نکاح سستا کرنا ہوگا
جیسے جیسے مہنگائی بڑھتی جا رہی شادی اور نکاح مہنگا ہوتا جا ریا۔توں توں نوجوان نسل بے راہ روی سے قریب اور جائز جنسی تعلق سے دور ہوتا جا رہا۔یہ بہت خطرناک ٹرینڈ ہے جو نوجوان نسل کو مایوسی کی طرف لے جا رہا۔ایسے میں کنواری لڑکیوں کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے جو شادی کی عمر نکل جانے سے مایوسی میں ڈوب چکیں ہیں یا کسی کی گرل فرینڈ بن کر زندگی گزار رہی ہیں۔ایک گورنمنٹ ہوسٹل کو قریب سے دیکھنے کااتفاق وہاں کی تقریبا ہر دوسری لڑکی کسی شادی شده مردکے ساتھ تعلق میں هے۔یہ شادی شدہ مرد اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اس کی نسوانیت کے در پہ ہے۔حالانکہ اس کے پاس نکاح کا راستہ بھی ہے مگر۔۔
پاکستان میں ایسی لڑکیاں لاکھوں میں ہیں جو شادی کی عمر ہونے کے باوجود نکاح نہیں کر پا رہیں کیونکہ مناسب رشتہ نہیں ہے۔مناسب رشتہ نہ ملنے کی بڑی وجہ لڑکیوں کا پڑھ لکھ جانا اور اپنے سے برتر رشتے کی تلاش ہے۔چونکہ نسبتا عورت کے مرد کی پیداوار کم ہوتی ہے۔اس لیے یہہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔رشتہ نہ ملنے کی۔پھر مرد کی نسبتا عورت سے عمر بھی کم ہوتی ہے اور حالات کی سختیاں اور ناہمواریاں ان پہ زیادہ ہوتیں ہیں ۔جنگوں اور ایکسیڈنٹ میں بھی مرد زیادہ یلاک ہوتے ہیں تو یہ سب وجوہات مردوں میں کمی کا سبب بنتی ہیں۔اللہ نے اس کمی کو بڑے احسن طریقے سے پورا کیا ہے۔یعنی ایک سے زائد بیویوں سے نکاح۔آپ ﷺ نے خود بھی نکاح کیے اور امت کے مردوں کو بھی جو سکت رکھتے ہوں تلقین کی ہے۔بڑے مزے کی بات جو عرب لوگوں کے کلچر میں سننے کوملتی ہے۔
کہ عرب لوگ جس کی ایک بیوی ہو اسے مسکین کہتے ہیں۔یعنی وہ اتنا کنگالا ہے کہ ایک سے زائد بیوی نہیں رکھ سکتا۔خیر تو بات ہو رہی تھی ایک سے زائد بیویوں کی تو مسلم ممالک میں ایسے باتیں اب سننے کو مل رہی ہیں کہ نوجوان نسل کو نکاح کی ترغیب کے لیے نت نۓ آپشنز دیے جاتے ہیں۔پاکستان میں جماعت الدعوہ نے یہ ترغیب دلانے کے لیے اعلان کر رکھا ہے کہ جو شخص دو شادیاں کرے گا اس کی تنخواہ ڈبل اور جو تین اس کی ٹرپل اور جو چار کرے گا اس کی چار گناہ زیادہ ہوگی۔
عراق کے ایک نجی بنک نے دوسری شادی کرنے والے مرد کو 8 ہزار 400 امریکی ڈالر کا قرض دینے کا اعلان کیا ہے۔اس کی وجہ بھی عراقی مردوں کا شادی نہ کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔اسی طرح بعض ملکوں نے اس پر جرمانہ بھی عائد کیا ہے تاکہ لوگ دوسری شادی کو رواج دیں۔دوسری طرف عرب ملک جہاں یہ رواج صدیوں سے چل رہا۔عرب عورتیں ایسے مردوں کو ترجیح دے رہیں ہیں جو سنگل میرج پہ فوکس کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نکاح کوسستے سے سستا کیا جاۓ۔تاکہ نوجوان نسل بے راہ روی سے بچ سکے۔اور دوسری شادی کی مناسب حکمت عملی بنائی جاۓ جس میں پہلی بیوی کو سیکور کیا جاۓ کہ اس کے حقوق پامال نہ ہوں