۔۔۔
بھلا زمانہ تھا پوچھنے والے نے پوچھا باباجی یہ کوا کیوں لٹک رہا ہے۔بابا جی بولے کھیت بچانا ہو تو کوا لٹکانا پڑتا ہے۔پھر بھلے زمانے بیت گۓ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کوے کی جگہ بدل دی گئ۔ اب اس کوے کو بچانے کے لیے این جی اوز بنا دی گئ کہ کوے کے بھی تو حقوق ہیں آخر۔۔۔۔کوئی ان سے پوچھے بنت حوا اتنی ارزاں تو نہ تھی کہ رول دی جاتی کبھی رسموں میں تو کبھی قدموں میں۔۔۔۔
وہ بھلی مانس فرانس سے اٹھ کر پاکستان محض بچوں کی اسلامی پرورش کی غرض سے آئی تھی۔پھر ایک رات اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دل لاہور سے گوجرانوالہ آتے ہوۓ موڑوے پہ اسے دو کتوں نے بھنبھوڑ ڈالا تھا۔اس نے کب سوچا تھا کہ موڑوے پہ یہ حادثہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔مگر کبھی کبھی۔۔۔۔وہ ہوتا ہے جو کبھی نہیں ہوا ہوتا۔موڑوے کا ہی نہیں پاکستان کی تاریخ کا بدترین کیس ہے یہ۔۔۔۔
آج تیسرا دن ہے۔ابھی تک ملزم پکڑے نہیں جا سکے۔سنا ہےجن ملزموں کے ڈی این میچ ہوۓ ہیں وہ پہلے سے ریپ کیس میں ملوث تھے جنہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔جہاں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتیں ہوں جہاں مجرم ہنستے اور مظلوم روتے ہوں وہاں کی سرزمین وہاں کے باشندے وہاں کا قانون انسانیت کے ماتھے پہ وہ سیاہ داغ ہے۔جس کی مثال روۓ زمین پر نہیں ملتی۔
۔۔۔۔
زمین کرلا رہی ہے۔اس کی کرلاہٹیں اس کے بین سے کلیجے پھٹے جا رہے ۔ مگر کوئی نہیں جو اس کے بین اس کے دکھ کامداوا کرے۔جب تک اس زمین کے سینے پہ انسان نما جانور بھونکتے رہیں گے۔وحشی انسان حوا کی بیٹی کی عزت تار تار کرتے رہے گے زمین یونہی کرلاتی رہے گی۔یونہی بین کرتی رہے گی۔۔۔۔