تحریر : لبنٰی جمشید
کبھی کبھی انسان اپنی منزل پر بس پہنچنے والاہوتا ہے اور اس کے چہرے پر پا لینے کی خوشی چھلک رہی ہوتی ہے کہ اچانک ہی منزل سے ایک قدم کے فاصلے پر کوئی دوسرا سفر درپیش ہوتا ہے جس سفر کے دورانیے کی نہ تو مدت معلوم ہوتی ہے اور نہ ہی منزل کا پتہ ہوتا ہے۔ چہرے بھی اپنا رنگ بدل کر مایوسی کے گہرے بادلوں سا ہو جاتا ہے۔ ہم نہیں جان پاتےکہ پلک جھپکتے ہی ہماری دنیا کس طرح بدل گئی ۔۔ ہماری خوشیوں کو کس حاسد کی نظر کھا گئی ۔۔۔ یا پھر اس کی رضا ہی یہی ہہے اور ہمیں اس کی رضا میں راضی ہو جاناہے۔
طیارہ حادثہ
ایسا ہی کچھ مورخہ 22 مئی 2020 سہ پہر تین بجے پیش آیا۔ PIA کاطیارہ فلائیٹ نمبر pk8303 جس نے 1.30 پر لاہور سے97 مسافروں کو لیے اڑان بھری۔ یہ وہ مسافر تھے جو عید کی چھٹیاں اپنے پیاروں کے سنگ گزارنے خوشی خوشی روشنیوں کے شہر کراچی جا رہے تھے۔ کسی خبر تھی کہ روشنیاں آنکھوں کو چندھیانے کے ساتھ ساتھ بینائی سے بھی محروم کر دیتی ہیں۔ لینڈنگ میں صرف 37 سیکنڈ بچے تھے۔ ان مسافروں کے چہروں پر منزل کو چند لمحے بعد پا لینے کی خوشی تھی اور بک ان 37 سیکنڈز میں وہ دھماکہ ہوا جس سے ان کی منزل اجل کی اس پراسرار دنیا کی جانب گامزن ہو گئی جو زندگی کی سب سے اٹل حقیقت موت ہے۔
ماڈل کالونی جناح گارڈن کی وہ گلی اور اس کے رہائشی جو کرونا کے خوف سے گھروں میں پناہ لیے ہوۓ تھے کیا انہوں نے کبھی سوچا ہوگا کہ وبا سے محفوظ رہنے کی خوشی کی پاداش میں ایک آسمانی آفت ان کو پناگاہوں سمیت ملیامیٹ کر دے گی؟
یہی قدرت کا قانون ہے انسان سوچتا کچھ ہے چاہتا کچھ اور ہے جبکہ قدرت اس کے سامنے مسکرا رہی ہوتی ہے۔ حضرت علی کا قول ہے کہ میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچاناہے کہ اللہ کی ذات موجود ہے۔
طیارے کی ہسٹری
پی آئی اے کاجو ائیر بس 320 تباہ ہوا اس سے قبل بحرین سے لاہور آیا تھا۔ اسمیں انجن کی خرابی کا نقص پہلے سے موجود تھا پی آئی اے کے اعلی حکام نے اس سے باوجود ڈومیسٹک پرواز کی اجازت دے کر ایک فاش غلطی کی۔
بلیک باکس سے معلوم ہوا ہے کہ پائلٹ سجاد گل نے طیارہ تباہ ہونے سے قبل کنٹرول ٹاور کو مے ڈے کی کال دی اور بتایا کہ طیارے کا انجن خراب ہو چُکا ہے ۔
حادثے سے چند لمحے قبل کی صورتحال
سجاد گل نے 19 منٹ قبل کراچی ائیرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنے کی کوشش ۔ذرائع کے مطابق رن وے تک پہنچنے کے دوران پائلٹ مسلسل پہیئے کھولنے کی کوشش کرتا رہا۔ دوپہر 2.20 منٹ پر طیارہ رن وے تک پہنچ گیا تھا مگر ہنگامی لینڈنگ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کپتان نے طیارے کو واپس اڑا لیا۔
دوبارہ اڑان بھرتے ہی پائلٹ نے ایک چکر لگانے کیلئے طیارے کو الٹے ہاتھ کی طرف موڑا اور شاہ فیصل کالونی، ملیر اور نیشنل ہائی وے سے ہوتے ہوئے لینڈنگ کیلئے دوبارہ کوشش کرنے لگا۔
بالآخر جہاز کے پہیئے کھولنے کے لیے کپتان نے آخری حربے کے طور پر سسٹم کو پمپ کیا تو جہاز کے پہیئے کھل گئے مگر اس وقت تک جہاز کا ایک انجن فیل ہوچکا تھا۔
پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اس دوسری ہنگامی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور طیارے کو ہر ممکن مہارت سے ایئرپورٹ تک لے جانے کی کوشش کی مگر اس دوران جہاز کا دوسرا انجن فیل ہوا تو طیارہ خوفناک حادثے کا شکار ہوگیا۔ أستغفر اللهْ۔۔۔
حادثے کے نتیجے میں اموات
ایک رپورٹ کے مطابق97افراد اب تک جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ چونکہ طیارہ آبادی پر گراجہاں آگ لگنے سے سات گھر اہل خانہ مکمل تباہ جبکہ جزوی طور پربیس سے پچیس گھروں کو نقصان ہوا ہے۔
اسی حادثے میں میری بہت عزیز دوست ڈاکٹر راحت جبین کے کزن میجر شہریار اپنی بیوی اور دو معصوم بچوں سمیت کوچہ فانی کو رخصت ہوۓ ہیں ۔ ایک خاندان کا نام و نشان ہی اس دنیا سے مٹ گیا۔ ان کی فیملی کی تصاویر دیکھ کر دل کانپ ریا ہے لکھتے ہوۓ ہاتھ لرز رہے ہیں۔ ایسے ہی جانے کتنے خاندان کے چراغ اس حادثے نے گل کر دئے ۔ 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصارنقوی اپنے تمام پراجیکٹس ادھورے چھوڑ کر ابدی سفر کو گامزن ہوۓ۔
اللہ پاک تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے ۔ آمین ۔
جسے اللہ رکھے
اداکار منور سعید کے صاحبزادے اس حادثے میں معمولی زخمی ہوۓ جبکہ ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ ہم کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چھکے؟
فیصل ایدھی صاحب نے ریسکیو کے دوران بتایا کہ بینک آف پنجاب کے صدر ایک گاڑی کے اوپر گرے تھے جبکہ اسی گاڑی میں تین لوگ پہلے سے موجود تھے جن میں سے دو بلکل محفوظ رہے جبکہ بینک صدر اور ایک دوسرے شخص کو معجزانہ طور پر بچ جانے والوں نے گاڑی سے باہر نکالا.
سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ طیارہ حادثے میں دو مسافر معجزاتی طور پر محفوظ رہے ہیں جن میں بینک آف پنجاب کے ظفر مسعود اور محمد زبیر ہیں۔ دونوں زخمیوں کا جسم جھلسا ہوا ہے البتہ ڈاکٹرز نے ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی ہے۔
عید کی خوشیاں حادثے اور وبا
دنیا کی آنکھ بہت عجیب وقت دیکھ رہی ہے ۔ اھک جانب کرونا وبا نے ڈیرے ڈالے ہیں جس کے نتیجے میں بےروزگاری غربت اور دیگر مسائل نے جنم لیا ہے اور اب عید سے دو دن قبل یہ حادثہ ہماری نم آنکھوں کو مذید پر نم کر گیا ہے۔
ہمیں اس عید پر اللہ کے حضور اپنی گناہوں کی معافی کا دل سے طلبگار ہونا پڑے گا اور اس آزمائش یا عذاب الہی سے نجات کے لیے گڑگڑا کر اسے راضی کرنے کی ضرورت ہے۔