463

زنا کا تدارک کیسے ممکن ہے؟

تحریر شئیر کریں

رابعہ شیخ

کہا جاتا تھا کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے یہ اتنی ظالم ہے کہ نہ یہ بچہ دیکھتی ہے نہ بوڑھا نہ جوان ۔ ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ موت یہ بھی نہیں دیکھتی کے انسان گھر میں ہے یا باہر , سفر میں ہے یا کسی دعوت میں بس وہ آ جاتی ہے ۔ اب یہی حال Rap کا ہو گیا ہے زیادتی کبھی بھی , کہیں بھی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے ۔ rapiest نہ بچہ دیکھ رہا نہ بوڑھا نہ جوان وہ بس اپنی ہوس پوری کرنے میں لگا ہے ۔ ہوس پرستوں نے ہماری عزتوں کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
مظلوم کا تعلق کسی ایک خاص جنس سے نہیں ۔ ہوس کے پجاری کو بس شکار چاہیے ہوتا ہے پھر چاہے وہ 8 ماہ کی بچی ہو یا 86 سال کی بوڑھی عورت وہ کوئی 8/10 سال کا چھوٹا لڑکا ہو یا کوئی خواجہ سراہ ۔ الغرض ان درندوں نے کسی کو نہیں چھوڑا ۔
ہمارے معاشرے کو اس درندگی سے کس طرح محفوظ کیا جائے اور اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں ہمیں اس وقت اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک میری سوچ ہے مجھے لگتا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر کئی بار بات کی گئی مگر عملدرآمد نہ ہو سکا وہ ہے پورن سایٹس ۔ ان سائٹس پر گندگی , غلاظت اور حیوانیت سے بھر پور مواد موجود ہے اور پاکستان پورن سائٹس دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے ۔ حیوانیت سے بھر پور مواد دیکھنے سے ہوس بڑھتی ہے اور پھر وہ سگے رشتوں کی بے حرمتی بھی کرنے سے گریز نہیں کرتا ۔
دوسری بڑی وجہ ہے وقت پر شادیوں کا نہ ہونا ۔ اکثر لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ شادی ایک بار ہوتی ہے اس لئے وہ اچھی اور شاندار ہو۔ اس طرح لڑکی والوں کی بات کی جائے تو ان کی بھی بہت سی ڈیمانڈز ہیں جس میں اپنا ذاتی گھر , اچھی نوکری یا اپنا بزنس , تعلیم یافتہ اور چھوٹی فیملی کو اپنا معیار بنایا ہے جب کہ سب جانتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بھی مکمل نہیں بنایا ۔
ہمارے ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی کی شرح میں روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ کوئی بھی ماں باپ اپنی لڑکی کسی بیروزگار کو نہیں دیتے ۔ تو جب انسان کو حلال نہیں ملتا تو وہ حرام کی طرف جاتا ہے اور درندہ بن کر ہر وقت شکار کی تلاش میں رہتا ہے اور پھر معاشرے میں اس سے کوئی محفوظ نہیں رہتا ۔

تیسری وجہ ہے ہمارا نظامِ انصاف ۔ اسلام میں موجود جرم کی سخت سزائیں اس لئے ہی ہیں کہ ایک کو سزا ملے اور دس اس سے عبرت حاصل کریں ۔ اگر ہم کسی ایک کو بھی یہ سزا دیتے ہیں تو جرم کے انجام سے لوگ عبرت حاصل کریں گے ۔
اگر ہمیں اپنے بچوں , بچیوں , ماؤں بہنوں کو محفوظ رکھنا ہے تو ہمیں فوری اقدام کرنے ہوں گے ۔
(1) سب سے پہلے پورن سائٹس کو بند کیا جائے ۔
(2) سوشل میڈیا پر موجود غیر اخلاقی مواد کو بند کیا جائے ۔
(3) مختلف فحاشی پھیلانے والی ایپلیکیشن کو مکمل بین کیا جائے ۔۔
(4)بیروزگاری کا خاتمہ کیا جائے ۔
(5) نکاح کو آسان بنایا جائے ۔
(6) جرم کی سخت سے سخت سزا دی جائے ۔

تاکہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کو تحفظ کا احساس رہے اور زندگی جینا آسان ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں