آج وہ بہت دنوں بعد مسکرائی تھی۔مسکرانے سے اس کا سارا وجود ہلکا پھلکا ہو گیا تھا جیسے کسی نے سارا بوجھ اتار پھینکا ہو۔اس کے مسکراہٹ سے اردگرد کی ساری فضا بدلی بدلی سی لگ رہی تھی۔جیسے کائنات می ہر چیز مسکرا اٹھی ہو۔کسی نے کیا خوب کہا کہ مسکراؤ کہ رونے کے لیے کوئی دن نہیں بناہ ہے۔مسکراہٹ دل کا دروازہ کھول دینے کا ہنر رکھتی ہے۔
مسکراہٹ بیسویں صدی کا وہ راز ہے جسے باقاعدہ علم کادرجہ دے دیا گیا ہے۔اہل۔مغرب اس کی طاقت سے واقف ہو کراوج ثریا تک جا پہنچے اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور انکی سنت تھی جسے فراموش کر بیٹھے۔نتجیجتا ناکامی ڈپریشن اور بیماریاں ہمارا مقدر بن گئیں۔مسکرانے سے ڈپریشن دور ہوتا اور تعلقات مستحکم ہوتے۔جتنی دیر آپ مسکراتے دماغ سارے فنکشنز روک کر مسکراہٹ کے کام میں لگ جاتا ہے۔انسان کو بھی دماغ کی طرح سب کچھ بھلا کر چہرے پہ مسکراہٹ سجا لینی چاہیے۔یہ آپ کے لیے ترقی کے دروازے کھول دے گی۔جونہی آپ کسی کو مسکرا کر دیکھتے ہیں اکلے کے چہرے پہ بھی بلا ساختہ مسکراہٹ احاط کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مسکراہٹ کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔کسی بھی نیکی کو معمولی نا سمجھو اگرچہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا ہی ہو۔”ترمذی کی روایت ہے تمہارا اپنے بھائئ سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے”یعنی مسکرایٹ مفت کی عبادت ہے۔نبی کریم ﷺ نے نا صرف اپنی امت کو مسکرانے کی تلقین کی بلکہ ان کا اپنا اس حوالے سے یہ معمول تھا صحابہ اکرا م فرماتے ہیں کہ آپ سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔یعنی ہمہ وقت مسکراہٹ آپ ﷺ کے چہرہ۔مبارک پر سجی رہتی تھی۔
جدید سائنس مسکراہٹ کے جادو کو مان چکی ہے۔اہل مغرب کی ترقی کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔جب آپ کسی ایسے دوکاندار کے پاس جائیں جو مسکرانا جانتا ہو تو یقین کریں چیز مہنگی بھی ہو تو آپ کوسستی لگے گی مسکراہٹ میں اتنی تاثیر ہے اور وہ شخص جو مسکرانا جانتا ہے لوگ اسے تادیر یاد رکھتے ہیں۔اس سے چیز خریدنا پسند کرتے ہیں۔اس سے دوبارہ ملنے کی خواہش کرتے ہیں۔مرتے ہوۓ تعلق کو مسکراہٹ سے زندہ کیا جا سکتا ہے۔یہ نبویﷺ معجزہ ہے جس ہم نے چھوڑ دیاہے۔سائنس کہتی ہے خوشی پیدا کی جا سکتی ہے۔اور مسکراہٹ ان عناصر میں سے ایک اہم عنصر ہے۔جدید ریسرچ سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جب ہم کسی سے ملتے ہیں تو ہمارے اندر سے منفی ریز نکلتی ہیں اگر سامنے والا مسکرا کر ملے تو یہ شعاعیں بہت کم مقدار میں خارج ہوتیں ہیں۔
ڈایو وائر کہتا ہے کہ مسکراہٹ ایک بہترین تھراپی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
چارلی چپلن کہتا ہے کہ “
مسکراہٹ کے بغیر دن بیکار ہے”
یاسمین حمید پاکستان کی نامور رائٹر ہیں اپنے ناول ام الیقین میں لکھتی ہیں “مسکراؤ کہ رونے کے لیے کوئی دن نہیں بنا”