266

شہادتِ حسینؓ اور ماتم

تحریر شئیر کریں

امام حسین علیہ السلام کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے، جو حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنے خاندان اور ساتھیوں کے ساتھ جو قربانی دی، وہ ہمیں صبر، استقامت، اور حق کے لیے لڑنے کا درس دیتی ہے۔ مگر آج کل کے دور میں محرم کے موقع پر جو ماتم، خود کو زخمی کرنا، اور دیگر اعمال دیکھنے کو ملتے ہیں، ان کا دین اسلام میں کیا مقام ہے، آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ماتم کے بارے میں احادیث

ماتم اور خود کو زخمی کرنے کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث موجود ہیں جن میں اس طرح کے اعمال سے منع کیا گیا ہے۔ ذیل میں چند اہم احادیث کا ذکر کیا جا رہا ہے:

1. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“وہ ہم میں سے نہیں جو اپنے چہرے پر مارے، اپنے کپڑے پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔”
– (صحیح بخاری: 1294، صحیح مسلم: 103)

2. حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جس نے مصیبت میں اپنے گالوں پر مارا، اپنے کپڑے پھاڑے، اور جاہلیت کے نعرے لگائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔”
– (صحیح بخاری: 1296)

3. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اللہ نے میری امت کو جاہلیت کے تین کاموں سے منع فرمایا ہے: نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعنہ زنی کرنا، اور نوحہ کرنا۔”
– (صحیح مسلم: 934)

تاریخی حقائق

تاریخ گواہ ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام، جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے بیٹے تھے، نے اپنی زندگی میں کبھی 10 محرم کو گھوڑا نہیں نکالا، ماتم نہیں کیا، یا اپنے جسم پر چھریاں نہیں ماری۔ ان کی زندگی ہمیں صبر، استقامت اور حق کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شہید ہوئے تھے، مگر حضرت امام حسین علیہ السلام نے ان کا ماتم نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی بہت سے صحابہ کرام شہید ہوئے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی ماتم نہیں کیا۔

حق اور باطل کو جانچ کر جینا چاہیے۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اور دوسرے صحابہ کرام کی زندگیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ ماتم اور خود کو زخمی کرنے کی بجائے صبر اور استقامت کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے۔

یہ وقت ہے کہ ہم ان عظیم ہستیوں کی مثالوں کو اپنائیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حق کی راہ پر قائم رہیں۔ اپنے اعمال کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور ان چیزوں سے پرہیز کریں جو ہمارے دین اور معاشرت کے خلاف ہیں۔

—

یہ مضمون امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کے حوالے سے ہے اور اس میں ان عظیم ہستیوں کی حقیقی تعلیمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہمیں ان کی مثالوں کو اپنانا چاہیے اور دین اسلام کی اصل روح کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

شہادتِ حسینؓ اور ماتم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں