416

سید علی گیلانی کا آخری خط

تحریر شئیر کریں

سید علی گیلانی کا آخری خط کس کے نامتھاا؟جانیے قلم کتاب ہر


سید علی گیلانی جو گزشتہ رات جدجہد سے بھر پور زندگی گزارنے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے،انکی عمر اکیانوے برس تھی،کشمیریوں کے لیے ان کی جدوجہد ضرب المثل ہے۔سچ ہے کہ کشمیر کو ان جیسا لیڈر کبھی میسر نا آسکا،کشمیریوں کا باپ تھا۔سچ ہے کہ کشمیری آج یتیم ہو گئے ہیں۔زندگی بھر آزادی کی صدا لگاتا رہا،جماعت اسلامی سے نکلنے والا یہ ہیرا کشمیر کی برف پوش پہاڑیوں پر ایسا چمکا کہ اس کی کرنیں پاکستان اور جہاں کہیں دنیا میں اہل علم اور اقبال شناسا موجود ہیں وہاں تک پہنچییں۔

سید علی گیلانی ہم میں نہیں رہے


علامہ اقبال کے اجداد کے شہر کشمیر سے تعلق رکھنے والے سید علی گیلانی نے اپنی زندگی کا آخری خط طالبان کو لکھا۔افغان طالبان نے 15 اگست کو کابل پہ جھنڈا لہرا کر دنیا میں بسنے والی تمام قابض قوموں کو پیغام نوید سنائی ہے کہ غم نا کرو دل بڑا رکھو تمہں سر بلند ہو اگر تم مومن ہو،اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے قابض قوموں کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ ظلم و جبر سے علاقوں پہ قابض ہوا جا سکتا ہے مگر دل فتح نہیں کیے جا سکتے،دلوں کی فتح ہی اصل فتح ہے۔ظالموں کا حساب ضرور ہوگا۔ایک دن ان کو بھی بھاگنا ہوگا۔


سید علی گیلانی طالبان کی فتح سے بہت خوش تھے افغان طالبان کی فتح نے ان کے اندر امید بھر دی تھی کہ ایک دن کشمیری بھی بھارت سے آزاد ہوں گے،جس طرح امریکہ افغانستان سے دم دبا کر بھاگا ہے بھارت کو بھی بھاگنا ہوگا۔کمزور نحیف اور بیمار وجود جس کے اندر شیر جتنا دل اور حوصلہ تھا بستر مرگ پہ بیٹھا افغان طالبان کو مبارک باد دے رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ کشمیریوں کو آزادی کی نوید بھی کہ حوصلہ رکھو وہ دن ضرور آئے گا جب تم بھی آزادی کی نیند سو سکو گے،تمہاری برف پوش چوٹیاں بھی آزادی کے نغمے گائے گیں۔


سید علی گیلانی نے افغان طالبان کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین جس طرح عالمی سازشوں کا مرکز بن گئ تھی ان سازشوں کے جال کا ٹوٹنا بہت خوش آئند اور عالم اسلام کے لیے حوصلہ افزاء بھی،لہذاا تمام عالم اسلام کو افغان طالبان کی فتح مبارک ہو اور انھیں چاہیے کہ افغانیوں کی تعمیر نو میں بھر پور کردار ادا کریں۔

سید علی گیلانی تاحیات جن ہتھیاروں سے لیس رہے ان میں ایمان توکل اور صبرو استقامت پیش پیش رہے،عالم اسلام کو بھی اپنے اس خط میں انہی ہتھیاروں سے لیس ہونے کی بات کی،علی گیلانی حبس زدہ معاشرے میں بہار کا جھونکا تھا،علی گیلانی قحط الرجال میں ابورجال تھا یہ مرد مومن جب بولتا تھا تو لگتا تھا کہ اقبال کا شاہین مجسم ہو کر سامنے آگیا ہو،۔زندگی بھر بھارت کو ناک و چنے چبوائے،ان کی وفات بھی زندگی کی طرح خوف بن کر انڈین آرمی پر طاری ہوگئ جبھی تو راتوں رات ان کی ڈیڈ باڈی چھین کر دفن کر دی گی۔ثابت ہوا کہ علی گیلانی زندگی بھر بھارتیوں کے اعصاب پہ سوار رہا اور مرنے کےبعد بھی ،انکےنظریات انکا وژن،انکا پیغام زندہ رہے گا،اللہ ان کو غریق رحمت کرے۔آمین


فرصت ملے تو ان کی کتابیں “اقبال روح دین کا شناسا”روداد قفس ،وولر کنارے ،نوائے حریت‘، ’ دید و شنید‘، ’بھارت کے استعماری حربے‘، ’صدائے درد‘۔ ’ ملت مظلوم‘، ’ مقتل سے واپسی، رانچی جیل کے شب و روز‘ ضرور پڑھیے۔انکے پیغام ان کی جدجہد سب کچھ ان کی کتابوں میں موجود ہے جو اہل حق کو راستہ دکھاتا رہے گا۔

سید علی گیلانی کا آخری خط

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں