385

عمل اور ردعمل کے نتیجے میں قائم ہونے والے رویے

تحریر شئیر کریں

عمل اور ردعمل کے نتیجے میں قائم ہونے والے رویے،انکی حقیقت کیا ہے ؟کون سے رویے اچھے یوتے ہیں

ام سلیمان

اصل میں دو طرح کے رویے ہوتے ہیں۔

ایک ہے ، تابع رویے ۔ یا ردعملی رویے ۔

یعنی وہی کرنا۔۔ اسی اسلوب میں جواب دینا ۔۔۔۔وہی طور طریقے اپنانا۔ ۔ ۔ ویسا ہی بن جانا جیسا کہ سامنے سے ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

اگر ہمارے ساتھ کوئی اچھا کر رہا ہے تو ہم بھی اچھے ہیں۔ احسان کر رہا ہے تو ہم بھی احسان کرنا چاہتے ہیں، اچھے طریقے سے مل رہا ہے تو ہم بھی اچھے طریقے سے مل رہے ہیں۔۔۔ مسکراہٹ کے جواب میں مسکراہٹ ہے اور چاہت کے جواب میں چاہت!!!

دوسری جانب اگر کوئی برا کر رہا ہے ، برے طریقے سے ملتا ہے، اکھڑ پن سے بات کرتا ہے، ضد کرتا ہے، منہ پھیرتا ہے، نظر انداز کرتا ہے ، تیوریاں چڑھاتا ہے ۔۔۔ تو ہمارے پاس بھی ردعمل میں ویسا ہی موڈ ہے، وہی چہرہ ہے اور وہی طور طریقہ ہے۔۔

اس کو کہتے ہیں ردعملی رویے/ تابع رویے۔

اکثریت ، بہت واضح اکثریت ،اسی رویے پر عامل ہوتی ہے۔ ہم میں سے اکثر اسی کیٹیگری میں شامل ہیں۔

اس رویے کے حامل خوش فہمی میں خود کو بہت اعلیٰ اخلاقی خوبی کا مالک سمجھ لیتے ہیں۔ بہت سمجھدار سمجھتے ہیں خود کو۔ کئی بار تو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ؛

“جی ہم تو دیکھ کر معاملہ کرتے ہیں ۔ یاروں کے یار ہیں اور دوسری طرف اینٹ کا جواب پتھر سے بھی دیتے ہیں۔ جو جیسا ہمارے ساتھ کرے گا ہم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کریں گے۔ ۔۔”

کیا یہ کیٹیگری واقعی سمجھدار لوگوں پر مشتمل ہے ؟

نہیں ۔
قطعاً نہیں

دوسرا رویہ

دوسرا رویہ سوچ سمجھ کر ، اپنی اقدار ، ترجیحات اور اصولوں پر قائم ہونے کا ہے۔

ایسے لوگ ردعمل کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کے رویے کے پابند نہیں ہوتے۔ ان کے ریموٹ لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہوتے، کہ جیسے وہ چاہیں ہم کو چلائیں۔۔۔
کبھی وہ غصہ کریں تو ہمارا بھی غصے والا چینل لگ جائے
پیار کر یں تو پیار والا پروگرام سیٹ ہو جائے۔۔۔
اسی طرح جو بھی ہمارے ساتھ ہو ، وہی مصنوعات ہم بھی اپنے من سے نکال کر پیش کریں۔

(بندروں کی طرح۔ نقل کرنا بس )

بلکہ ایسے لوگوں کے کردار ، مزاج، روئیے اور موڈ کی سیٹنگ بہت اندر جا کر ان کا علم اور ان کے اصول طے کرتے ہیں۔

مثلا اگر کسی نے یہ طے کیا ہے کہ نرم گفتگو میرے کردار کا اصول ہے ، تو خواہ اگلا بندہ گالیاں دے، ان کی سیٹنگ میں نرم گفتگو ہی ہے اور زبان پر بھی نرم گفتگو ہی ہو گی۔ اسی طرح کی مختلف اقدار values پر وہ خود کو قائم کر لیتے ہیں۔

ایسے لوگ ارد گرد کے لوگوں سے متاثر نہیں ہوتے۔

ان کا ریموٹ ان کے اپنے من میں ہے اپنے اختیار میں ہے۔ لوگوں کے ہاتھ میں نہیں۔

ایسے لوگ بہت سمجھدار اور self control ہیں۔

اور بہت ہی کم پائے جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ معاشرے کی ضرورت ہیں۔عمل اور ردعمل کے نتیجے میں قائم ہونے والے رویے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں