597

سید مودوی اردو ادب کا درخشندہ ستارہ

تحریر شئیر کریں

سید مودودی اردو ادب کا درخشندہ ستارہ،جن سے بہت کم اہل ادب شناسائی رکھتے ہیں،جانیئے قلم کتاب پر

تم آئی بڑی مودودی کے خاندان سے ،فقرہ بولا بیوی سے گیا تھا مگر کلک بیٹی کو کر گیا،بیوی نے کیا کہا کیا نہیں مگر پندرہ سالہ بیٹی کو یہ نام بڑا عجیب سا لگا،شاید پہلی بار سنا تھا یہ منفرد نام جبھی،وقت گزرتا رہا وہ بی اے میں پہنچ گئ،اچھرہ شاپنگ سینٹر آتے جاتے اس نام کے بورڈز دیکھے تو اس فقرے کی بازگشت پھر تازہ ہوگئ،سوچ سمجھ بھی بڑی ہو چکی تھی ،انٹرنیٹ کا دور تھا،اندر کے تجسس نے سر ابھارا تو پتہ چلا جماعت اسلامی کے موسس تھے سید مودودی،سلسلہ چل نکلا،شہادت حق پہلی کتاب تھی جو پڑھنے کو ملی،دلکش جملے اردو ادب کا بہترین خزینہ،الفاظ اپنے مفہوم سمیت دل میں اترتے چلے گئے،پھر تفہیم القرآن خریدی ،دیباچہ اپنی مثال آپ تھا قرآن کا بہترین تعارف ،بہت بار پڑھا مگر قرآن کا یک پہرہ گراف تو حرز جان بن گیا،چلیں آپ بھی کیا یاد کریں گے ملاحظ کیجئے وہ پہرہ گراف


میں نے لائبریریوں کی لائبریریاں کنگھال ڈال ڈالیں،مگر جب قرآن پڑھا تو پتہ چلا سب ہیچ تھا ،اصل جڑ تو اب ہاتھ آئی ہے،بقول سید مودودی قرآن شاہ کلید یعنی ماسٹر کی ہے جس سے مسائل حیات کے سارے تالے کھل سکتے ہیں”۔سارے راز اس میں پوشیدہ ہیں


تفہیم القرآن کے دیباچے کے بعد سورہ فاتحہ کھولی تو سورت کا تعارف اور اس پہ منفرد ریسرچ ،ایک ڈیڑھ صفحے میں سارا لب لباب شان نزول ،تاریخ نزول اور تمام موضوعات کو سمو دیا گیا تھا،تفہیم القرآن سب سے فیورٹ تفسیر بن گئ،تھوڑا آگے چلی تو تقابل ادیان کا خوبصورت امتزاج دکھنے میں آیا،جہاں یہود اور عیسائیوں یا کسی اور مذہب کا ذکر آیا بڑی خوبصورتی سے اسلام کیے ساتھ موازنہ کر کےاسلام کی خوبیاں واضح کی گیں ہیں۔

قرآن سے رابط بحال کیجیے


سید مودودی اردو ادب کا درخشندہ ستارہ
پھر ایم اے اور ایم فل کیا،جب تھیسز لکھنے کا مرحلہ آیا تو سوچا کہ کسی شخصیت پہ لکھنا ہے،ڈاکٹر اسرار پہ سرچ کی تو پہلے ہی بہت کام ہو چکا تھا،پھر اسی دوران قاضی حسین احمد اور مریم جمیلہ کی وفات ہوئی،ان پہ سوچا مگر سید مودودی کے اوپر بیسیوں تھیسز لکھنے کے بعد بھی بھی ایک گوشہ باقی تھا،جس پہ تشنگی محسوس ہو رہی تھی وہ تھا تقابل ادیان میں سید مودودی کی خدمات،موضوع منظور کر لیا گیا،تب پہلی بار اتنے جامع انداز میں مولانا کو پڑھنے کا موقع ملا،یقین جانئے تب اندازہ ہوا کہ وہ کس پائے کے انسان اور عالم تھے،

ان کی الجھا د فی الاسلام ان پہ ریسرچ کے دوران پڑھی ،یقینا اس پائے کی کتاب آج تک اس موضوع پہ کوئی نہیں لکھ سکا،ان کی سیرت پہ کتاب بھی بہت جامعیت لیے ہوئے ہے،الغرض جس جس کتاب کو کھولا ایک جہاں نظر آیا،اسی دوران ادراک ہوا کہ ان کا لکھی ہوئی نثر اسلامی موضوعات میں تو باکمال ہیں ہی اردو ادب میں بھی بہترین ہیں،اس پہ باقاعدہ تھیسز لکھا جا چکا ہے،کسی نے کیا خوب کہا کہ اگر آپ ادب کے دلدادہ ہیں مگر ابھی تک سید مودودی کو نہیں پڑھا تو کچھ بھی نہیں پڑھا۔ان کی لکھی ہوئی کتابیں عالمی سطح پہ کافی مقبول ہو چکی ہیں،اور دیگر زبانوں میں تراجم بھی ہو چکے ہیں۔بلا شبہ سید مودودی اردو ادب کا درخشندہ ستارہ ہیں۔


بیسویں صدی کی دو معروف شخصیات جنہوں نے بڑے پیمانے پہ قلم سے جہاد کا فریضہ نبھایا،ان میں سے ایک علامہ اقبال جن کا شاعری میں کوئی ثانی نہیں اور دوسری سید مودودی ہیں جن کا نثر میں کوئی ثانی نہیں،دونوں نے اسلامی تاریخ ثقافت اور احیائے اسلام کو موضوع بنایا اور مسلمان جو صدیوں سے غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ،ان کو جگانے کی سعی کی ہے۔آج بھی آزاد ہو کر بھی ہم آزاد نہیں،بلکہ ذہنی غلامی میں مبتلا ہیں،بڑے پیمانے پر علامہ اقبال اور سید مودودی کو پڑھنے کی ضرورت اور سمجھنے کی ضرورت ہے یہ وقت کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت بھی،سید مودودی اردو ادب کا درخشندہ ستارہ ہیں ،ادب والوں پہ لازم ہے کہ ان کا لٹریچر پڑھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں