806

موثر تدریس کیسے ممکن ہے؟

تحریر شئیر کریں

موثر تدریس کیسے ممکن ہے؟

effective teaching

جدید دور میں سب سے بڑا مسئلہ جو آج کے ٹیچر کو درپیش ہے۔وہ ہے سٹوڈنس کی توجہ حاصل کرنا،موثر  ٹیچنگ تب ہی ممکن ہے جب ٹیچر اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کرے جس سے طلباء کے اندر سیکھنے کی تحریک پیدا ہو۔وہ زیادہ سے زیادہ پڑھائی کی طرف راغب ہو۔اس کے لیے تمام جدید زرائع سے استفادہ کرنا ہوگا۔آڈیو،ویڈیو ڈیوائسز سٹوڈنس کے اندر  تعلیم کے شوق کوابھارنے میں اہم کردار ادا کر سکتیں ہیں۔یہ تو طے ہے کہ آج کے بچے بہت تیز اور ذہین ہیں۔مقصد صرف ان کی توجہ حاصل کرنا ہے۔اگر استاد  یہ ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ 60٪ کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔ذیل میں ان تمام حکمت عملیوں پر بات کی جائے گی جو آج کے سٹوڈنٹ کو لرننگ کی طرف مائل کر سکتی ہے

۔۔سٹوڈنس کو ایک ہی طرز پہ لیکچر دینا،بوریت اور سستی  کا شکار کردیتا ہے۔اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کتاب کے صفحے کی ریڈنگ کی بجائے    کسی ڈرامائی انداز،اچھوتے واقعے  سے ابتداء کریں۔ماڈرن سائیکالوجی کہتی ہے کہ بہترین لرننگ کہانیوں کی صورت میں ممکن ہے۔لہذا روایتی سٹائل سے ہٹ کر  سکھائیں۔تاکہ سٹوڈنس خوشی خوشی سیکھنے کی طرف راغب ہوں۔اتنے پرجوش ہوں کے آپ کے آنے کے منتظر ہوں،آپ کی آمد انکی آنکھوں کی چمک سے عیاں ہو جائے۔لیکچر کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا کا احساس مٹ جائے۔۔۔۔انسانی فطرت ہے کہ وہ نئی چیز سے لذت محسوس کرتا ہے۔لہذا نت نئے طریقوں اور نت نئی معلومات سے بچوں کو لرننگ کی طرف مائل کریں۔ٹیچر علم نہیں علم کی پیاس دیتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ٹیچر علم نہیں دیتا بلکہ علم کی پیاس دیتا ہے۔

سٹوڈنس کے اندر پیاس پیدا کر دیں علم وہ خود ہی سیکھ لے گا،پھر وہ سکول بھی شوق سے آئے گا،کتابیں بھی خریدے گا اور اہل علم سے ملاقاتیں بھی،بطور استاد اور طالب علم دعا کریں کہ اے اللہ میرے اندر علم کی پیاس پیداا کر”یہ وہ  قرینہ ہے جس سے آج کا سٹوڈنٹ محروم ہے۔ایک فیصد لوگ اس اہم نکتے سے شناسا ہوں گے،باقی ڈگری کے حصول میں کوشاں ہیں۔آج کے سٹوڈنٹ کو اس دوڑ سے نکال کر مقصدیت کی طرف لانا بہت ضروری  ہے۔یقین جانیئے یہ کوئی مشکل کام نہیں آپ تھوڑی سی محنت اور کوشش سے یہ ٹارگٹ حاصل کر سکتے ہیں۔قوت یقین کی آبیاری:یقین وہ پودا ہے جو بنجر درختوں کو بھی سرسبزوشاداب بنا سکتا ہے۔یقین وہ قوت ہے جو زمین سے اٹھا کر عرش پر پہنچا دیتی ہے۔یقین وہ طاقت ہے جو اندھے کو بینائی کی صلاحیت عطا کر سکتی ہے۔آج کے نظام تعلیم کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ وہ بچوں کو سب کچھ پڑھاتا ہے مگر قوت یقین پیدا نہیں کرتا۔قوت یقین سے محرومی ان کو ہر محاذ پر شکست سے دوچار کرتی چلی جاتی ہے۔

یہاں تک کہ وہ ناکام شہری اور ناکام انسان کا روگ دل میں سجائے اس دنیا  سے رخصت ہو جاتا ہے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بچے کے اندر یقین کا بیج بو دیں،اسے بتائیں کہ سب کچھ ممکن ہے،آپ جو چاہے بن جاؤ،ناکام اور کامیاب۔۔یہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔اسے بتائیں کہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت پر یقین کرنا سیکھیں۔وہ کبھی محنت کرنے والی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا۔محنت کو پھل ضرور لگتا ہے۔بچے کو بتایا جائے کہ نظام یقین کیسے کام کرتا ہے؟صرف اور صرف ایک سوچ سے شروع ہونے والا سفر اتنا پاورفل کیسے بن جاتا ہے۔کہ آپ کی پوری زندگی کی عمارت کو کامیاب اور ناکام کر دیتا ہے۔واصف علی واصف لکھتے ہیں “اگر آپ کے دل میں صحیح عقیدہ ہے تو آپ کا ہر عمل عبادت ہے۔”عقیدے کی آبیاری بھی مثبت سوچ سے ہوتی ہے۔مثبت سوچ ہی وہ پہلا بیج ہے جو یقین کے درخت کا روپ دھار کر آپ کو سایہ ہی نہیں پھل اور پھول بھی عطا کرے گا۔

مقصد سے جوڑیے:آج کے ٹیچر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ محض وقت گزاری یا  چند پیسوں کی خاطر یہ پیشہ اختیار کرتا دکھائی ہے۔اس کے پاس مقصدیت نہیں ہے۔جب وہ خود بے منزل و بے نام ہے تو وہ سٹوڈنس کے اندر یہ خوبی کیسے پیدا کرے گا۔؟؟؟کہا جاتا ہے کہ مقصد والی زندگی میں خود ترسی نہیں  کہ اسے جانا کہاں ہے۔انسان وہ واحد مخلوق ہے جو اپنے لیے مقصد چنتا رہتا ہے۔مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ ہر انسان کسی مقصد کے تحت پیدا ہوتا ہے مقصد کی خواہش انسان کے اندر رکھ دی گئی ہے۔بس اسے ایکٹیو کرنے کے لیے کوئی راہبر اور راہنما چاہیئے۔۔۔استاد  اگرراہنما بن جائے تواس سے بڑا کوئی اعزازنہیں۔۔۔

۔حوصلہ افزائی ایک  موئثر ٹانک:فی زمانہ مار پیٹ کا زمانہ نہیں ،بچے کو چلانے کے لیے ایک موئثر ٹانک ان کی حوصلہ افزائی،شاباشی یا وضاحت کے  ساتھ تعریف کرنا ہے۔۔ ۔یہ وہ ٹول  ہے جو بگڑے ہوووں کو راہ راست پر لے آتاہے۔ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ ہم کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے،بلکہ اس کو جہاں تک ہو سکے  ڈس ہارٹ کرتے ہیں۔ اگر ہم اس عادت کو بدل کر شاباشی کا کلچر اپنائیں تو بہت سے روکے ہوئے دوڑنے لگ جائیں گے ۔۔۔نالائق بچوں کے لئے یہ بہت ہی مفید ٹانک ہے۔میں نے بطور ٹیچر  اس تکنیک کو آزمایا ہے اور اسے کافی موئژ  پایا ہے۔بعض استاد وں کو کچھ نہیں آتا مگر وہ  دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔

اوراپنے اس واحد وصف سے بہت سوں کو منزل کا پتا دکھا دیتے ہیں۔خود اعتمادی پیدا کریں:بچے کے اندر اعتماد کی کمی اسے آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔۔وہ نا صرف تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے بلکہ زندگی کے بہت سے محازوں پر بھی ناکام ہوتا ہے۔اس مقصد کے لیے استاد کو چاہیے ہ وہ سٹوڈنس کے اندر اعتماد پیدا کرے۔اعتماد کے لیے اسے چھوٹے چھوٹے ٹارگٹس دیں،یہ چھوٹے چھوٹے کام ہی ان کو بڑے بڑے کاموں کے لیے تیار کریں گے۔۔آج کا ستاد لیکچر دینے پہ ہی اکتفا کرتا ہے،سب کچھ خود کرتا چلا جاتا ے۔یہ چیز بچوں میں جمود پیدا کر دیتی ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے اندر تحریک پیدا کرنے کے لیے ان کو ایکٹیو رکھنے کے لیے ایسی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے جو ان کے اندر اعتماد پیدا کر سکے۔۔۔مثلا چھوٹے بچوں کو نظمیں پڑھاتے ہوئے ایکشن کروانا ،اسے بچے نا صرف انجوائے کرتے ہیں بلکہ جلدی سیکھ بھی جاتے ہیں۔یہ چیز انھیں خوداعتمادی کی طرف مائل کرتی ہے۔موثر منصوبہ بندی کریں:جہاں تک لیسن پلاننگ کی بات ہے تو ماہرین کہتے ہیں کہ لیسن پلاننگ کے لیے کم از کم 90 گھنٹے کی محنت درکار ہوتی ہے تب جا کر موثر لیسن پلاننگ ممکن بنتی ہے۔لیسن پلاننگ کیسے کی جائے؟یہ ایک باقاعدہ فن ہے۔فی زمانہ ٹیچرز ٹریننگ میں بڑے اچھے طریقے سے سیکھایا جا رہا ہے۔لیسن پلاننگ کر نے کے بعد جب تک آپ کا لیکچر سٹائل مختلف اسلوب سے مزین نہیں ہوگا،تب تک موثر لرننگ ممکن نہیں ہو پائے گی۔بچہ ایک پودے کی طرح لچکیلا اور خالی الذہن ہے یہ استاد ہوتا ہے جو اسے پودے سے تناور درخت بناتا ہےاس کے خالی ذہن میں علم کے رنگ بھرتا ہے۔ٹیکنالوجی کا استعمال”اکیسویں صدی میں لرننگ ہو اور ٹیکنالوجی کے بغیر ہو تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بریانی مصالحہ جات کے بغیر،جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر بچوں کی لرننگ کو بڑی حد تک ڈیولپ کیا جا سکتا ہے۔سزا کا

طریقہمارپیٹ کا کلچر کبھی بھی موثر لرننگ نہیں دے سکتا۔اسلام بھی اس کی مذمت کرتا ہے۔مگر تھوڑی بہت اجازت دیتا ہے۔مثلا کہا جاتا ہے کہ پہلے مرحلے میں بچے کو علیدگی میں سمجھایا جائے،پھر سب کے سامنے پھر اس کو مارا جا سکتا ہے مگر وہ بھی ایسی مار جس میں نشان نا پڑے،چہرے پہ مارنے کی بھی ممانعت ہے۔امام غزالی ماہر تعلیم ہیں کہتے ہیں جس نے اپنے بچے کو ضد سے بچا لیا،اس نے ہر شر سے بچا لیا،مارپیٹ کا کلچر بچوں کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی پیدا کرتا ہے۔جو کہ انتہائی مہلک چیز ہے۔۔جہاں تک ہو سکے بچوں کو ضد سے بچایا جائے۔ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں،مشکلات نہیں۔ماہرین تعلیم کہتے ہیں جو جو غصہ کرتا ہے وہ موثر استاد نہیں۔نظام مساواتطالب علموں کو کبھی ایک دوسرے پر ترجیح نا دیں۔ہمیشہ

مساوات کے اصولوں کے تحت برتاؤ کریں،اس سے نا صرف تعلیم ادارے کا ماحول موثر ہوگا بلکہ استاد کی عزت اور احترام میں بھی دگنا اضافہ ہوگا۔اور وہ نیا سیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گے۔اور موثر لرننگ ممکن ہو سکے گی۔ غصہ نا کریں:غوروفکر کی عادت ڈالیں

موثر تدریس کیسے ممکن ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں