سہل سی زندگی
ماوراءزیب
آج کل کے والد اپنی پریشانیوں میں بہت مصروف رہتے ہیں اور اپنے بچوں پر توجہ نہیں دے پاتے۔ عموماً ان کو کہنا یہ ہوتا ہے کہ ماں گھر میں ہوتی ہے اور یہ اس کا کام ہے کہ وہ بچوں پر توجہ دے۔ ہمارے باہر کے کام ہی اتنے ہوتے ہیں اب بچوں کو کیسے وقت دیں۔
“باہر بھی کام اور گھر آکر بھی موبائل پر باہر کے کام”۔ یہ زندگی دنیا کے زیادہ تر لوگوں نے اپنا لی ہے۔ اس کے باوجود پریشانیاں ہیں کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ تو آخر اس کا حل کیا ہو…؟
میں تو اس مسئلے کا یہی حل بتاتی ہوں کہ جناب بچوں سے ملاقات کیجیے ان سے باتیں کیجیے۔ یقین کریں آپ اپنی پریشانی بھول جائیں گے۔
ہم اپنی پریشانیوں کو پالتے ہیں۔ جیسے لوگ اپنے پالتو جانوروں کو رکھتے ہیں ویسے ہی ہم پریشانیوں کو رکھتے ہیں۔ ہم ہر جگہ پریشانیوں کو اپنے ساتھ سزا یافتہ سرکاری نشان کی طرح لیے گھومتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں بس یہ اعزاز خود چِھن جائے ہم سے۔ ہمیں اس کے سدباب کے لیے محنت نہ کرنی پڑے۔ اب پریشانی کو بھگانا بھی ہے اور کچھ کرنا بھی نہیں ہے تو یہی حل ہے کہ اپنے بچوں سے باتیں کیجیے۔ پریشانی تو کیا ذہن میں کوئی منفی سوچ بھی نہیں رہتی۔ بچوں کی معصوم باتیں، ان کی شرارتیں انسان کے ذہن کو ترو تازہ کر دیتی ہیں۔ اللہ نے یہ صلاحیت صرف بچوں کو ہی عطا کی ہے۔
اپنے گھر کا ایک واقعہ سناتی ہوں۔
ایک دن میرے شوہر بہت پریشانی کی حالت میں گھر تشریف لائے۔ اب کسی سے بات نہیں کر رہے اور موبائل کو دیکھ رہے ہیں۔ پھر مجھے کہتے ہیں بھوک لگ رہی ہے کھانا کھاتے ہیں۔ جب تک میں نے دسترخوان بچھایا تب تک دونوں بیٹوں سے اپنے لیے دعا کرواتے رہے۔ میرے سسرال میں یہ عادت بہت زیادہ ہے جب بھی ہمارے گھر کے مرد کسی معاملے میں پریشان ہوتے ہیں تو گھر کے تمام چھوٹے چھوٹے بچوں سے اپنے لیے دعا کرواتے ہیں۔ اُدھر ان کی دعا مکمل ہوئی اِدھر دسترخوان بھی لگ گیا….. کھانا کھاتے ہوئے میں نے چھوٹی بیٹی کو اس کے بابا کے پاس بٹھا دیا کہ آپ کھانا کھلادیں اسے، اور 5 منٹ بعد ہی یہ منظر تھا کہ میرے شوہر اپنی پریشانی بھول کر اس کی شرارتوں میں مگن تھے۔ آدھے گھنٹے بعد فون آیا اور ان کا معاملہ حل ہوگیا تو کہنے لگے اتنا پریشان تھا میں اور بچوں کی وجہ سے پریشانی بھول ہی گیا اب الحمدللہ مسئلہ حل ہو گیا۔
میں اس واقعے کو اکثر سوچتی ہوں کہ اللہ کے فضل سے معاملہ تو حل ہونا ہی تھا لیکن اگر وہ اتنی دیر پریشان ہی رہتے تو گھر کا ماحول خراب رہتا۔ اولاد بہت بڑی نعمت ہے یہ بات ان لوگوں سے پوچھیے جو اس نعمت سے محروم ہیں اگر آپ کو میسر ہے تو فائدہ اٹھائیے اس نعمت سے۔ انہیں وقت دیجیے، ان سے باتیں کیجیے اور اپنے ذہن کو تروتازہ رکھیے۔
سہل سی زندگی پہ کام کے تیئں
اپنے اوپر نہ کیجیے د
سہل سی زندگی