666

شوگر پہ قابو پایا جا سکتا ہے اگر۔۔۔

تحریر شئیر کریں

شوگر کا شمار ان بیماریوں میں ہوتا ہے جو گزشتہ چند سالوں میں بڑی تیزی سے بڑھی ہیں۔اور بڑھ رہی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 422ملین کے لگ بھگ ہے۔جن میں سے 1.6 مریض ہر سال اس بیماری سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔26 فیصد شوگر کے مریض صرف پاکستان میں موجود ہیں۔


شوگر کیا ہے؟


شوگر بنیادی طور پر ہارمون کی بیماری ہے۔لبلبے کا کام جسم میں میٹھاس کو جزب کرنا ہے جب یہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے تو جو میٹھا ہم کھاتے ہیں وہ ہضم نہیں ہو پاتی جس کی وجہ سے وہ جسم کو متاثر کرتی ہے۔اور دیگر بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔شوگر بیماری نہیں بلکہ بیماریوں کا مجموعہ ہے۔

شوگر کی بنیادی وجہ

جدید دور میں شوگر ایک لائف سٹائل سے جنم لیتی ہے۔جب آپ کمفرٹ زون میں رہتے ہیں محنت مشقت نہیں کرتے۔کھایا پایا اور سو گۓ۔ورزش سے کتراتے ہیں تو پھر شوگر کے مواقع بہت بڑھ جاتے ہیں۔اور جب شوگر ہو جاتی ہے تو پھر پتہ چلتا کہ ہم کس موذی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔

شوگر سے بچا جا سکتا ہے۔

زندگی تن آسانی کا نام نہیں یہ محنت مشقت کانام ہے۔ہمارے جسم کو اسی کام کا عادی بنایا گیاہے۔دنیا کے سب سے عظیم طبیب نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ مومن تن آسان نہیں ہوتا۔”بلکہ وہ محنتی اور جانفشانی سے کام کرنے والا ہوتا ہے۔مسلم امہ تن آسانی کا شکار ہوکر ذلت کی گہرائیوں میں گر چکی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کمفرٹ زون سے نکل کر چیلنجنگ زون میں آیا جاۓ۔ذلت سہنے سے بہتر ہے تکلیف سہہ لی جاۓ۔

شوگر کا علاج


جب یہ طے ہوگیا کہ تن آسانی کا دوسرانام شوگر ہے تو اس بیماری سے نکلنے کے لیے تن آسانی سے نکلنا ہوگا۔محنت مشقت کرنا ہوگی۔اور اگر آپ شوگر کے مریض ہو چکے ہیں تو یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ شوگر کے مریضوں میں سب سے زیادہ کمی انرجی کی ہوتی ہے۔زرا سا چلیں یا کام کریں تو تھکن ہو جاتی ہے۔واک کریں تو ٹانگیں دھکتیں ہیں۔تو پھر کیا کریں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ شوگر کے لیے تین چیزوں پہ فوکس کریں
کھانے پینے میں احتیاط
باقاعدگی سے ورزش
دوائی

پہلی دو چیزوں پہ کام کر کے دوائی سے حتی الامکان بچا جا سکتا ہے۔اگر بدپرہیزی بھی کرنی ورزش سے جان چھڑانی تو پھر تیسرا آپشن دوائی ہی رہ جاتی ہے۔وہ بھی ایک حد تک کام کرتی۔جب تک لائف سٹائل نہیں بدلیں گے شوگر جام نہیں چھوڑے گی۔اور یہ ایسی بیماریاں جو دیگر بیماریوں کو بھی جنم دیتی ہے۔


شوگر قابل علاج ہے۔


شوگر عصر حاضر کی بیماری نہیں اس کا ذکر قدیم طب میں بھی ملتا ہے۔لہذا اس چیز سے باہر آئیے کہ شوگر نئ بیماری ہے۔دوسرا مائنڈ سیٹ یہ کہ شوگر قابل علاج نہیں۔اللہ رب العزت خود فرماتے کہ ہر بیماری کا علاج ہے۔ہم یہ کہہ سکتے کہ جدید سائنس کے پاس علاج نہیں ہے۔جبکہ حکماء اس کا علاج آرگینک چیزوں میں بتاتے ہیں۔
کلونجی
میتھی دانہ
دارچینی

مورنگا

ان چیزوں کے باقاعدہ استعمال سے آپ شوگر کو شکست دے سکتے ہیں۔
تو پھر آج سے مائنڈ سیٹ بنائیں کہ شوگر قابل علاج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں