696

سگریٹ سے چھٹکاره ممکن ہے

تحریر شئیر کریں

سگریٹ سے چھٹکاره ممکن ہے

کل مسکر حرام۔۔۔الحدیث

تحریر : لبنٰی جمشید

حمام کے آئینے میں شب ڈوب رہی تھی
سگریٹ سے نئے دن کا دھواں پھیل رہا تھا

اسموکنگ یا سگریٹ نوشی کی ابتدا۶ اٹھارویں صدی کے وسط میں شمالی امریکہ سے شروع ہوئی اور پھر بہت جلد اس کی جڑیں یورپ تک پھیل گئیں۔ اس زمانے میں اسے ہلکا اور سستا نشہ سمجھ کر زہنی سکون کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاہم انیسویں صدی کے آخر تک یہ پوری دنیا میں پھیلتا ہوا ایک فیشن کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ برصغیر میں رئیس زادے منفرد نظر آنے کے لیے دھواں چھوڑے دکھائی دیتے پھر رفتہ رفتہ سگریٹ کے اس نشے کی رسائی عام افراد تک جا پہنچی اور اس کو باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ دے دیا گیا۔

اس وقت دنیا میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد ایک ارب دس کڑوڑ سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار 2019 کے عالمی ادارہ صحت کے سروے کے ہیں۔ ہم اگرکسی بھی برانڈ کے سگریٹ کا پیک اٹھا کر دیکھیں تو اس پر یہ تحریر ضرور درج ہوتی ہے ”سگریٹ نوشی انسانی صحت کے لیے مضر ہے“ اس تحریر کا مقصد کچھ بھی ہو لیکن انسانی نفسیات یہ پیغام اپنے لاشعور کے کھاتے ڈال کر بھول جاتی ہے اور اس نشے کا عادی وجود چین اسموکر کی طرح سگریٹ پر سگریٹ سلگاۓ جاتا ہے۔ اکثر اوقات تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نوشی کو چھوڑا جا سکتا ہے لیکن سگریٹ کو نہیں۔ تین انچ لمبے تمباکو کے ٹکرے کی اہمیت کا اندازہ اور کیسے لگایا جاسکتا ہے۔ اب تو خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد اسموکنگ کرتی دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے لیے سپیشل برانڈ کے پینسل نما لیڈیز سگریٹ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

اب ہم سگریٹ کے نقصانات کی جانب آتے ہیں جس کے بارے میں کمپنی اپنے خریدار کو آگاہ کرتی ہے کہ یہ صحت کے لیے مفید نہیں ہیں ۔ سگریٹ کے اندر تمباکو کو ایک خالص حالت میں پیک کرکے پراڈکٹ تیار کی جاتی ہے ۔ اس میں امونیا, سنکھیا, ایسٹون, ایسٹک ایسڈ کے علاوہ نکوٹین کی بھاری مقدار موجود ہوتی ہے۔ نکوٹین کے اجزا۶ کی خصوصیات زیادہ تر نشہ آور ہیں. اور باقی اجزا۶ کی تحقیق کی جاۓ تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔اس سے پھیپھڑوں کے سرطان, دل کے امراض کے علاوہ منہ کا کینسر اور دیگر امراض شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سگریٹ پیتےہوۓ فرد کے ساتھ بیٹھے شخص کو پینے والے سے زیادہ بیماریاں لگنے کے امکان ہوتے ہیں۔ سگریٹ کا دھواں پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے ۔ NHO (National Health orgnization )
کے مطابق تمباکو نوشی تیزی سے انسانی موت کی وجہ بنتی جا رہی ہے اور ہر سال اس سے دنیا میں چون لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اتنے نقصانات کے بعد اس کمبل سے چھٹکارا کیسے پائیں؟

اگر سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے میں یہ کہونگی کہ یہ فیصلہ یکدم تو لیا جا سکتا ہے لیکن اسے یکدم چھوڑنے سے مذید مسائل کا شکار ہونے کے چانسز ہیں۔ ایک سروے کے مطابق یکدم سگریٹ چھوڑنے والے افراد میں سے 90% پھر سے اس عادت میں مبتلا۔ہو جاتے ہیں۔ اس لیے چند ماہ میں سٹیپ بائی سٹیپ اس سے جان چھڑانی چاہیے۔

سب سے پہلے اگر ہم سگریٹ نوشی کو ترک کرنا چاہتے ہیں تو اپنےارادے کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے لیےمسقل مزاج بننا پڑے گا۔ ہم میں سے بہت سے ایسے افراد ہیں جو یکدم تہیہ کرتے ہیں مگر چند دن بعد اسے بھول کر پرانی روش اپنا لیتے ہیں۔ اگر آپ کا ارادہ مستحکم ہے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کو ہلا نہیں سکتی تو پہلا سٹیپ ارادہ باندھنا ہے۔

اس سے ایک سٹیپ آگے صحت مند جسمانی و روحانی سرگرمیاں اپنانا ہیں۔ اگر آپ سپورٹس کے شوقین ہیں تو دن میں دو سے تین گھنٹے کھیل کی پریکٹس کریں۔ اگر نہیں تو فٹبال,کرکٹ, ہاکی جیسے چند دوسرے کھیلوں میں رغبت اختیار کریں۔ اس سے آپ کے جسم کی انرجی کو پازیٹو سگنلز میسر آئیں گے اور ڈپریشن سے بھی نجات ملے گی۔اس صورت میں سگریٹ پینے کی حاجت بھی محسوس نہیں ہو گی۔

اس کے بعد وہ محرک تلاش کریں جس کی بناہ پر آپ اس بری لت میں ملوث ہوۓ۔ ذہنی ٹینشن, دل کا ٹوٹنا, شوقیہ , دوستوں پر رعب جمانے کے لیے, مسائل سے فرار حاصل کرنے کے لیے, بیروزگاری ۔۔۔ کوئی بھی وجہ ہو آپ نے دیکھنا ہے کہ وہ مسئلہ اب بھی موجود ہے یا ختم ہو چکا ہے۔ اگر وجہ موجود نہیں تو آپ کے لیے اسے چھوڑنا آسان ٹاسک ہو گا۔ اگر وجہ موجود ہے تو اس کو ختم کرنے کے لیے اچھی حکمت عملی اختیار کریں ۔ بہتر ہوگا کہ کسی ماہر نفسیات سے مشورہ لیں۔ اس کے بتاۓ گئے اصولوں کو اپناتے ہوۓ آپ اگر وجہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہو گی۔

روحانی سرگرمیوں میں عبادات سر فہرست ہیں۔ پانچ وقت کی نماز اور تزکیہ نفس بھی سگریٹ نوشی ترک کرنے میں بے حد معاون ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ مراقبہ بھی دماغ کے بند دروازوں کو کھول کر مستقل مزاجی اور برائیوں سے بچنے کی اصلاح دیتا ہے ۔

اگر آپ یوگا کرنا شروع کرتے ہیں تو بھی آپ کے جسم کی کیمیائی تبدیلیوں کے نتیجے میں اسموکنگ کی ضرورت ختم ہو جاۓ گی۔

اگر آپ اسموکنگ کے بارے میں کم سے کم سوچیں, جیسے ہی حاجت ہو آپ ٹی وی آن کر لیں, ایک اچھی کتاب پڑھنا شروع کر دیں, گارڈننگ کے لیے وقت نکالیں۔ کسی اچھے دوست کو فون کال کر لیں۔ انٹرنیٹ پر سگریٹ کے مضر اثرات سرچ کریں اس سے بھی آپ کے دل سے تمباکو کی رغبت ختم ہو گی۔ گھروں میں پالتو جانور رکھنا اور ان کے ساتھ مصروف رہنا بھی اس سلسلے میں اچھی ایکٹی وٹی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر حاجت محسوس ہوتی ہے تو بقول غالب ؏ چھٹتی نہیں یہ منہ سے کافر لگی ہوئی۔

آپ کو ڈاکٹر سے کنسلٹ کر کے سکون آور ادوایات اور مناسب رہنمائی درکار کیا سگریٹ سے چھٹکارا ممکن ہے ہو گی ۔

اس ضمن میں برطانیہ کے پروفیسر رابرٹ ویسٹکا کہنا ہے کہ سگریٹ چھوڑنے کا شرطیہ فارمولہ ’گرل فرینڈ فارمولہ‘ ہے۔ اگر آپ کی گرل فرینڈ کو سگریٹ پینے سے نفرت ہے، تو آپ کو بڑی آسانی سے اس لت سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ بشرطیہ کہ گرل فرینڈ کا نام نوشی نہ ہو۔ یہ شرط سر رابرٹ کی نہیں اس تحریر کی مصنفہ کی جانب سے ہے۔

سگریٹ سے چھٹکاره ممکن ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں