391

نور مقدم کیس لمحہ فکریہ

تحریر شئیر کریں

نور مقدم کیس لمحہ فکریہ جانیے قلم کتاب پر

قرآن مجید کا فرمان ہے سورہ روم کی پہلی آیت میں
“خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا تمہارے ہاتھوں سے”

نور مقدم کا قتل اس قدر دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ہر حساس اور ذمہ دار فرد کو فکرمند کیا۔

ہمیں چاہیے کہ اب غور وفکر کریں اور ایسا طرز عمل اپنائیں کہ اس طرح کے واقعات جو کہ کچھ عرصے سے لگاتار پیش آرہے ہیں دوبارہ نہ ہوں۔*

عبرت کی نگاہ والوں کیلئے سبق ہے کہ لا دینیت atheism سے کیسی سوسائٹی وجود میں آ سکتی ہے۔ خدا اور آخرت کا انکار ایسے ہی اخلاق پیدا کرے گا
جب کسی کو خدا کو جواب دینے کا ڈر نہیں ہوگا تو وہ کیوں حیا، تمیز اور اچھے کردار سے رہنا چاہے گا۔

اپنی اولاد کے دین کی فکر کریں۔اپنی اولاد کی تربیت کیلئے بہت فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ موبائل انٹرنیٹ وغیرہ پر کیا دیکھتے ہیں۔ کیسی گیمز کھیلتے ہیں۔
پر تشدد قسم کی موویز اور گیمز دیکھ کر تشدد کی طرف کی رغبت ملے گی۔* ایسے content سے بچائیں۔

اکتوبر کے پھول

قصور کی زینب کے بعد تو ان واقعات کی جیسے لائن ہی لگ گئی ہے۔ *وجہ مجرم کو پبلک میں سزا دے کر اسکو عبرت کا نشانہ بنانا ہے۔
یہی قرآن نے سکھایا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے۔ ہمیں حکومت کو قرآن کا یہ حکم یاددلانا ہے۔ *جس معاشرے میں رہتے ہیں اسکو محفوظ بنانا ہے تو جلد انصاف اور ایسی عبرتناک سزا ضروری ہے۔
یہ جو فصل ہم کاٹ رہے ہیں اسکے بیج بونے والے بھی ہم ہیں۔ بلکہ پوری دنیا ہے۔
ہر ادارہ ہر جگہ مخلوط ہے، عفت و عصمت، کردار کی حفاظت، شرم و حیا جب ضروری چیز نہیں رہتی تو پھر ہر جگہ سیریل کلرز serial killers، خواتین اور بچوں کے قاتل اور ان پر تشدد کرنے والے ہی جنم لیں گے۔*

شرم و حیا کی طرف لوٹ آئیں۔ مرد اور عورت کے اس اختلاط کو ختم کرنے کی طرف آئیں۔

اللہ تعالی نے ایسے ہی جرائم سے سے سوسائٹی کو پاک کرنے کیلئے جو اقدام steps بتائے ہیں، ان میں سے یہ بھی ہے کہ مرد اور عورت میں آزاد میل جول نہ ہو بلکہ فاصلہ ہو۔*

افسوس کہ ہم قرآن کو اساطیر الاولین(پرانے وقتوں کی کہانیاں)، ناقابل عمل Impractical اور فرسودہ backward سمجھتے ہیں

ہمارا آئیڈئیل تو ویسٹرن کلچر ہے۔ جس میں ایسے واقعات اور جرائم ہمارے ملک سے کئی کئی گنا زیادہ ہیں۔*

نور مقدم کیس لمحہ فکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں