غربت مکاؤ،غریب نہیں ایک اہم کالم ،جسے پڑھنا مت بھولیں
کھانے پینے کی ضروریات میؔ۔مسلسل پانچویں ہفتے سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو کہ انتہائی ناعاقبت اندیشی پر مبنی ہے۔
غربت مکاؤ،غریب نہیں. غریب کا ہر دن بد سے بدتر ہوتا جا ریا۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ مہنگائی ہوتی ہی ان چیزوں میں ہے جن کے بغیر کسی غریب کا گزارہ نہیں۔دال چاول آٹا اور دالیں۔۔۔۔یہ وہ چیزیں ہیں جو سب سے سستی ہونی چاہیے تھیں۔مگر حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے دن بدن مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔غریب کے لیے گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو کہ رہ گیا ہے۔کیسا زمانہ آ گیا ہے۔غریب روٹی کے لیے مر رہا ہے۔اور امیر بد ہضمی اور زیادہ کھانے سے۔۔۔ لحاظ غربت مکاؤ،غریب نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
دہی اور اس کی لسی کی غذائی اہمیت اور فوائد
زمانہ اپنے آخری مدار میں داخل ہو چکا ہے ۔ترقی اپنے تمام تر فاصلے سمیٹتے ہوۓ محو پرواز ہے۔زندگی اگر رکی ہوئی ہے تو مزدور کی اور غریب کی۔ان کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ہے۔غریب کی غربت کسی کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔غریب کے ووٹ سے الیکٹ ہونے والے سیاست دان سب سے پہلے جو عنایت کرتے وہ غریب کی مشکلات میں اضافہ ہے۔
وزیراعظم عمرآن خاں آپ بھی اسی روایت پہ چل نکلے ہیں جس روایت کی مخالفت نے آپ کو ایوا وں میں پہنچایا ہے۔
آخر غریب کی غربت کب مٹے گی؟غربت مٹاؤ ،غریب نہیں کا دور دوراں کب ہوگا؟محنتی ہاتھ کب اپنی محنت کا اجر پائیں گے۔