509

نیاز حسینؓ

تحریر شئیر کریں

نیاز حسینؓ

جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

تحریر : روبینہ شاہین
امام حسین کی شہادت انسانی تاریخ کا وہ المیہ ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔نواسہ رسول ﷺ کو سیاسست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔شہادت حسین انتہائی نازک اور اہم موضوع ہے جس سمجھنے کے لیے نئ جہتوں کی ضرورت ہے۔انسانی دماغ کا المیہ ہے جو چیز اسے سکھا دی جاتی ہے اس میں فیڈ کر دی جاتی ہے وہ اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ہم نے جو واقعات بچپن میں سنا دئے گۓ ہیں ویسے کے ویسے فیڈ ہوتے چلے گۓ۔۔۔سوال یہ ہے کہ واقعہ کربلا کے اہم محرکات کیا تھے؟کچھ تو تھا نا جو امام حسین رضی اللہ عنہ نے خود کو اور اپنے اہل وعیال کو قربان کر دیا تھا۔
۔۔۔۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کا جملہ “مجھ جیسا کبھی بھی یزید جیسے کی بیعت نہیں کرے گا”ایک تاریخی جملہ ہی نہیں اپنے اندر حکمت کا جہاں سمیٹے ہوۓ ہے۔موجودہ سیاسی کشمکش اور شہنشاہیت اور جمہوریت کی آڑ میں چھپی تباہ کاریوں پہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے امام حسین نے اپنا سر دار پہ کیوں چڑھایا تھا جبکہ وہ جانتے کہ انکی آواز پہ لبیک کہنے والے بک چکے ہیں۔
امام حسین خلافت کے صاف ستھرے نظام میں کوئی ملاوٹ نہیں چاہتے تھے۔جدا ہو دین سیات سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی امام عالی مقام نے کربلا میں یہ سبق رہتی دنیا تک کے لوگوں کو ازبر کروا دیا تھا۔اسی چینگزیت کے لیے لڑتے ہوۓ آل رسول ﷺ نے حق وباطل کے راستے واضح کر دیے تھے۔ایک طرف خلافت تھی تو دوسری طرف شہنشاہیت جو ظلم استبداد کے سارے شر اپنے اندر سموۓ امڈ آنےکو بے تاب تھی۔ آپ نے دنیا کو بتایا کہ دین محمدی ﷺ ایک کامل دین ہے اس میں کسی قسم کی آمیزش کی گنجائش نا کبھی تھی نا ہے۔نا ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔
کربلا کا سب سے بڑا سبق ظالم و جابرکے سامنے کملہ حق بلند کرنا ہے چاہے ظالم کتنا بھی طاقتور کیوں نا ہو یہی ایمان کا تقاضا ہوا کرتا ہے۔ایسے ہی لوگ تاریخ میں امر ہوتے ہیں۔پھر یزید تھا اور حسین ہے کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔آنے والی صدیاں ان کی ہوتیں ہیں۔وقت ان کے لیے حال مستقبل اور ماضی سے آزاد ہو جایا کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے اسلام کے سیاسی نظام میں جو گرد یزید کی بیعت سے لگی تھی اسے صاف کیا جاۓ جو بڑھتے بڑھتے اتنی توانا ہو چکی ہے کہ اب اس سے نکلنے کا کوئی راستہ بظاہر نظر نہیں آتا۔مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ راستہ ہے نہیں۔قرآن اور حدیث کی صورت میں ہمارے پاس مکمل شریعت موجود ہے۔بس جرات ایمانی چاہیے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ایسا لیڈر دے جو اس خس و خاشاک ہوئی امت کو پھر سے توانا کر دے۔آمین

واضح رہے یزید یت ایک نظام کی صورت ہمارے چاروں طرف پنجے گاڑ چکی ہے۔ اس سے نکلنے کا واحد راستہ محمدعربی ﷺ کا نظام ہے۔اس پہ عمل پیرا ہوۓ بغیر یزیدیت سے نجات ممکن نہیں۔اسلام کے سیاسی نظام کی برکتوں سے بہرہ ور ہونا ہے تو کربلا کے اس سبق کو از سر نو یاد کرنا ہوگا جو اصل نیاز حسین ہے۔جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

نیاز حسینؓ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں