نصرت یوسف
اس نے خودکشی کرلی،
اسکو قتل کردیا،
وہ اغوا ہوگیا،
بیچاری تشدد کا شکار،
بیچارہ مفلسی کی پکار،
دنیا استحصالی،
نگاہ بُری،
صحت گھسی،
تعلیم سڑی،
اور ایک طویل نہ ختم ہونے والے مسائل ہیں جو ہم پاکستانیوں کے ساتھ نتھی ہیں اور لوگ دن رات سوشل میڈیا پر ان پر لکھے جارہے ہیں.
بات یہ نہیں کہ ان پر لکھنا غلط ہے، بات یہ ہے کہ یہ تحاریر بھی ڈپریشن اور مایوسی پھیلانے میں حصہ دار بن رہی ہیں. اصل مسئلہ ظالم کا قوی ہونا ہے، اور مظلوم کے لیے کوئی جاۓ پناہ نہیں جہاں وہ ظالم کی شکایت کرکے انصاف پا سکے… مسئلہ نہ مرد کا اور نہ عورت کا ، تنازعہ ادنی سطح سے اعلی سطح تک ظلم کو شہہ ملنے کا ہے، جسکی روک کرنے والی کوئی ریاستی طاقت نہیں. ریاست نے اپنے ہی لوگوں کے لیے جبر اور شدت کے وہ قانون وضع کردیئے ہیں جہاں انکی نفسیات میں درشتگی اور درندگی کمزور کے لیے پیدا ہو رہی ہے، جو اس سے کچھ محفوظ ہیں، وہ ظالم سرکار کے خلاف اٹھنے کے بجاۓ،لکھنے کے بجاۓ محض مندرجہ بالا ہولناک فہرست پر خبر بناتے ہیں جو کہ نتائج ہیں اصل میں انصاف ملنے والے اداروں کی عدم موجودگی کے، معلومات پھیلاتے ہیں، جس سے رہا سہا مثبت انسانی حوصلہ بھی دم توڑتا جارہا ہے.
خدا کے لیے لکھنے والا زرا سوچ سمجھ کر لکھا کرے، کہ عام آدمی دلبرداشتہ ہو کر پھندے سے لٹکنے کو نجات نہ سمجھے.