477

میں اور میرا پاکستان

تحریر شئیر کریں

حاجرہ عمران خان
میرا پاکستان سوچوں تو دل میں خوشگوار سا احساس جاگتا ہے، دل اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ میں کسی فصل کی طرح اس کے خوشبو جیسے سینے میں اگی ہوں۔ سر اٹھائے لہلہاتی ہوں، چاروں طرف آنکھیں پٹپٹا کر دیکھتی ہوں، اس کی ہوائیں اس کی فضائیں اس کی نرم خوشبو اپنی سانسوں میں اتار لیتی ہوں، پھر کسان آتا ہے، میرے بدن پر ٹریکٹر چلاتا ہے، مجھے کاٹ کر جب اپنے بچوں کے پیٹ کا رزق بناتا ہے ، میں اسے دعائیں دیتی جاتی ہوں۔ میں پھر سے اس کی مٹی میں بیج بن کر بکھر جاتی ہوں، جب دوبارہ اگتی ہوں تو اسی طرح خوش ہوتی ہوں۔ میں بار بار کٹتی ہوں بار بار رزقِ خاک ہوتی ہوں اور پھر سے سر ابھار لیتی ہوں۔ ہر بار بدن زندگی کی نمو پاتا ہے، ہر بار فنا ہوتاہے مگر اس مٹی کے لیے سو بار جنم لینا، سو بار فنا ہونا یہ میری خوش نصیبی ہے۔ مجھے اسی مٹی میں سکون ملتا ہے، میرا حاصل اسی وطن کی پاک ہوائیں ہیں، میری سانس اس کی سانس کے ساتھ چلتی ہے .
اس سے محبت میں کبھی میں اس کی ماں بن جاتی ہوں، اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہوں، محبت سے اس کی پیشانی چومتی ہوں اور کبھی اس کی حفاظت کے لیے اس پر آیة الکرسی پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہوں۔
میں کبھی بیٹی بن کر اس کے دستِ شفقت کے سائے تلے سمٹ جاتی ہوں۔ اس کے ہاتھ کی پشت پر بوسےدیتی ہوں، اس کی سلامتی کے لیے ہر لمحہ ہونٹ نیم وا رکھتی ہوں .
میں اسکی نرم زمین کا سینہ کہیں بنجر نہ ہوجائے اسے اپنے اشکوں سے سیراب کرتی رہتی ہوں۔
میں اس کی حفاظت کے لیے مارخور بن کر اس کے وجود پر رینگتے سانپوں کو کچل ڈالتی ہوں تو کبھی جے ایف تھنڈر سیون ٹین بن کر اس کے دشمنوں کے فضا میں پرچخے بکھیر دیتی ہوں۔
یقین کرو ، وہ میں ہی ہوں, کبھی فصل بن کر اگتی ہوں, کبھی ماں بن کر آغوش میں لے لیتی ہوں، کبھی بیٹی بن کر دعا کا حصار قائم کردیتی ہوں، کبھی مارخور بن کر اس کے دشمنوں کی بیخ کنی کرتی ہوں، تو کبھی فضا میں اڑتا پرندہ بن کر اس کی طرف آنے والے ہر گِدھ کے جسم کے پرچخے اڑا دیتی ہوں۔ میں مجسمِ محبت ہوں ہر بدن میں گھل کر اس کے وجود میں ڈھل جاتی ہوں اور پاکستان سے اپنے وجود کی محبت کی آنچ کو دہکاتی رہتی ہوں۔
خدا کرے،میں مٹ جاؤں مگر میرے وطن کی فضائیں یونہی شاد رہیں،آباد رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں