495

رویے کیسے تشکیل پاتے ہیں؟

تحریر شئیر کریں

رویے کیسے تشکیل پاتے ہیں؟جانیے قلم کتاب پر

تحریر ام سلیمان

یہ تو طےہے کہ بچے فطرت پر پیدا ہوتے ہیں، وہ کوئی دماغ کا ٹیڑھ پن ، رویے کی کجی یا نفسیاتی الجھنیں لے کر نہیں آتے۔ معصوم ہوتے ہیں، اپنے رب کی پہچان رکھتے ہیں اور فطری طور پر مسلمان ہوتے ہیں۔

تاہم یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہر شخص کا شروع سے ہی اپنا کوئی نہ کوئی مزاج ہوتا ہے۔ اور اسی مزاج کے دائرے میں اس کی شخصیت اور رویے پروان چڑھتے ہیں۔ شخصیت کے اس بنیادی ڈھانچے کو ہم قرآن کی اصطلاح میں شاکلة کہہ سکتے ہیں۔
جیسے کوئی شروع سے ہی مزاج کا سخت لگتا ہے اور کوئی نرم۔ ( ابھی ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ اس بنیادی شخصی ڈھانچے پر جو رویے تشکیل پاتے ہیں وہ بہر حال پر ایک کی اپنی کمائی ہے۔ وہ ماں کے پیٹ سے نہیں لاتے۔)

اب دنیا میں آنے کے بعد ، پہلے دن سے جو کچھ ان پر بیتتا ہے، وہ ان کی شخصیت کی اٹھان میں حصہ ڈالتا ہے۔
اس میں بہت سے عناصر شامل ہیں جن میں سے چند اھم ترین یہ ہیں:

حقوق و فرائض کی جنگ اور ہمارے رویے

ماں باپ کی شخصیات

ان کا بچے کے ساتھ معاملہ

گھر بھر کا ماحول

سماجی /معاشرتی پس منظر

مالی پس منظر

تعلیم و تربیت

بچپن سے مشاہدے میں آنے والے ارد گرد کے حالات و واقعات

دوست اور ہم جولی ، جو میسر ہوں۔

زندگی میں ملنے والی کوئی محرومی ، جیسے والدین میں سے کسی کا وفات پا جانا/ کوئی معذوری لاحق ہو جانا ۔ ۔ وغیرہ
۔
۔
۔
اور ان جیسے دیگر معاملات۔

یہ تو بہت واضح بنیادیں ہیں رویوں کی تشکیل میں، بعض اوقات تو حیرت انگیز طور بظاہر کوئی بہت ہی غیر اھم ، اور شاذ، rare واقعہ ، جو خود کو بھی یاد نہیں ہوتا، وہ ہمارے اندر کوئی مستقل رویہ پیدا کر دیتا ہے۔ ہم خود بھی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ میں ایسے کیوں کرتی ہوں/ وہ ایسے کیوں کرتا/کرتی ہے؟

کچھ رویے وراثت میں بھی ملتے اور نسل در نسل منتقل ہوتے جاتےوہ مثبت ہوں تو کیا ہی بات ہوتی ۔۔۔۔۔ لیکن اگر منفی ہوں تو نسلں suffer کرتیں۔۔۔۔۔

رویے ناقدری ہونے پر بھی بدل جاتے ہیں یہ ایسے عجیب ہوتے ہیں کہ قریبی خونی رشتے بھی فقط سلام دعا تک رہ جاتے۔۔۔۔۔۔۔

پیٹھ پیچھے برائی کرنے سے بھی رویوں میں تبدیلی آتی ہے۔لہجے کی سختی اور ٹون بھی رویوں پہ اثر انداز ہوتی ہے۔

رویوں کی تشکیل کی بات چلی ہے تو منفی رویے جو ہماری شخصیت میں پنپ رہے ہوتے ہیں۔ان کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو ہمارے وہ فلٹرز جو رویوں کا پتہ دیتے ہیں آگاہ کرتے ہیں کہ۔یہ رویے اچھے ہیں یا برے وہ بھی ناپختہ ہوتے ہیں۔اس لیے ہر وہ چیز جو ہم دیکھ سن اور برت رہے ہوتے ہماری شخصیت کا حصہ بنتی چلے جاتے ہے

رویے کیسے تشکیل پاتے ہیں؟ایک مستقل۔موضوع ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں