509

علامہ اقبال کا مجسمہ اور اس کی حقیقت

تحریر شئیر کریں

علامہ اقبال کا مجسمہ اور اس کی حقیقت کیا ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر علامہ اقبال کے مجسمے کے حوالے سے بحث مباحثہ عروج پر ہےلوگ اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی دیکھی اور کافی سارے کمنٹس بھی پڑھے۔سبھی کو اس مجسمے کی ہیئت میں خامیاں دکھائی دے رہیں ہیں۔کوئی اسے ابولہول کا مجسمہ کہہ رہا کوئی کارٹون ۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ اصل بات کی طرف کوئی کیوں نہیں آ رہا؟

یہ بھی پڑھیے

اقبال فہمی کی ضرورت کیوں ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ یہ مجسمہ ٹھیک بنا یا خراب۔۔۔۔بنانے والا کوئی ماہر تھا یا عام انسان؟علاوہ ا زیں اس نے کس نیت سے بنایا گیا آیا اس کے پیچھے علامہ اقبال ؒ کا مذاق اڑانا مقصود ہے یا ان کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنا، یہ ساری باتیں ایک طرف اور حقیقت ایک طرف جو یہ ہے کہ مجسمہ سازی نا ہماری روایت ہے اور نا ہی ہمارے دین کا حصہ۔۔۔۔اغیار کی دیکھی دیکھی خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایسے اقدام توہین امیز ہی نہیں خلاف شرع بھی ہیں۔

علامہ اقبال اور ان کی شاعری میں ایسے کاموں پہ مذمت پائی جاتی ہے۔علامہ نے اس طرح کے کاموں کو “بتان آذری” کا نام دیا ہے۔جو کہ حقیقت پر مبنی ہے۔مگر اندھے عقیدت ہمیشہ جہالت کی طرف لے جاتی ہے۔ہمارے شخصیت پرستی کی جو لہر چل نکلی ہے وہ بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔

علامہ اقبال کی زندگی میں کسی نے کلام اقبال گانے کی اجازت مانگی یا گا کر دکھایا جس پر آپ بہت برہم ہوۓ اور کہا کہ میرا کلام گانے کے لیے نہیں ہے۔اس۔کے باوجود لوگ اندھی عقیدت کے نام پر گا رہے ہیں۔اور اب نیا کام چل نکلا ہے مجسمے بنانا۔۔۔اور قربان جاؤں ایسے لوگوں پر جو اس مجسمے میں غلطیاں تو نکال رہے مگر جڑ ان کو دکھائی نہیں دے رہی۔۔۔۔۔مجسمے بنانا گناہ کا کام ہے۔جس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔تمام مسالک کی رو سے مجسمہ سازی اور اس کا کاروبار حرام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں