائم عمر کوٹ سردیوں سخت سرد اور گرمیوں میں آتش فشاں بن جاتا ہے۔ سارے تھر کی ریت کی تپش سمٹ کر اس ٹیلے پر چڑھ جاتی ہے اور گذشتہ ایک دہائی سے رمضان اور موسم گرما یک جان دو قالب ہوئے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں بجلی، گیس اور پانی شہر کی وہ بنیادی ضرورتیں بن گئے ہیں کہ جن کی انسان، جانور، چرند پرند سب ہلکان ہو جاتے ہیں۔

چند روز قبل کرونا وباء اور لاک ڈاون کی صورتحال پر وزیراعظم نے آن کمیرہ کہا تھا کہ اس مرتبہ ایسی صورتحال میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم کر دیں گے، مگر شاید ہمارے شہر عمرکوٹ کے واپڈا اہلکاروں تک وزیراعظم کی بات پہنچ نہیں سکی اور وہ اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بلکہ مزید بدنظمی کرتے ہوئے رمضان سے قبل شعبان ہی میں بےترتیب لوڈ شیڈنگ کو اپنی روٹین بنا چکا تھا۔ اب رمضان شروع ہے اور واپڈا سحر و افطار میں عوام کو تکلیف دینے کا پلان بنا چکا ہے۔ عبادات یا آرام کے اوقات میں بجلی کا غائب ہونا فرضِ عین ہو گیا۔ آپ ذرا توجہ فرمائیں کہ لاک ڈاوؑن کے موسم میں مہنگائی کا طوفان، بجلی، پانی کا بحران اور بیچاری عوام غوار ۔۔۔ پانی آیا تو آیا نہ آیا، آیا تو گندہ اور غیر معیاری، بجلی بارے کوئی پیشگی اطلاع نہیں۔ جب چاہیں آن کر دیں جب چاہیں آف ۔ اس آنکھ مچولی میں خواتین خانہ اور بچے بہت پریشان ہیں۔ بجلی کے ساتھ ایک تماشہ یہ بھی ہوتا ہے کہ سنگل فیس آن کر دیا جاتہے، ایک ڈِم سی لائٹ، موم بتی سے بلب، جس دوران نہ پنکھے چلیں نہ فرج ۔۔۔ نہ ٹھنڈی ہوا دستیاب نہ ٹھنڈا پانی۔ کچن میں پانی بِنا دھوئے جانے والے برتنوں کا ڈھیر اور واشنگ ایریا میں صابن لگے کپڑے پانی کے منتظر ۔ محکموں کے باہمی عدم تعاون کی وجی سے عمر کوٹ کی عوام گزشتہ کئی سالوں سے گرمیوں خصوصاً ماہِ رمضان میں عجیب و غریب مسائل سے دوچار رہتی ہے۔
محققین جانتے ہیں کہ اس موسم میں صحرائے تھر کی ساری ریت کی تپش عمرکوٹ شہر میں لو کی طرح داخل ہوتی ہے۔ ان حالات میں تین تین گھنٹے کی مسلسل لوڈ شیڈنگ ظلم ہے بلکہ ظلم عظیم ہے۔ ان فکس تین گھنٹوں کے علاوہ بھی کسی وقت بھی لائٹ بند کر دی جاتی ہے۔ وولٹیکی کمی بیشی سے کئی مرتبہ بجلی سے چلنے والی گھریلو اشیاء فرج، استری، اوون، واشنگ مشین وغیرہ تباہ برباد ہو جاتی ہین۔ فریج میں پڑی اشیاء مثلاً پکے کھانے، دودھ دہی، گوشت اور سبزیاں وغیرہ بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں فریج سے ایک گلاس ٹھنڈا پانی بھی میسر نہیں ہو پاتا اور افطار و سحر میں تو بجلی کی ایسی بدنظمی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ بازار میں گندی برف بہت مہنگے داموں دستیاب ہوتی ہے اور لاک ڈاوؑن میں شاید وہ بھی میسر نہ ہو۔ تروایح اور دوپہر کے آرام کے وقت لائٹ کا جانا معمول رہا ہے۔ اور یہ رمضان میں عمرکوٹ کے عوام کے صبر کا امتحان لینے کے مترادف ہے۔ گھروں کے یو پی ایس ٹھیک سے چارج نہیں ہو پاتے، سولر بیٹری بھی جلد ختم ہوجاتی ہے جبکہ ویٹ بیٹریاں بھی ساتھ نہیں دیتیں اور یہ بیٹریاں بہت مہنگی بھی ہو چکی ہیں۔ عام گھریلو جنریٹر کے لیے پیٹرول کی لمبی قطار میں کھڑے ہوکر مہنگا پیٹرول خریدنا عوام کے بس کی بات نہیں رہی۔
وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ سید مراد علیشاہ، ضلعی انتظامیہ اور مقامی سیاسی و سماجی رہنماوؑں سے اپیل کرتی ہوں کہہ چھوٹے گاوؑں دیہات اور اندرون شہر میں ان مسائل کے حل پر خاص توجہ دی جائے۔

گیس سے محروم تھر اور تھرپارکر عمرکوٹ کو بجلی فراہم کرنے کو کوئلہ فراہم کر رہا ہے. بجلی کی پیدائش کے لئے بھی سندھ ہی 70 فیصد گیس دے رہا ہے مگر حالات بھی سندھ کے اندورن سندھ ہی کے برے ہیں۔ آخر کیوں؟
یہ بے بس اور اختیارات سے محروم عوام آخر کس در پر دستک دے، زنجیر عدل کہاں سے لائے، اپنی فریاد لے کر کہاں جائیں؟ نہ یہ کلفٹن جا سکتے ہیں نہ بنی گالا۔
تھر کی بیٹی پوچھنا چاہتی ہے کہ آخر تھر کی اور ہمارے عمرکوٹ کی آواز کیوں سنی نہیں جاتی۔ ایوان اقتدار میں پہنچے لوگ ہمارے ووٹوں کو پاوؑں تلے کیوں روندتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بلاول صاحب اور سید مراد علیشاہ صاحب، پی ٹی آئی کے ارباب غلام رحیم ، شاہ محمود قریشی اور علی زیدی ۔۔۔شاہ محمود قریشی یا آرباب غلام اور یہ دونوں تو پیری مریدی کے چکر میں عوام کو کچھ دینے کی بجائے ان ہی سے لاکھوں روپے، سونا چاندی، اور جانور تک سب نذرانے کی مد میں لے جاتے ہیں مگر کبھی عمرکوٹ کے مسائل کی آواز نہیں بنتے۔
شاہ محمود قریشی اور آرباب غلام عرصہ دراز سے یہاں کے عوام کو بےوقوف بنا رہے ہیں لیکن کبھی ایوانوں میں یہاں کے غریب عوام کی آواز نہیں بنے۔ یہ وہ عوام ہے کہ جن کے پاس اگر نذرانہ دینے کو کچھ نہ ہو تو یہ ادھار لے کر یا گھر کی ضروری اشیاء بیچ کر انکے پاوں میں ڈال دیتے ہیں ۔۔۔ مگر افسوس یہ سیاسی پیر پانی، بجلی اور گیس کے مسائل حل کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔
عمر کوٹ سے سندھ کی بیٹی سوال پوچھتی ہے “کیا عمر کوٹ میں انسان نہیں بستے؟ مجھے جواب چاہیئے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں