776

مثبت سوچ اور ہمارے صحابہ اکرام

تحریر شئیر کریں

مثبت سوچ اور ہمارے صحابہ اکرام

جدید دور کا سب سے بڑا مسئلہ منفی سوچ اور اس کا تدارک ہے۔مثبت سوچ کے حوالے سے ہمارے صحابہ اکرام کی زندگیاں بھری پڑی ہیں۔ایک سے بڑھ کر ایک مثال موجود ہے جن سے ہم موٹیویشن لے سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں موجود منفی سوچوں کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ایک صحابی کی کسی نے غیبت کی اور جب انھیں پتہ چلا تو ٹوکری کھجوری کی بھجوائی کہ اچھا کیا کہ اپنی نیکیاں میرے نام کیں۔کس قدر منفرد اور مثبت رویہ تھا جو آپ نے غیبت کرنے والے کو بتایا۔
مثبت سوچ اور ہمارے صحابہ اکرام کے حوالے سے ایک اور

ایک مثبت سوچ رکھنے والا انسان یہ بھی پڑھیے

واقعہ ملاحظ کیجے

طلحہ بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے زمانے میں قریش کے سب سے سخی اور فیاض انسان تھے….
ایک دن ان کی بیوی نے کہا…. میں نے آپ کے بھائیوں سے بڑھ کر کمینہ اور گھٹیا کوئی نہیں دیکھا…!!!
انہوں نے پوچھا… وہ کیسے؟؟؟
کہنے لگی…. جب خوشحالی اور آسانی کا وقت ھوتا ھے تو ھر وقت آپ سے چمٹے رھتے ھیں لیکن جب تنگی اور برا وقت آجائے تو چھوڑ جاتے ھیں!!!
طلحہ نے کہا…. اللہ کی قسم! یہ رویہ تو ان کے اچھے اخلاق کی دلیل ھے…!!! کہ جب میں ان کی عزت افزائی اور حق ادائیگی کے قابل ھوتا ھوں تو مجھے ملتے ھیں اور جب میں اس قابل نہیں ھوتا تو وہ خواہ مخواہ آکر مجھے تنگ اور شرمندہ نہیں کرتے….!!!
امام ماوردی رحمہ اللہ اس واقعے پر تبصرہ فرماتے ہوئے لکھتے ھیں کہ طلحہ کی وسعت ظرفی اور حوصلے کو دیکھیے کہ کیسے اپنے بھائیوں کے برے رویے کو اچھی تاویل اور توجیہ سے خوبی بنا ڈالا اور یہ توفیق صاف دلی کی بدولت ھی حاصل ھوتی ھے
اللہ ھم سب کو ایسا ھی کھلا دل اور مثبت سوچ والا دماغ عطاء فرمائے آمین
مثبت سوچ اپنانی ہے تو صحابہ اکرام کی زندگیوں کا مطالعہ کیجے۔دنیا کی جدید ترین سیلف ہیلپ آپ کو انہی نایاب اور پاکیزہ ہستیوں سے ملے گی۔بس سیکھنے سمجھنے والا دماغ ہونا چاہیے۔

مثبت سوچ اور ہمارے صحابہ اکرام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں