سورۃ اللھب: ترجمہ تفسیر

سورۃ اللھب، قرآن کریم کی وہ سورۃ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ابولہب اور اس کی بیوی کی مذمت اور انجام کا ذکر کیا ہے۔ یہ وہی ابولہب ہے جو نبی اکرم ﷺ کا چچا ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی رسالت کا سخت دشمن تھا۔ اس کے دل میں رسول اللہ ﷺ اور اسلام کے لیے شدید نفرت تھی، اور اس نے اپنی زندگی نبی کریم ﷺ کو ایذا پہنچانے میں صرف کی۔
ابولہب: شقاوت کی تصویر
ابولہب کو اللہ نے دنیا میں بے شمار نعمتیں عطا کی تھیں، لیکن اس نے ان نعمتوں کا غلط استعمال کیا۔ اس کے مال اور اولاد نے اسے گمراہی میں مبتلا رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:
“تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ”
(ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا)۔
یہ الفاظ اس کی دنیاوی اور اخروی ناکامی کی گواہی ہیں۔
ابولہب نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں پیارے نبی ﷺ کے خلاف ہر ممکن سازش کی۔ اس کی دشمنی صرف باتوں تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے عملی طور پر اسلام کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، حتیٰ کہ اللہ کی لعنت کا مستحق ٹھہرا۔
ابولہب کی بیوی: گناہوں میں برابر کی شریک
ابولہب کی بیوی، ام جمیل، نہ صرف اپنے شوہر کے گناہوں میں شریک تھی بلکہ خود بھی رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے میں پیش پیش رہتی تھی۔ وہ نبی ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھاتی اور اپنے گلے میں قیمتی ہار پہنتے ہوئے فخر کرتی۔ لیکن اللہ نے اس کے اس تکبر کو قیامت کے دن ذلت میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔
“وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ، فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ”
(اور اس کی بیوی جو ایندھن ڈھونے والی ہے، اس کے گلے میں مونجھ کی بٹی ہوئی رسی ہوگی)۔
قیامت کے دن وہ اس آگ میں مزید لکڑیاں ڈالے گی جس میں اس کا شوہر جل رہا ہوگا، اور وہ خود بھی مونجھ کی رسی کے ساتھ جہنم میں ذلیل و خوار ہوگی۔
عبرت کے پہلو
سورۃ اللھب ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے نبی کے ساتھ دشمنی کا انجام صرف ہلاکت اور ذلت ہے۔ یہ سورت ان تمام لوگوں کے لیے عبرت کا پیغام ہے جو تکبر، ضد اور اللہ کے دین کی مخالفت کرتے ہیں۔
ابولہب اور اس کی بیوی کا انجام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی مال و دولت، رشتے یا طاقت انسان کو اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتے۔ صرف ایمان، اعمال صالحہ، اور اللہ کی اطاعت ہی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔
اللہ ہمیں اس سورۃ کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
سورۃ اللھب: ترجمہ، تفسیر، سوال و جواب
یہ مضمون 12 سال کی بچی کے لیے آسان اور دلچسپ انداز میں ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھ سکے۔
—
سورۃ اللھب (پارہ 30)
1. تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ
2. مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ
3. سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ
4. وَٱمْرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ
5. فِى جِيدِهَا حَبْلٌۭ مِّن مَّسَدٍۭ
—
ترجمہ:
1. ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ ہلاک ہو گیا۔
2. نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا۔
3. وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
4. اور اس کی بیوی جو لکڑیاں ڈھوتی ہے (ایندھن اٹھاتی ہے)،
5. اس کے گلے میں مونجھ کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔
—
تفسیر (آسان الفاظ میں):
یہ سورت نبی اکرم ﷺ کے سخت دشمن ابولہب اور اس کی بیوی کے بارے میں ہے۔
– ابولہب کا کردار:
ابولہب نبی کریم ﷺ کا چچا تھا لیکن وہ آپ ﷺ کی رسالت کا سخت مخالف تھا۔ وہ آپ ﷺ کو ستاتا اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی سرکشی اور ضد کا انجام دنیا میں ہی واضح کر دیا۔
– بولہب کی بیوی:
ابولہب کی بیوی، ام جمیل، بھی اسلام دشمنی میں اپنے شوہر کے ساتھ شریک تھی۔ وہ نبی ﷺ کے راستے میں کانٹے ڈالتی اور لوگوں کو آپ ﷺ کے خلاف بھڑکاتی تھی۔ قیامت کے دن اسے اس کے گناہوں کی سزا ملے گی۔
– عبرت:
یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے نبی اور حق کے راستے کی مخالفت کرنے والے لوگ دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھاتے ہیں۔
—
سوالات و جوابات:
1. سوال:سورۃ اللھب میں کس کے بارے میں بات کی گئی ہے؟
جواب: ابولہب اور اس کی بیوی کے بارے میں۔
2. سوال: ابولہب کا نبی ﷺ کے ساتھ کیا تعلق تھا؟
جواب: وہ نبی ﷺ کا چچا تھا لیکن اسلام کا سخت دشمن تھا۔
3. سوال:ابولہب کی بیوی کیا کرتی تھی؟
جواب: وہ نبی ﷺ کے راستے میں کانٹے ڈالتی اور اسلام کے خلاف سازشیں کرتی تھی۔
4. سوال: قیامت کے دن ابولہب اور اس کی بیوی کے ساتھ کیا ہوگا؟
جواب:ابولہب آگ میں جل رہا ہوگا، اور اس کی بیوی اس آگ میں لکڑیاں ڈالے گی۔ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی ہوگی۔
5. سوال:اس سورت سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے کا انجام ہلاکت اور ذلت ہے۔
—
ایک دلچسپ سرگرمی:
– اپنے دوستوں سے پوچھیں کہ وہ کون سی اچھی عادتیں اپنانا چاہتے ہیں تاکہ اللہ ہم سے خوش ہو۔
– اپنی کاپی میں ان باتوں کو لکھیں جو آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قریب کرتی ہیں۔
—
اللہ ہمیں اس سورت سے سبق حاصل کرنے اور اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