سردیوں کی آمد اور کرونا کے خدشات
سردیوں کی آمد آمد ہے۔سردیاں جہا ں گرمی کے جانے کا مژدا سناتیں ہیں تو وہی پہ رنگ برنگے لذیز پکوان کا تحفہ بھی لے کر آتیں ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سردیوں کی شامیں اداسی سے بھر پور ہوتیں ہیں۔مگر یی اداسی پل بھر میں اڑن چھو ہو جاتی اگر کھانے میں ساگ مکھن اور مکئ کی روٹی سامنے ہوتو۔۔یہ دلفریب کھانا کھاتے ہی کافی یا کشمیری چاۓ پہ بادام ڈال کر پییں اور ہر سپ پہ اداسی دھواں بن کر فضا میں گم ہوتی جاتی ہے۔سردیاں کبھی اس لیے بھی اچھی لگتیں تھیں کہ موٹی موٹی کتابیں انہی راتوں میں پڑھی جاتیں تھیں۔خیر یہ پرانے وقتوں کی بات ہے اب تو ایک ہی کتاب ہاتھ میں ہوتی ہے اس کا نام موبائل ہے۔
تو بات ہو رہی تھی سردیوں کی آمد کی ۔۔تو جیسے ہی سردیاں شروع ہو رہی ہیں۔ہر طرف ایک عجیب سا خوف بھء آن بسا ہے۔جی ہاں آپ ٹھیک سمجھے۔کووڈ کا خوف۔۔کیونکہ سردیوں میں نزلہ زکام سے شاذونادر ہی کوئی بچ سکتا ہے۔تو جیسا کہ آپ سب جانتے اس مرض کا فی الحال۔کوئی علاج نہیں۔تو صرف احتیاط احتیاط اور احتیاط یہی واحد اور آخری علاج ہے۔ٹھنڈے پانی کا استعمال ترک کر دیں صبح اور شام کے اوقات میں گرم کپڑے پہنیں۔پنکھا نا چلائیں تو بہتر۔اگر مچھر ہیں تو کمفرٹر یا کمبل اوڑھ لیں۔بچوں کو خصوصا بچائیں۔خوراک متوازن رکھیں۔بی پی اور شوگر کنٹرول رکھیں۔ٹینشن سے اتنا دور رہءں جتنا کہ رہ سکتے۔خوف کو اہنے اوپر حاوی مت ہونے دیں۔کرونا ہو جانے کی صورت میں اس سے ڈریں نہیں۔ڈریں گے تو قوت مدافعت کمزور پڑے گی اور کرونا حاوی ہو جاۓ گا۔اور اسے حاوی مت کرنا۔اللہ سے دعا بھی اور اس کی دوا بھی مانگتے رہیے۔
ربی انی مغلوب فانتصر