627

قرآن عربی زبان میں ہی کیوں نازل کیا گیا؟

تحریر شئیر کریں

قرآن عربی میں ہی کیوں نازل کیا گیا؟ملاحظ کیجیے قلم کتاب پر

اہل علم کا بڑا دلچسپ موضوع رہا ہے کہ قرآن عربی میں ہی کیوں نازل کیا گیا؟کسی اور زبان میں کیوں نہیں؟اس سوال نے تحقیق کے دروازے کھول دیے۔قرآن پہ تدبر کر کے وہ انمول خزانے دریافت کیے کہ پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

قرآن کی فصاحت و بلاغت کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو لفظ “بیوی” ملاحظ کیجیے۔بیوی کے لیے قرآن میں تین طرح کے الفاظ استعمال کیے گۓ ہیں۔

1۔امراءة
2۔زوجة
3۔صاحبة

ان تینوں الفاظ میں کیا فرق ہے اور ان کے اندر کتنی فصاحت موجود ہے۔ملاحظ کجیے

“امراءة “ایسی بیوی جس سے جسمانی تعلق تو ہوتا ہے مگر ذہنی تعلق نہیں ہوتا۔قرآن میں حضرت لوط ؑ اور نوح ؑ کی بیویوں کے لیے امراءة لفظ استعمال کیا ہے۔کیونکہ ان سے جسمانی تعلق تو تھا مگر مذہب اور مشن جدا ہونے کی وجہ سے ذہنی تعلق نہیں تھا۔اسی طرح فرعون کی بیوی آسیہ جو کہ مومن خاتون تھی۔ان کے لیے بھی امراءة کا لفظ استعمال کیا۔اسی طرح ذکریا ؑ کے قصے میں عجیبب بات دیکھنے میں آئی ہے۔جب اولاد نہیں تھی تو امراءة کا لفظ آیا ہے اور جب اولاد ہو گی تو زوجة۔۔۔بڑا لطیف نکتہ ملتا ہے یہاں کہ اولاد بھی ذہنی ہم آہنگی کا زریعہ بنتی ہے۔عموما بچے ہونے کے بعد میاں بیوں کا تعلق پہلے سے مضبوط ہو جاتا ہے۔جسمانی تعلق تو ہوتا ہی ہے ذہنی بھی ہو جاتا کیونکہ ان کے درمیاں ہرورش اولاد وہ مشن ہوتا جو دونوں کو ذہنی طور پر بھی ایک کر دیتا ہے۔سبحان اللہ

یہ بھی پڑھیے

بچپن کا قرآن

“زوجة” ایسی بیوی کو کہا جاتا ہے جہاں ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کی ہم آہنگی موجود ہوتی ہے۔قرآن میں آدم اور حوا کے لیے زوجة کا لفظ آیا ہے
اسی طرح نبی کریم ﷺ کے لیے قرآن نے یا ایھا النبی قل لازواجک کے الفاظ کہے گۓ ہیں۔
زوجة کا لفظ بتاتا ہے کہ حضرت آدم اور نبی کریم ﷺ کا اپنی بیویوں سے تعلق بہت مضبوط تھا۔

“صاحبة” ایسی بیوی ہوتی جس سے نا ذہنی تعلق ہوتا اور نا جسمانی۔اس کی مثال کے لیے قرآن میں اللہ نے خوو کو ہر طرح کے شرک سے مبرا قرار دیا اور کفار مکہ کا عقیدے کا توڑ کیا تو لفظ صاحبہ کا
استعمال کیا۔یعنی اللہ کی کوئی بیوی نہیں نا ذہنی طور پر اور نا جسمانی طور پر۔ تو پھر اس کی اولاد کیونکر ہو سکتی ہے۔

قیامت کے دن کی تلخیاں اور سختیاں اتنی ہوں گیں کہ آدمی اپنے رشتوں سے بھاگے گا۔یہ بتاتے ہوۓ بھی رشتے داروں کی لسٹ میں بیوی کے لیے صاحبہ کا لفظ آیا ہے۔کیونکہ قیامت کا دن ایسا ہوگا جب سارے رشتے ذہنی اور جسمانی تعلق سے بے نیاز کر دیں گے۔اور صرف اور صرف اپنی پڑی ہوگی۔
قرآن کی بہت خوبصورت دعا
ربنا ھب لنا من ازواجنا ومن ذریتنا۔۔۔۔
یہاں بھی ازواجة کا لفظ ا ستعمال کیاکیو نکہ بہترین کپل وہی ہوتا جن کے درمیان ذہنی اور جسمانی طور پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

درج بالا تینوں الفاظ کے لیے اردو میں ایک ہی ترجمہ ہوگا بیوی۔جبکہ عربی میں اتنی فصیح زبان ہے کہ یہاں ہر کٹیگری کے لیے علیحدہ علیحدہ الفاظ استعمال ہوۓ ہیں۔جو کہ واضح کرتے ہیں کہ اللہ نے قرآن عربی میں ہی کیوں نازل کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں