382

عمران خاں نے اسرائیل کو تسلیم نا کرنے کی وجہ بتا دی

تحریر شئیر کریں

اسرائیل کو تسلیم کرنے پہ میرا دل نہیں مانتا۔وزیراعظم عمران خاں
۔۔۔۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے اور کروانے کی بحثیں اور معاملات عروج پر ہیں۔اسرائیل کو اپنا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے۔جو کہ دنیا کے امن کے لیے باعث تشویش ہے۔
۔۔۔۔۔
تاریخ اسرائیل
۔۔۔۔۔
اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جسے فلسطینیوں سے چھین کر اسرائیلیوں کو عنایت کر دیا گیا ہے۔جہاں تک تاریخ کی بات ہے تو تاریخی حقائق چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پچھلے دو تین ہزار سال سے عرب فلسطین پر آباد چلے آ رہے ہیں جبکہ یہودی تین چار سو سال یہاں رہے۔پھر 1948 ء میں اس فتنہ پرداز یہودیوں نے تمام یہودیوں کو جو فلسطین چھوڑ کر دو تین سو سال سے جا چکے تھے
اور دیگر یورپی ممالک میں جا کر آباد ہوگۓ تھے۔کو بلا کر فلسطین پر قبضہ جمانے کے لیے پر تولنے لگے۔تین عرب اسرائیل جنگوں میں پورا فلسطین یروشلم سمیت انکے قبضے میں جا چکا ہے۔جہاں تک اسے تسلیم کرنے کی بات ہے مسلمانوں کی اکثریت اسے تسلیم کر چکی ہے۔جبکہ تاحال پاکستان نے اسے تسلیم نہیں کیا۔اور لبرلز کی طرف سے تنقید کی زد میں ہے۔
جہاں تک عالم اسلام کی اہم شخصیات کی بات ہے وہ اسرائیل کو تسلیم یا نا تسلیم کرنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
سلطنت عثمانیہ کے غیورسلطان عبدالحمید نے کہا تھا میں فلسطین کا ایک چپہ بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کروں گا کیونکہ یہ امت مسلمہ کی امانت ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کے بارے اپنے دوٹوک موقف سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔آپ نے فرمایا اسرائیلی ایک غاصب ریاست ہے پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔
شاعر مشرق علامہ اقبال تو یہاں تک کہہ گے

ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا
۔۔۔۔۔

وزیراعظم عمرآن خاں کا بھی اسرائیل پہ دبنگ اعلان سامنے آ گیا ہے کہ میرا دل نہیں مانتا کہ اسرائیل کع تسلیم کروں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں