479

میرا ٹھٹھرتا وجود جاۓ عبرت ہے

تحریر شئیر کریں

..میرا ٹھٹھرتا وجود جاۓ عبرت ہے
ٹک ٹاکر مسکان کراچی میں اپنے تین دوستوں سمیت قتل کر دی گی۔ سرد خانے میں اس کی ٹھٹھرتی لاش جسے اپنوں نے بھی لے جانے سے انکار کردیا ہے۔آج وہ وجود جس کے چاہنے والے لاکھوں میں تھے بے گوروکفن چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے۔کہ دیکھو میرے لاکھوں فالورز جو میرے ایک ایک ادا پہ فدا تھے۔میرے اشاروں پہ مرنے والے آج کدھر ہیں۔کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو میری ٹھٹھرتی لاش کو کفن پہنا کر اسے میری آخری گھر قبر کے سپرد کر سکے۔اے کاش میرے وہ گھر والے جسے شہرت اور دولت کے نشے میں پیچھے چھوڑ آئی تھی۔وہ پلٹ آئیں اور مجھے میری آخری منزل تک پہنچا آئیں۔اے کاش وقت پلٹ آۓ اور میں اپنے جیسی قندیلوں کو بتا سکوں کہ میرا جسم میری مرضی کے دلفریب نعروں سے نکل آئیں۔یہ نعرے صرف عورت کو ننگا کرتے ہیں۔اس کی اصل منزل تو گھر ہے۔جہاں وہ زمانے کی گندی نظروں سے خود کو چھپاۓ نسل انسانیت کی آبیاری کرتی ہے۔کاش میں وقت کو پیچھے لے جا سکوں۔۔۔۔اے کاش

میر ٹھٹھرتا وجود جاۓ عبرت ہے۔میرے فالوورز میرے لیے وہ سیاہ دھبہ ہیں۔جنہوں نے میری دنیائیں لوٹ لیں۔جنہوں نے میرے اپنے سگے رشتے لوٹ لیے۔پتہ نہیں میں یہ سب کیسے بھول گئ تھی کہ اپنے بھی بھلا چھوڑے جاتے ہیں وہ بھی جھوٹی اور مکار دنیا کے پیچھے۔۔۔۔اپنے تو تن ڈھانپتے ہیں۔جبکہ بیگانہ ننگا کرکے اس کی عزت و ناموس کو دھجیاں بکھیر کر اس جاۓ عبرت بناۓ مر کر بھی چین نہیں لینے دیتے۔۔۔میرا جسم میری روح سب چھلنی ہیں۔بدبو کے بھبھکوں سے اٹے یہ نین نقش آج میری ہی خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی تیاری میں مگن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں