485

سستی سے نجات کیسے؟

تحریر شئیر کریں

سستی سے نجات کیسے؟

سستی سے نکلنے کے لیے اللہ تعالی سے دعا کے ذریعہ خوب مدد مانگیں کہ میرے اس مرض کو شفا عطا کر دے
اللہ سے مانگو اس میں سست نہ پڑو جو چیز نفع دیتی ہے اس کی حرص رکھو

نیت
نیت رکھیں کہ اس مرض سے لازماً نکلنا ہے دعا نیت ارداہ کوشش مضبوط رکھیں

دن کا آغاز

اذان فجر سے پہلے یا اسکے ساتھ کریں جب انسان وضو کرتا ہے تو شیطان کی لگائی گرہ کھل جاتی ہے
شوق سے عبادت اور دن کا آغاز کریں

السابقون بننا


نیکیوں میں سبقت کرنی ہے اللہ تعالی کے رستے میں دوڑ لگانے کی فکر ہو ۔نیکی کے موقع کی تلاش میں رہیں ،اور بس جتنی ہمت ہو کر جائیں
دوڑیں توبہ کرنے میں۔۔۔ اللہ سے رجوع کرنے میں خدمت میں نیکی میں۔۔۔۔
نفس کی منافقت سے نکلنا ہے

اوقات متعین کریں


اپنے سونے جاگنے ۔۔۔۔کھانے اور ورزش کےاوقات۔۔۔یہ سب کام روٹین پر کرنا ہے

رات دیر تک جاگنا اور دن میں سونا
یا کام کے وقت میں کوئی اور کام نکال لینا فون پہ مشغول رہنا۔۔۔درست نہیں
ہر کام کے لیے اور نماز کا اول وقت مخصوص کریں اگر کبھی کام رہ جاۓ تو سبب جانیں اس کی اصلاح کریں ۔

مایوس مت ہونا


خود سے مایوس ناامید نہیں ہونا ہے کہ میں نہیں کر سکتی/سکتا۔۔۔۔۔

وجہ جانیں اور علاج کریں کم ہمتی سے نکلیں بیمار ہیں تو دوا لیں وٹامن لیں ورزش کریں

بلندیاں کن کو ملتیں ہیں؟

ذکر کی کثرت


ذکر الہی صبح شام کے اذکار تلاوت قرآن نوافل سے چستی لیں۔ اللہ کی قربت سے وقت میں برکت آتی ہے ۔

مفید مشغولیت


فارغ وقت میں مفید کام کریں ۔۔کیونکہ
فراغت میں سستی غالب آتی ہے
کسی کی خدمت کریں خود دیکھیں کیا نیکی کر سکتے ہیں دن میں کوئی لمحہ بے کار نہ جانے دیں نیکی کرتے جائیں

موقع سے فائدہ اٹھانا


اپنی خواہشات کی تکمیل کا انتظار نہ کریں جو کام مشکل لگے نفس پہ بھاری ہو وہ بھی نیکی سمجھ کے کریں فرصت میں ذکر حفظ قرآن و حدیث کر سکتے ہیں ،کوئی کتاب شروع کیے رکھیں اچھے مشاغل رکھیں ۔

ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
سستی کا سب سے مفید ترین علاج یہ ہے کہ محنت کرنے والے لوگوں کی سیرت میں غور کریں۔ سیرت نبوی اور صحابہ آئمہ کرام کی زندگی کا مطالعہ کرتے رہیں انکی کامیابی کے گر اپنائیں ۔
محنت کرنے والے معمولی لباس پہنتے ہیں اور جب محنت سے فارغ ہوتے ہیں تو نہا کر اچھا لباس پہنتے ہیں۔۔۔۔۔
سوچیں ۔۔۔ تم نے محنت کیے بغیر اچھا لباس پہن لیا ہے ۔

کام کے وقت پر کام کیا تو موت کے بعد آرام کی امید رکھ سکتے ہیں

ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی معاملے میں سستی کی بیمار ی میں ہوتا ہے اچھے ارادے نیکی نیتی عزم و ھمت کے ساتھ خود اپنے نفس سے جہاد کرنا ہے دونوں جہان میں کامیابی کے اعلی مقاصد رکھنے ہیں اللہ تعالی ہمیں اس مرض سے نجات دے اور
ہمیں دین دنیا کی بھلائی کے حصول کے لیے چستی عطا کرے۔
اللهم إني أعوذ بك
من العجز والكسل ۔۔امین
استاذہ فرحت ہاشمی
———-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں