345

مرد روبوٹ نہیں جو عورتوں سے اٹریکٹ نا ہوں

تحریر شئیر کریں

مرد روبوٹ نہیں ہیں جو عورتوں سے اٹریکٹ نا ہوں۔عمرآن خان کے نئے بیان نے کھلبلی مچادی۔

عمرآن خان نے غیر ملکی چینل کو انٹرویو دیتے  ہوۓ کہا ہے کہ جب مردوں کو عورتیں نامناسب لباس میں دکھائی دے گیں تو وہ اٹریکٹ ہوں گے وہ کوئی روبوٹ نہیں ہیں جن پر اثر نا ہو۔عمرآن خان  نے اپنے موقف کے حق میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ان کو ایسا مواد دکھایا جاۓ گا تو وہ یقینا اثر قبول کریں گے،ہمارا ماحول یورپ سے قطعا مختلف ہے یہاں کلب نہیں ہیں جہاں جا کرمرد اپنی ضرورت  پوری کریں گے۔

عمرآن خان کا یہ بیان کافی حقیقت پسندانہ ہے۔ہمارا معاشرہ  منافقت پر مبنی ہے۔جہاں  شادی دن بدن مہنگی ہونی کی وجہ سے لیٹ ہوتی جا رہی ہے۔جب شادیاں وقت پہ نہیں ہوں گی تو  پھر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات اور اب تو محرم رشتوں سے  حیا و احترام بھی مفقود ہوتا جا رہا ہے۔بہن بھائی اور باپ بیٹی جیسے مقدس رشتے بھی ہوس کی نظر ہو رہے ہیں۔جن مردوں کو باہر سے ضرورت پوری  ہونے کا موقع نہیں ملتا وہ گھر میں نقب لگاتے ہیں۔سیکس انسانی ضرورت ہے جس کا وقت پر پورا ہونا ضروری ہے نہیں تو یہ آگ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اور پاکستانی معاشرے میں یہی سب ہو رہا ہے۔مدارس ہوں یا گھر سب جگہ ہوس کے پجاری موجود ہیں۔ان کو ایسا بنانے والے کون ہیں؟؟

کیا اشتہار دکھا کر اشتہا بڑھانے والے وہ تمام ایڈز وہ تمام سامان تعشیات جو ڈراموں میں دکھایا جاتا جو سوشل میڈیا پہ شئیر کیا جاتا ،،کیا یہ سارے عوامل مل کر نوجوان نسل کی اشتہا نہیں بڑھا رہے۔جن کی وجہ سے سادگی اور قناعت کے درس اب کتابوں تک مفقود ہو کر رہ گئے ہیں،شادی کے لیےپیسے جمع کرتے کرتے سر میں چاندی اتر آتی ہے۔اور دل میں پلتے نرم و نازک جزبات جب ان کو نکالنے کے لئے جائز راستہ نہیں ملتا تو یہ بغاوت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ان سب مسائل کا حل وقت پہ شادی ہے۔سوال یہ ہے کہ اشتہا زدہ معاشرے میں وقت پہ شادی کون کرے؟؟عمرآن خان صاحب زرا ایک نظر دن بدن بڑھتی مہنگائی پہ بھی ڈالیئے ۔پاکستان میں وہ چیزیں جو عام انسان کی دسترس سے بہت دور ہوتی جا رہی ہیں اور ان پہ کوئی آواز نہیں اٹھا رہا وہ تعلیم  گھر اور شادی ہیں۔آپ ان تین چیزوں کو عام انسان کی دسترس میں پہنچا دیں سارے مسئلے حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں