312

لیلتہ الجائزہ اور ہمارا رویہ

تحریر شئیر کریں

لیلتہ الجائزہ اور ہمارا رویہ

لیلتہ الجائزہ کیا ہے

مزدور کا پسندیدہ لمحہ وو ہوتا ہے جب سارا دن کام کرنے کے بعد اسے مزدوری دی جاتی ہے اس کی آنکھیں ہی نہیں روح بھی فرحت اشتیاق سے چمک اٹھتی ہے
لیلتہ الجائزہ جسےعرف عام میں چاند رات کہا جاتا ہے مزدور کی مزدوری کی رات ہے چاند رات کو عربی میں لیلتہ الجائزہ کہا جاتا ہے

لیلۃ الجائزہ کی فضیلت

نبی کریم صل اللہ والہ وسلم نے لیلتہ الجائزہ کے بارے میں خصوصی ہدایات دی ہیں
اس رات اللہ سے خوب مانگو کیونکہ اس رات دعا رد نہیں کی جاتی
مزید فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص لیلتہ الجائزہ کی رات عبادت کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کے دل کو سکون سے بھر دے گا جب ہر طرف افراتفری ہوگی۔

یمارے ہاں چاند رات اور پھر عید کے دن کا جو تصور راسخ ہو چکا ہے وہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے ایسے لگتا ہے جیسے ایک ماہ کی زبردست سی قید کے بعد رہائی ملی ہو ،کتنی عجیب بات ہے نماز تراویح اور قیام اللیل کے بعد عید کے دن سب کچھ غائب ،بہت افسوس ناک صورت حال ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے یہ رویہ ایک مومن کا نہیں ہوسکتا ۔اللہ ہمیں سچا اور پکا مومن بنائے۔آمین

لیلتہ الجائزہ کے نوافل

لیلتہ الجائزہ کی کوئی معین عبادت نہیں ہے یہ دعا و مناجات اور شکر کی رات ہے بندہ مومن اپنا شکر سے بھرا دل لیے اللہ کے حضور حاضر ہوتا ہے تاکہ اللہ اسے رمضان میں کیے گئے نیک اعمال کے بدلے جہنم سے رہائی عطا کر دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں