سرگودھا کی سرزمین کو یہ اعزاز** 1935 میں ملا، جب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرین نے ترشاوہ پھلوں کی ایک نئی قسم دریافت کی، جسے دو مختلف اقسام **”کنگ”** اور **”ولّو لیف”** کے امتزاج سے تخلیق کیا گیا۔ اس نئی قسم کو **”کنوں”** کا نام دیا گیا اور دنیا کے مختلف حصوں میں تجرباتی کاشت کے لیے بھیجا گیا۔
کہتے ہیں کہ 1960 کی دہائی میں، جب کنوں کے پودے پاکستان پہنچے تو انہیں کئی علاقوں میں آزمایا گیا۔ کچھ جگہوں پر زمین نے قبول نہ کیا، کہیں موسم نے ساتھ نہ دیا، اور کہیں ذائقہ وہ نہ بن سکا جس کی امید تھی۔ لیکن جب ان پودوں نے سرگودھا کی زمین کو چھوا تو گویا مٹی نے انہیں گلے سے لگا لیا۔ زمین کی زرخیزی، دریائے چناب اور جہلم کے پانیوں کی شادابی، اور ہوا کی نمی نے ایسا جادو کیا کہ کنوں نہ صرف پھلا پھولا بلکہ ایسا منفرد ذائقہ پیدا ہوا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ سرگودھا کا کنوں اپنے حجم، رس، اور مٹھاس میں مثالی بن گیا، اور جلد ہی یہ پاکستان کی پہچان بن گیا۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ سرگودھا کے کسانوں نے اس نعمت کو سنوارنے اور پروان چڑھانے میں دن رات محنت کی۔ وہ صبح سویرے اپنے باغات کا رخ کرتے، درختوں کی دیکھ بھال کرتے، اور قدرتی طریقوں سے فصلوں کو بہتر بنانے میں مصروف رہتے۔ یہاں کی خواتین بھی پیچھے نہ رہیں؛ وہ کنوں کی صفائی، چھانٹی، اور برآمد کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔ یوں سرگودھا کے کنوں کی شہرت نہ صرف ملک کے کونے کونے میں پہنچی بلکہ یہ پھل بیرونِ ملک بھی پسند کیا جانے لگا۔
کہا جاتا ہے کہ سردیوں کی ایک شام، جب سرگودھا کے ایک بزرگ کسان نے اپنے باغ کے مالٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا، “یہ زمین اللہ کی خاص رحمت ہے۔ ہم نے اس کا حق ادا کیا، اور اس نے ہمیں عزت دی۔” یہی جذبہ آج بھی سرگودھا کے ہر کسان کے دل میں زندہ ہے۔
آج، جب آپ سردیوں میں سرگودھا کے کسی باغ میں جائیں تو مالٹوں کی مہک آپ کا استقبال کرتی ہے۔ درختوں پر لٹکے سنہری کنوں دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ گاؤں کی عورتیں گڑ کی چائے کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوتی ہیں، اور بچوں کی ہنسی باغات میں گونجتی ہے۔ یہ سرگودھا کا وہ کلچر ہے جو جدید دور میں بھی اپنی روایتوں سے جڑا ہوا ہے۔
یہ پھل نہ صرف ہماری زمین کی نعمت ہے بلکہ یہ پاکستان کا عالمی سفیر بھی ہے۔ سرگودھا کا کنوں دنیا کے کئی ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے، اور اس کی مقبولیت ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ اپنی غذائیت، وٹامن سی کی وافر مقدار، اور دلکش ذائقے کی وجہ سے ایک پسندیدہ انتخاب ہے۔
دعا ہے کہ یہ زمین ہمیشہ پھلتی پھولتی رہے اور یہاں کے کسان اپنے کام سے محبت اور زمین سے جڑے رہیں۔ سرگودھا کا یہ اعزاز ہمیشہ قائم رہے، اور یہ خطہ پاکستان کی ترقی میں مزید نمایاں کردار ادا کرے۔