قرآن امیر ہونے اور رزق بڑھانے کے جو بنیادی فارمولا بتاتا ہے جانیے اس آرٹیکل میں
۔۔۔۔
اسلام دین فطرت ہی نہیں دین پریکٹیکل بھی ہے۔اس میں انسان کے لیے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔قرآن کتاب ہدایت ہے اس میں رہتی دنیا تک ہر چیز بیان کر دی گئ ہے۔قرآن امیر ہونے کا جو نسخہ بتاتا ہے۔وہی اصل نسخہ ہے جو اہل ایمان کا راستہ ہے۔
۔۔۔۔۔
ہمارے بڑے ایک جملہ بولتے ہیں کہ “غریبی امیری اللہ کے ہاتھ میں ہے”یہ بات سو فیصد سچ ہے۔انسان کاکام صرف بیج بونا ہے پھل پھول وہی لگاتا بالیوں میں اناج وہی اگاتا۔مگر یہ آیت بھی قرآن میں ہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ سعی کرتا ہے کوشش کرتا ہے۔مطلب عمل کے ساتھ ساتھ یہ عقیدہ ہونا۔چاہیے کہ میری محنتوں کوششوں کو بار آور کرنے والی ذات اللہ بزرگ وبرتر کی ہے۔اس کے بغیر میری کوششیں کچھ بھی نہیں۔اگر کوئی اپنی محنت کا ریوارڈ خود کو دیتا ہے تو یہی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔سورہ یسین میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے دو بھائیوں کے باغ والا۔ان میں سے ایک بھائی کو بھی یہی غلط فہمی ہوئی تھی کہ یہ میری محنت کا ثمر ہے پھر جب وہ باغ میں داخل ہوا تو وہ اجڑ چکا تھا تب اسے دوسرا بھائی یاد دلاتا ہے کہ اس سے کیا غلطی سرزد ہوئی۔
۔۔۔۔۔
قرآن رزق کو الله کی یاد سے مشروط کرتا هے کم یاد، کم رزق زیاده یاد ،زیاده رزق۔۔جدید اکنامسٹ اسے کوئی افسانوی بات قرار دیں گے مگر دنیا کے سب سے بڑے اکنامسٹ نے جو بات کہہ دی وہ حرف آخر ہے۔ارشاد باری تعالی ہے۔
“جو ہمارے یادسے روگردانی کرتا ہے ہم اسکی معیشت تنگ کر دیتے ہیں۔”
۔۔۔۔۔
دوسرا نقط الله کهتا هے جب تم رزق کی تنگی کا شکار هوجاو تو میرے سے ڈیل کر لو۔تم میری راہ میں خرچ کرو میں تجھے نوازوں گا۔
۔۔۔۔۔
اسی طرح قرآن کہتا ہے کہ “جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ہم انھیں ایسی جگہ سے رزق دیتے ہیں جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتے۔”
اللہ کی یاد کے بعد خوف خدا بھی رزق کی کشادگی کا سبب ہے۔اور یہ آزمودہ ہے۔اس آیت کا ورد بھی فائدہ مند ہے اگر عملا کر لیا جاۓ تو کیا کچھ ممکن نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
قرآن توبہ استغفار کو بھی رزق می کشادگی کا سبب بتاتا ہے۔جو لوگ اللہ سے استغفار کرتے اللہ ان کے نیچے اور اوپر سے پانی برساتا اور رزق فراہم کرتا ہے۔علماء کہتے ہیں تین سو بار استغفار کرنا سلف کی روایت ہے۔اس کے بہت فوائد ہیں۔
اللہ کی یاد،خوف خدا،توبہ استغفار کے بعد اللہ کی ذات پہ توکل وہ عمل ہے جو آپ کو اوج ثریا تک پہنچا دیتا ہے۔یہی اللہ کی اپنے بندے سے ڈیمانڈ ہے کہ وہ تنگی اور خوش حالی دونوں میں اسی پر اعتماد کرےاسی پر توکل کرے اسی کی یاد کو اپنا زاد راہ بناۓ۔
۔۔۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے آپ ﷺ نے غربت کو ناپسند فرمایا اور فقر اور محتاجی سے پناہ بھی مانگی۔اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کو گناہ قرار دیا۔کیونکہ یہ توکل کی نفی کرتا ہے۔اللہ سے تعلق کو کمزور کرتا ہے۔اور اللہ کو یہ کیسے گوارا کہ اسکی سب سے افضل مخلوق اس پہ توکل نا کرے۔
۔۔۔
رزق کا آیک زریعہ کسب معاش بھی ہے جس پر اکثریت کا دارومدار ہے جبکہ یہ ایک زریعہ ہے۔بنیاد نہیں۔اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔غیر مسلم۔کر سکتے پر اہل ایمان نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ہاتھ سے روزی کمانے والے کو اپنا دوست قرار دیا ہے۔ہم مسلمان اس ایک دروازے کو اہم سمجھتے باقی کو فراموش کردیتے یہی بنیادی غلطی ہے۔
۔۔۔۔۔
ہمارے معاشرے میں لوگ ایک غلطی اور کرتے ہیں جو انھیں غریب سے غریب تر بنا رہی ہے۔وہ یہ کہ لوگ جسے بچت سمجھتے ہیں وہ بچت نہیں ہوتی بلکہ ایک خرچ ہوتی ہے مثلا ایک شخص کے چارکھانے والے ہیں اب اس نے کچھ پیسے جمع کیے اور موبائل لے لیا۔کھانے والے چار تھے اور اب پانچ ہوگۓ۔جبکہ لینے والا اسے بچت سمجھتا ہے۔جب کہ یہ ایک اور اضافی خرچ ہے۔اسی طرح دیگر چیزیں گاڑی وغیرہ یہ سب خرچے ہیں۔اگر وہ موبائل لینے کی بجاۓ کوئی رکشہ لے لیتا تو یہ بچت تھی۔
جب تک بچت اور خرچ میں بنیادی فرق سمجھ نہیں آۓ گا۔غربت ختم نہیں ہوگی۔
درج بالا تمام نکات پر عمل کرنے سے خوشی اور خوش حالی کےدروازے کھل سکتے ہیں۔
443