478

قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟

تحریر شئیر کریں

قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟

تحریر: فرزانہ چیمہ۔


جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہندو اور انگریز سے قانون کی جنگ لڑ کر، اصولوں کی سیاست کر کےصداقت اور دیانت کی راہ اپنا کر قائداعظم محمد علی جناح نے اللہ کی نصرت اور مسلمانوں کی وحدت و محبت کے سہارے دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ کے خوبصورت نعرے نے مسلمانوں کے دل میں ایسی جڑ پکڑی کہ لاکھوں مسلمان مرد و زن نے اسلامی خطہ ارضی کے لیے اپنے خون کے دریا بہا دئیے۔ لاکھوں اس خونی دریا سےپار نکل آئے۔یہ خون کس لئے اور کس نے بہایا؟ پاک دل اور پاکباز مسلمانوں کاجن کی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہندو قوم سے الگ پہچان تھی، جن کی پیدائش،وفات،شادی بیاہ،کھانا پینا،عبادت وغیرہ ہر کام ہندو دھرم سے الگ ہے۔یقینا اس خون ناحق کا حساب ہو گا حشر کے دن۔


ہماری قسمت کہ قائد اس ارض پاک کی آزادی کے تقریبا ۱۳ ماہ بعد ہی وفات پا گئے۔وہ دن اور آج کا دن، پاکستان کے قیام کے اسباب اور اس کے مقاصد کے بارے میں مختلف مکاتب فکر بڑے ہی مختلف اور بعض اوقات متضاد خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ایک مکتب فکر اس کے قیام کی اصل وجہ صرف معاشی ترقی و خوشحالی کا حصول قرار دیتا ہے۔ جبکہ دوسرا گروہ اس کی غرض و غائیت محض سیاسی آزادی تک محدود کر دیتا ہے۔ ایک گروہ قائد اعظم سیکولر تھے کا راگ الاپتا رہتا ہے جبکہ ایک اور زیادہ مقبول عام مکتب فکر اس کے قیام کی بنیادی اور حقیقی وجہ (اسلامی آئیڈیالوجی) سمجھتا ہے۔

سیکولر طبقہ قائداعظم کی ۱۱ اگست ۱۹۴۷ کی تقریر کو اپنے حق میں بڑی شدومد سے استعمال کرتا ہے جو انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں کی تھی۔ حالانکہ یہ تقریر مسلمانوں کی رواداری اور انسانی حقوق کے حوالے سے تھی۔اس تقریر کے بعد گورنر جنرل پاکستان قائداعظم نے بیسیوں دوسری تقریریں بھی کیں جن کا مطالعہ بھی ضروری ہے قابل غور بات ہےکہ تیرہ ماہ تک قائداعظم اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ عوام کے ہر دلعزیز قائد رہے۔ اس دوران انہوں نے ایسے کون سے اقدامات کیے جن سے ان کی سیکولرازم سے وابستگی ثابت ہوتی ہو۔پس منظر سیاق و سباق اور عملی اقدامات سے ہٹ کر کوئی ایک تقریر کسی سیاسی شخصیت کے نظریات و افکار کا تعین کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔


آپ کے ذوق سلیم کے لیے ہم اس وقت ایک نادر تقریر پیش کر رہے ہیں۔ نواب بہادر یار جنگ کی، جو انہوں نے قائداعظم کی موجودگی میں کی۔
نواب بہادر یار جنگ کا خطاب:


(آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس منعقدہ کراچی،دسمبر ۱۹۴۳)
برادران ملک!مسلم لیگ کا اجلاس ہو چکا اور حسب روایت قدیم میں آپ کو مخاطب کرنے کھڑا ہوا ہوں۔اس اجلاس کو میں مسلم لیگ کی زندگی کا نیا باب تصور کرتا ہوں اور اس کی منظور کردہ چھ میں سے تین قراردادیں میرے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں یونی کونسل آف ایکشن کی قرارداد،پنج سالہ پروگرام بنانے والی کمیٹی کی قرار داد اور نئے الیکشن کے مطالبہ کی قرارداد۔آخرالذکر کے متعلق کوئی گفتگو نہیں کروں گا۔صرف اسی قدر کہنا کافی تصورکرتا ہوں کہ میرے احباب،سر فضل حسین کی روح پرفتوح کے لیے چاہےکتنے شکرگزارہوں پھر بھی اگر نئے الیکشن ہوئے بقول غالب:


بھرم کھل جائے ظالم تیرےقامت کی درازی کا
اگر اس طرہ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے


صبح امید:


مجھے دوسری دونوں قراردادوں کے متعلق گفتگو کرنی ہے۔میں ان قراردادوں کودور نو کا آغاز،صبح امید کا نشان تصور کرتا ہوں،مسلم لیگ کےمستقبل کی درخشانی کی علامت سمجھتا ہوں اور داغ کے الفاظ میں اپنے قائد سے یہ کہنے کی اجازت چاہتا ہوں:
تیور ترےاک رشک قمر دیکھ رہے ہیں
ہم شام سے انداز سحر دیکھ رہے ہیں


حضرات مسلم لیگ کا احیاء اور ترقی ایک فطری ترقی ہے جو بتدریج اور بہ استقلال عمل میں آئی اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ اس نے ہماری سیاسی حیات کو اچانک اور یکدم منقلب نہیں کیا بلکہ آہستہ آہستہ ہمیں منزل کی طرف بڑھایا تاکہ ہمارا قدم آگے بڑھے اور ہم پیچھے نہ ہٹنے پائیں۔


دو قومی نظریہ:


جس وقت قائد اعظم نےلیگ کی زمام اپنے ہاتھوں میں کی، ہمارے دماغوں پر مختلف باطل تصورات چھائے ہوئے تھے۔برادران وطن نےبہ انداز دوستی ہم کو یقین دلایا تھا کہ ہم دس کروڑ کی تعداد میں ہونے کے باوجود ہندوستان میں ایک اقلیت ہیں۔ دس کروڑ کی تعداد رکھنے والی کوئی جماعت اقلیت نہیں کہلا سکتی۔


تم ایک قوم ہو،مستقل قوم،جس کا خمیر اقوام عالم سے بالکل مختلف اور جدا ہے، جس کی بنیاد جغرافیہ اور نسل و رنگ کی ادنی تفریقات سے بالا تر ہے۔


اقبال کا خواب:


جب مسلمانوں میں یہ خیال عام ہوگیاکہ ہم اقلیت نہیں،ہم ایک مختلف قوم ہیں تو انہوں نے ہمیں سمجھایا کہ
جس ملک میں دو قومیں آباد ہوں او دونوں کے مذہبی اور ثقافتی تصورات میں بعد المشرقین ہو تو اس ملک میں جمہوریت صحیح طرز حکومت نہیں ہو سکتی۔ جب اس نظریے نے بھی مسلم عوام کےقلوب میں جگہ پیدا کر لی تو قائداعظم نے اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور ہندوستان کےشمال مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں آزاد مسلم ریاستوں کا مطالبہ کیاجس کو اب عرف عام میں پاکستان کہتے ہیں۔


نعرہ جنگ:


آج سے تین سال پہلےخود ہم سے بہت لوگ یہ کہتے تھے کہ مسلم لیگ کا یہ مطالبہ پورا نہ ہو سکے گا،لیکن اب موجودہ حالات نےپاکستان کے عنقریب حاصل ہونے کایقین پختہ کر دیاہے۔مسلمان زیادہ سے زیادہ اس مطالبہ سےوابستہ نظر آ رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم لیگ اس جنگ کی تیاری کا آخری قدم اٹھائے۔ اس نے دہلی میں حکومت برطانیہ کوآخری تنبیہ کی اور آج آل انڈیا مسلم لیگ نے کونسل آف ایکشن کی تجویز پاس کر کے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پاکستان سیدھے ہاتھوں اور صلح و آشتی سے نہیں مل رہا ہے تو ہم یہ بزور بازو حاصل کریں گے۔


حضرات! وہ قائد یا سپہ سالار جس کے پاس سپاہی مفلوج و نا کارہ ہوں، کسی مہم کو کامیابی کے ساتھ سر نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ نعرہ جنگ بلند کرنے سے پہلے اپنی فوجی طاقت کا اندازہ کر لے۔ یہ کونسل آف ایکشن اس لیے مقر کی گئی ہے کہ وہ ہر صوبے میں نہ صرف اپنی طاقت کا اندازہ کرلے بلکہ نئی طاقت پیدا کرے اور اس کو اس دن کے لیے تیار کرے جب قائد کی طرف سےکوچ کا حکم ملے۔


میدان کارزار:


مسلمانان ہند! جلسوں کا منعقد کر لینا، تجاویز پاس کر لینا، تقریریں کرنا، تقریریں سننا کسی قوم کی زندگی میں انقلاب پیدا نہیں کر سکتا۔ جہاں تک آپ کے ذہن اور فکر کی تربیت کا تعلق تھا، وہ منزل گزر چکی۔ اب عمل اور صرف عمل کا وقت ہے۔ اگر آپ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو پاکستان کامطالبہ کر کےاس کو ذلیل نہ کیجئے۔


قائداعظم !آپ مایوس نہ ہوں۔ آپ کے دوست اور پرانے ساتھی حضرت اقبال نے شاید آپ ہی سے مخاطب ہو کر کہا ہے:
اے رہبر فرزانہ! مایوس نہ ہوں ان سے
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
ممکن ہے آپ کو اس طبقے سے آپ کے کام کے آدمی نہ ملیں جس کو اعلی طبقہ کہتے ہیں، لیکن آپ کی قوم جانباز سپاہیوں سے خالی نہیں ہے۔


