534

قرآن کے ستائیسویں پارے کے اہم نکات

تحریر شئیر کریں

قرآن کے ستائیسویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کجیے۔

Para # 27
Dawrah e Qur’an
Scholar Nighat Hashmi

اہم نکات
١. سورة الذريت
٢. سورة الطور
٣. سورة النجم
٤. سورة القمر
٥. سورۃ الرحمٰن
٦. سورة الواقعہ
٧. الحديد

سورۃ الذریت

ستائیسویں پارے کے آغاز میں سیدنا لوط علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قصص کی جھلک ہے۔۔

اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑو
دنیا میں انسان کی دوڑ مال کی جانب، اولاد کی جانب، کاروبار کی جانب رہتی ہے۔۔
اللہ تعالیٰ نے تمھیں قوت، صلاحیت ،دل ، کان اور آنکھیں دی اور اب تمھاری دوڑ کہی اور ہو گئی

سورۃ الطور

طور سے مراد وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالٰی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوۓ تھے۔۔
اس پہاڑ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی اس لیے اللہ تعالٰی نے طور کی قسم کھائی ہے۔۔

سیدنا عمر پر اس سورت نے گہرا اثر ڈالا۔۔

اللہ تعالیٰ کی گواہی
رسول نہ تو کاہن ہے اور نہ دیوانہ، نہ وہ شاعر ہے اور نہ ہی اس نے یہ کلام خود گھڑا ہے۔۔

اللہ تعالیٰ نے دو سوال کیے ہیں۔
کیا ان عقلیں انھیں غلط اور جھوٹ بات کہنے کا حکم دیتی ہیں۔۔؟
یا سرکشی ،گمراہی اور جھوٹے propaganda پر ان کی عقل آمادہ کرتی ہے۔۔؟

غیب پر ایمان لانا
دنیا میں جتنے لوگ غیب پر یقین نہیں رکھتے وہ science پر رکھتے ہیں۔ scientific ideology وحی کے علم سے بہت different ہے۔

سائنس اور وحی میں بنیادی فرق؟

ایک طرف مادے پر believe ہے اور دوسری طرف unseen world پر پقین ہے۔۔
سائنس five senses پر believe کرتی ہے یعنی جو چیز حواس کے دائرے میں آتی ہے وہ حق ہے اور جو حواس کے دائرے میں نہیں آتی وہ حق نہیں۔

اللہ تعالیٰ کی ذات تو five senses کے اندر نہیں آتی۔۔آخرت بھی unseen world ہے۔۔
تو غیب پر ایمان scientific knowledge کے بالکل opposite چیز ہے۔۔

سورۃ النجم

سب سے پہلے نازل ہونے والی سجدہ والی سورت سورۃ النجم ہے۔۔

وحی کا نزول
جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی تعلیم دی
عظیم شریعت اور خبریں دی گئی جو اس وحی کے بغیر آپ تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔

رسول اللہ کو جھٹلانا
حضرت جبرائیل علیہ السلام کو جب رسول اللہ نے دیکھا اور معراج کا واقعہ جب اہل قریش کو بتایا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا۔۔

معراج، سدرۃ المنتہی، اللہ سے ملاقات
نگاہیں جھکائے ،ادب کے ساتھ آپ اللہ کے سامنے پیش ہوۓ۔۔
کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔ جو دیکھایا گیا وہ دیکھا وہ جو نہیں دکھایا گیا وہ نہیں دیکھا۔۔
اللہ تعالیٰ کیسے انھیں زمین سے ساتویں آسمان اور سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے۔۔ اور انھیں تھکاوٹ بھی نہیں ہوئی۔۔

سورۃ القمر

اس سورت میں چاند کے پھٹ جانے کا تذکرہ ہے۔۔یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا۔۔
رسول اللہ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سورۃ ق اور سورۃ القمر کی تلاوت بھی کیا کرتے تھے۔

سورۃ الرحمٰن

اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر آیا ہے جس کا منبع ذات باری تعالٰی کی صفت رحمت ہے۔۔

قرآن کا علم سکھانا
دنیا کی سب سے قیمتی نعمت قرآن ہے۔۔ اگر قرآن نہ ہوتا تو ہماری عقل اس قابل نہ تھی کہ جان پاتی کہ اللہ کے ناپسندیدہ اور پسندیدہ اعمال کون سے ہیں۔۔

سورۃ الواقعہ

سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ المرسلات، سورۃ النبا اور سورۃ التکویر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا تھا۔

قرآن عزت والا کلام ہے
اس کلام کو اللہ تعالیٰ نے قدر وقیمت والا بنایا ہے۔
کیا ہم نے واقعی اس کلام کو قدر وقیمت والا بنایا ہے؟

کیا ہم نے اس کلام کو اپنایا ہے۔

سورۃ الحدید

زمین و آسمان کی بادشاہت
اللہ پاک ہے۔ زمین وآسمان کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔وہی زندگی دیتا ہے وہی موت دے گا۔ وہی اول ہے وہی آخر ہے۔ وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے۔

دنیا کی زندگی کھیل اور تماشا ہے۔
یہ دنیا کی زندگی محض دھوکہ اور فریب ہے۔
اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور فضل طلب کریں۔

ہم كيا کریں؟

اللہ کے سوا كسى كو معبود نہیں بنانا،خواہش نفس كى پیروی نہیں كرنى..

اپنى ضرورت پر دوسروں كو ترجیح دينى ہے اور حرص سے بچنا ہے..

اللہ تعالى كو قرض حسنہ دينا ہے.. ان شاء اللہ

قرآن کے ستائسویں پارے کے اہم نکات پڑھنا ہی کافی نہیں۔علم وہ جس پر عمل کیا جاۓ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں