حصول علم ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ نا علم مکمل ہو سکتا نا طلب ختم ہو سکتی۔ ایک طالب علم کا بہت بڑا درجہ ہے حتی کہ حصول علم کی راہ میں موت آنا شہید کا اجر دلاتا ہے۔
بہتا پانی بہت دلفریب ہوتا ہے۔ زندگی کی علامت ہوتا ہے روانی لئے ہوئے بہتا چلا جاتا ہے۔ مگر یہی پانی کسی جگہ رک جائے تو کچھ عرصے بعد بدبو پیدا کرتا ہے اور مچھروں کی افزائش گاہ بن جاتا ہے ۔ جہاں ہمارا سلسلہ سیکھنے کا رک گیا سمجھو کہ پانی کا بہاؤ رک گیا ہے اور سوچ لو کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔۔
عزیزات ہمارا یہاں جمع ہونے مقصد یہی ہے کہ پانی کے بہاؤ کو رکنے نا دیا جائے۔ مجاہد تلوار سے بھی لڑتا ہے قلم سے بھی لڑتا ہے۔ تلوار اور قلم اگر زنگ لگ جائے تو بےکار ہو جاتے ہیں۔
یہاں کچھ بہنیں جو لکھنے والی ہیں ان کو دیکھ کر پڑھ کر توانائی ملتی ہے۔ لکھنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ خواتین بولنے کی بہت شائق ہوتی ہیں بے تکان بلوا لیں بولتی چلی جائیں گی۔ مگر قلم کار بہنو ہم جو بولتے ہیں اگر وہ تحریر کریں تو دو فائدے ہوں گے۔ پہلا یہ کہ بےتکان بولنا ختم ہو جائے گا۔۔۔ جو خاموش رہا نجات پا گیا۔۔۔۔
دوسرا یہ کہ اظہار کو راستہ مل جائے گا۔ ہر انسان تازہ ہوا کے لئے روشن دان چاہتا ہے۔ لکھنا بھی اس کے قلب و روح کا روشن دان ہوتا ہے۔
لکھیں خوب جم کر لکھیں اپنے اردگرد کو لکھیں۔ دل کی سنیں اور لکھیں۔
خیر اندیش
ربیعہ صالحہ