عہد وفا:


قائداعظم ! آپ کے ایک ادنی سپاہی کی حیثیت سےاجازت دیجئے کہ سب سے پہلے میں اپنے آپ کو پیش کروں۔


نذرانہ جان:


قائداعظم! میرے لیے وہ دن عید کا دن ہوگا جس دن ملت محمدی کے راستے میں اپنے گرہ کی آخری پائی اور اپنے خون کا آخری قطرہ نچھاور کر کے فخر و ناز کروں گا اور جس دن میرا جسم زخموں سے چور ہو گا۔(مجمع سے فلک شگاف نعرے بلند ہوئے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔)


اس قدر جلد فیصلہ نہ کیجئے۔ میں نے جس عزم کا اظہار آج کیا ہے وہ میرے بارہ سال کی شبانہ روز غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ میں نے اس کی تیاری کی اور اس پر عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ جاؤ اپنی بیویوں کے تابناک چہروں کو دیکھو، اپنے بچوں کی مسکراہٹ کو،اپنی زندگی کی ہر خوشی کو آنکھوں کے سامنے رکھ کر فیصلہ کرو،اپنی تجارت اور ذرائع معیشت کی ساری تباہیوں کا بغور تصور کر کے ایک مرتبہ تصفیہ کرو۔ مسلمانو! وہ فیصلے جو جوش کے عالم میں دوسروں کی تقلید میں کر دئیے جاتے ہیں، بسا اوقات آنی اور اسی لیے فانی ہوتے ہیں۔ آج ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے جو شجر ملت پر پھول بن کر مہکنا چاہتے ہوں اور پھل بن کر کام و دھن کو شیریں کرنا چاہتے ہوں۔ ہمیں ان کی ضرورت ہے جو کھاد بن کر زمین میں جذب ہوتے ہیں اور جڑوں کو مضبوط کرتے ہیں جو کسی اور پانی میں مل کر رنگین پھول پیدا کرتے ہیں،

جو محمدی ہوتے ہیں اور پھلوں میں لذت اور شیرینی پیدا کرتے ہیں ہم کو ان کی ضرورت نہیں جو کان و ایوان کے نقش و نگار بن کر نگاہ نظارہ باز کو خیرہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان بنیاد کے پتھروں کو چاہتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے زمین میں دفن ہو کر اور مٹی کے نیچے دب کر استحکام عمارت کی ضمانت دے سکتے ہوں۔ میں نے کل کہا تھا اور آج پھر بتا دینا چاہتا ہوں کہ:
ایسی کوئی دنیا نہیں افلاک کے نیچے
بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تخت جم و کے


پاکستان کا دستوری نظام:


حضرات! پاکستان کا حاصل کر لینا اتنا مشکل نہیں پاکستان کو پاکستان بنانا اور قائم رکھنا مشکل ہے۔آپ کے قائد نے ایک سے زائد مرتبہ اس کا اعادہ فرمایا ہے کہ مسلمان اپنی حکومتوں میں کسی دستور اور قانون کو خود مرتب کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ان کا دستور مرتب اور معین ان کے ہاتھوں میں موجود ہے اور وہ قرآن پاک ہے۔ کتنی صحیح نظر اور کتنے صحیح فیصلے ہیں۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ہم پاکستان صرف اس لیے نہیں چاہتے کہ ہم مسلمانوں کے لیے ایک ایسی جگہ حاصل کر لیں جہاں وہ شیطان کے آلہ کار بن کر ان کی پٹی پر عمل کریں جس پر آج ساری دنیا کاربند ہے۔ ہمارے پاکستان کا یہی مقصد ہے تو کم از کم میں ایسے پاکستان کا حامی نہیں ہوں۔

اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اس لیے چاہتے ہیں کہ وہاں قرآنی نظام حکومت قائم ہو۔ یہ ایک انقلاب ہو گا، یہ ایک نشاۃ ثانیہ ہو گی، یہ ایک حیات نو ہوگی جس میں خوابیدہ تصورات اسلامی ایک مرتبہ پھر جاگیں گے اور حیات اسلامی ایک مرتبہ پھر کروٹ لے گی۔پلاننگ کمیٹی آپ کے لیے جو دستوری اور سیاسی نظام مرتب کرے گی اس کی بنیادیں اگر کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ پر نہیں ہیں تو وہ شیطانی سیاست ہے اور ہم ایسی سیاست سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ (قائداعظم نے بڑے جوش سے میز پر مکا مار کر فرمایا :“بالکل درست کہتے ہو”۔)

(ماخذ:
تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں۔۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ۔۔ اسلام آباد۔)


‎قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں