373

ملالہ کا بیان اور ہمارا ملال

تحریر شئیر کریں

ملالہ کا۔بیان اور ہمارا ملال ملاحظ
کجیئے قلم کتاب پر

ملالہ کے حالیہ بیان پہ ردعمل۔ضرور شو کریں مگر خدارا اس سے پہلے معاشرے کی بدلتی اقدار اور ان پہ پڑتی دراڑوں پہ غور ضرور کیجیئے ۔کیا ملآلہ کا بیان ان رخنوں دراڑوں کو گرانے کی ایک کوشش تو نہیں ؟

ملالہ کی کہی ہوئی بات پہ غصہ کرنے سے پہلے زرا سوچیں کہ کیا پاکستان میں معاشرتی اقدار اتنی مضبوط ہیں کہ ملالہ کا کہا سنا ان پہ نا کر سکے ۔زرا ان حقآئق پہ نظر ڈالیے جو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ معاملہ گڑبڑ ہے ۔

بغیر نکاح کے تعلق رکھنا جرم ہے گناہ کبیرہ ہے مگر یاکستان میں کتنے اداکار کتنے سیاست دان اور کتنے طلںاء وطالبات ہیں جو۔بغیر نکاح کے ریلیشن رکھے ہوئے ہیں ۔ایدھی فاؤنڈیشن کی رپورٹ ملاحظ کیجیئے ان کے مطابق سآلانہ تقریبا 1150 نومولود بچے کوڑے کے ڈھیر پہ پڑے ملتے ہیں ۔جہاں تک ہسپتالوں کی رپورٹ ہے ان کے مطابق 13000 کیسز ابارشن کے ہوتے ہیں ۔ہوسٹلز میں مقیم لڑکیوں میں سے شاذونادر ہی ایسی ہوتی ہیں جو بوائے فرینڈ نا رکھتی ہوں ۔بواے اور گرل فرینڈ کلچر معاشرے میں عام ہو کر رہ گیا ہے۔

ملالہ پر ملال کرنے کی بجائے معاشرتی اقدار کو مضبوط کریں ۔اس کے لیے چھوٹی عمر میں نکاح کو فروغ دینا ازحد ضروری ہے۔تاکہ اس ناسور کے آگے بندھ باندھے جا سکیں۔پھر نا ملالہ رہے گی اور نا ہی ملال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں