480

سیدنا امام حسین ؓ حریت فکر کے علمبردار

تحریر شئیر کریں

تحریر:حافظ بختاور

اگر ہم اسلامی تا ریخ کی طرف نگاہ دوڈاےتوہمیں بہت سےدلچسپ اور ایمان افروزواقعات ملتے ہے۔ان وا قعات میں ایک بہت اہم اور دل دہلا دینے والا وا قع حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے۔ اس واقع کو گزرے۱۳۷۳سال گزر چکے ہیں مگر اس وا قع کو کو ئی نہ بھول سکا۔ صدیاں گزر گئ کتنے ہی لوگ اس دنیا میں آے کتنے ہی گزر گئےیہ وا قعہ جس کی نظر سے گزرا  خو ن  کے آ نسو رولا گیا۔حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے جسم مبارک سے جسقدر خون دشتِ کربلا میں بہا تھا اس کے بدلے پوری ملتِ اسلامیہ ایک ایک قطرہ کے عوض  رنج و غم کا ایک سیلاب  بہا چکی ہے اور لگاتار بہا رہی ہے اور بہاتی رہے گی ۔حضرت ا ما م حسین حضرت علی رضی اللہ عنہ  اور حضرت فا طمہ رضی اللہ عنہا کے صا حب زا دے  اور آ پ صلی للہ علیہ وسلم کے نوا سے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت پیا ر کر تے تھے۔   

ﷲ تعالیٰ نے واقعہ کربلا کو ہمیشہ کے لئے زندہ و جاویدہ بنادیا تاکہ انسان اس سے عبرت حاصل کرتے رہیں۔حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی ولادت مبارکہ 5 شعبان 04 ؁ھ کو مدینہ طیبہ میں ہو ی سرکار اقدس ﷺ نے آپ کے کان میں آذان دی ، منھ میں لعابِ دہن ڈالا اور آپ کے لئے دعاءفرمائی پھر ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور عقیقہ کیا۔

حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی کنیت ابو عبد اﷲ اورلقب ’’ سبط رسول ‘‘ تھا حدیث شریف میں ہے۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کانام شبیر و شبر رکھا  اور میں نے اپنے بیٹوں کا انہیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا۔ایک حدیث پاک میں ہے کہ اَلْحَسَنُ  وَ الْحُسَیْنُ اِسْمَانِ مَنْ اَھْلِِ الْجَنَّۃ۔ ترجمہ حسن اور حسین جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں۔

آپ کی شہادت کی شہرت:سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت بھی شہرتِ عام ہو گئی۔ حضرت علی ، حضرت فاطمہ زہرا اور دیگر صحابہ ِ کبار و اہلِ بیت کے جان نثار رضی اﷲ عنہما سبھی لوگ آپ کے زما نۂ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور ان کا خون نہایت بے درد ی کے  ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا۔ جیسا کہ ان احادیث  سے ثابت ہے جو آپ کی شہادت کے بارے میں وارد ہیں۔

حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اﷲ عنہا یعنی حضرت عباس رضی اﷲ عنہ کی زوجہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک روز حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کو آپ ﷺ کی گود میں دیا پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضور ﷺ کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا حال ہے ؟ فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے یہ خبر پہنچائی کہ  میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی حضرت اُم الفضل فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ ! کیااس فرزند کو شہید کرے گی! حضور ﷺ نے فرمایا ہاں پھر حضرت جبرئیل میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سرخ مٹّی بھی لائے اور ابن سعد اور طبرانی حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا آپ ﷺ نے فرمایا  میرا بیٹا میرے بعد ارضِ طِف میں قتل کیا جائے گا۔ اور جبرائیل میرے پاس وہاں کی مٹی بھی لائے اور مجھ سے کہا کہ یہ حسین کی خوابگاہ (متقل) کی مٹی ہے .طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں۔ اور حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں حاضری دینے کے لئے اﷲ سے اجازت طلب کی جب وہ فرشتہ اجازت ملنے پر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت حسین رضی اﷲ عنہ آئے اور حضور ﷺ کی گود میں بیٹھ گئے تو آپ ان کو چومنے اور پیار کرنے لگے۔ فرشتے نے عرض کیایا رسول اﷲ ﷺ ! کیا آپ حسین سے پیار کرتے ہیں ؟ 
حضور ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا آپ کی امت حسین
 کو قتل کر دے گی۔ اگر آپ چاہیں تو میں ان کی قتل گاہ

 کی (مٹی) آپ کو دکھا دوں۔ پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لایا جسے اُم المومنین اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے کپڑے میں لے لیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اے ام سلمہ ! جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا۔حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس مٹی کو ایک شیشی میں بند کر لیا جو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے دن خون ہو جائے گی۔اور ابن سعدحضرت شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ جنگ صفین کے موقع پر کربلا سے گذر رہے تھے کہ ٹھہر گئے اور اس زمین کا نام پوچھا لوگوں نےکہا اس زمین کا نام کربلا ہے کربلا کا نام سنتے ہی آپ اسقدر روئے کہ زمین آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر فرمایا کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں ایک روز حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ ﷺ رو رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ﷺ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا ابھی میرے پاس جبرائیل آئے تھے ا نہوں نے مجھے خبر دی میرا بیٹا حسین دریائے فرات کے کنارے اس جگہ شہید کیا جائے گا جس کو کربلا کہتے ہیں۔ اور ابونعیم اصبغ بن نباتہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے ساتھ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی قبر گاہ سے گذرے تو آپ نے فرمایا یہ شہیدوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے اور اس مقام پر کجاوے رکھے جائیں گے اور یہاں ان کے خون بہائے جائیں گے۔ آلِ محمد ﷺ 

کے بہت سےجوان اسی میدان میں شہید کئے جائیں گے اور زمین و آسمان ان پر روئیں گے۔  آپ کی فضیلت کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ امام الانبیا حضور ﷺ نے انہیں اسی دنیا 

میںنہ صرف جنَّتی ہونے کی بشارت دی بلکہ نوجوان جنَّتیوں کا سردار قرار دیا۔ اور ان کی محبت کو ایمان کا حصّہ بتاتے ہوئے یہ فرمایا کہ ’’ اے خدا میں حسین سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں