فلسفہ قربانی اور اس کے تقاضے 304

فلسفہ قربانی اور اس کے تقاضے

تحریر شئیر کریں

ذوالہجہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے اس کی اسلام میں بہت اہمیت ہے اس میں اہل اسلام کے لئے دو مبارک چیزیں حج اور بقرہ عید رکھی گئی ہے دونوں کا مقصد قربانی ہے قربانی کے زریعے اللہ رب العزت انسانوں کو اپنی قیمتی چیزوں کی قربانی دینا اور اس کے راستے میں سب کچھ قربان کر دینے کی اہلیت پیدا کرنا ہے
اسلامی سال کی ابتداء محرم سے ہوتی اور انتہا ذوالہجہ پہ ہوتی ہے غور طلب مقام ہے محرم میں جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کی قربانیاں ہیں تو وہاں فرعون سے حضرت موسی علیہ اسلام اور ان کی قوم کی آزادی کی نوید بھی ہے ان میں ،مشترک بات قربانی ہے
قربانی کیا ہے؟
اللہ رب العزت خود کہتا ہے کہ مجھے گوشت اور خون نہیں نیتیں مطلوب ہیں۔اخلاص مطلوب ہے وہی مقصود مومن ہے

اللہ دراصل قربانی کے زریعے دنیاوی مال ومتاع جس میں اولاد سب سے قیمتی متاع ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس کی قربانی مانگی گئی جس کی یاد میں امت پر قربانی لازم کر دی گئی ،قربانی کا جذبہ جب تک نا ہو گھر سے لے کر ملک اور پھر قوموں کی بقا کا سفر تک قربانی میں مضمر ہے جذبہ قربانی قوموں کی متاع کا ضامن ہے

فلسفہ قربانی کا مطلب ہے کسی مقصد، اصول، یا اعلیٰ اخلاقی معیار کے لیے کسی چیز کی قربانی دینا۔ اس کے تقاضے درج ذیل ہیں:

1. **اخلاص و نیت**

:
قربانی دینا سیکھ لیا

حضرت ابراہیم کی قربانی کا واقعہ

– قربانی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ یہ عمل خلوص نیت کے ساتھ کیا جائے۔ اس میں کوئی دکھاوا یا دنیاوی مفاد شامل نہیں ہونا چاہیے۔ قربانی کی نیت اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہونا چاہیے۔

2. **ایمان اور یقین**:

– قربانی دینے والے کا اپنے مقصد اور اصول پر کامل ایمان اور یقین ہونا ضروری ہے۔ اسے یقین ہو کہ اس کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اس کا اجر اسے ضرور ملے گا۔

3. **صبر و استقامت**:

– قربانی کا عمل صبر و استقامت کا متقاضی ہوتا ہے۔ قربانی دیتے وقت مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن قربانی دینے والا ثابت قدم رہتا ہے۔

4. **بڑائی اور عظمت کی تلاش**:

– قربانی دینے والے کا مقصد اپنی ذاتی بڑائی اور عظمت کی بجائے اللہ کی عظمت اور بڑائی کو تسلیم کرنا ہونا چاہیے۔ قربانی کا عمل اللہ کی رضا کے لئے ہو، نہ کہ دنیاوی شہرت کے لئے۔

5. **عزم و حوصلہ**:

– قربانی دینے کے لئے مضبوط عزم اور حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ قربانی کا فیصلہ لینے سے پہلے اور بعد میں بھی استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔

6. **بے لوثی اور ایثار**:

– قربانی کا عمل بے لوث ہونا چاہیے۔ قربانی دینے والے کو اپنے مفاد کے بجائے دوسروں کے فائدے کے لئے سوچنا چاہیے۔

7. **احتساب نفس**:

– قربانی دینے والا اپنا محاسبہ کرتا رہے کہ اس کا عمل واقعی خلوص نیت کے ساتھ ہے یا نہیں۔ خود احتسابی کے ذریعے اپنی نیت اور عمل کو پرکھتا رہے۔

8. **اللہ پر مکمل اعتماد**:

– قربانی کے بعد اس کا بھروسہ اللہ پر ہونا چاہیے کہ وہ اس کی قربانی کو قبول کرے گا اور اس کا بہتر اجر دے گا۔

ان تقاضوں کو پورا کر کے ہی ایک شخص واقعی قربانی کے فلسفے کو سمجھ سکتا ہے اور اس کا صحیح معنوں میں اجراء کر سکتا ہے۔

گوشت ضرور بانٹیں مگر اصل مقصد قربانی کے پیچھے اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کر دینے کا جذبہ ہے وہی پیدا ہوگا تو ہم اصل میں امت بنیں گے اور فرد بن کر امت استوار کریں گے۔اللہ ہمیں حقیقی معنوں میں قربانی دینے کی توفیق دے۔فلسفہ قربانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں