458

وہ لمحہ جب امریکی جہاز ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو گرفتار کرنے آن پہنچا

تحریر شئیر کریں

وہ لمحہ جب امریکی جہاز ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو لینے آن پہنچا تھا۔ جانیے وہ راز جو اب راز نہیں رہے


ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایٹمی اثاثہ جات بیچنے کی مکمل کہانی اور حقیقت وہ لمحہ جب امریکی جہاز ڈاکڑ عبدالقدیر خان کو لینے آن پہنچا تھا,ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے حقیقی ہیرو اورپاکستان کی سلامتی کو یقینی بناے والے واحد انسان جن کی شب وروز کی محنت اور پلان کی وجہ سے آج ہم اپنے گھروں میں محفوظ اور سکھ کی نیند سوتے ہیں۔اب جبکہ وہ اس فانی دنیا سے جا چکے ہیں اور تادم آخر اپنی نظر بندی کے حوالے سے رنجیدہ دکھائی دیتے تھے ان کی رنجیدگی کا اصل سبب کیا تھا؟کیا وہ واقعتا رنجیدہ تھے یا ملکی سالمیت کی حفاظت کے لیے انھیں یہ ڈھونگ رچانا پڑا۔

پرویزمشرف لاکھ نکما سہی مگر اس معاملے جس بصیرت اور دانشوری کا مظاہرہ کر گیا وہ ماننا پڑے گا۔یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نے نئے نئے ایٹمی دھماکے کر کے دشمن کے کلیجے ساڑ ڈالے تھے اسی ساڑ اور جلن کو کم کرنے کے لیے امریکہ نے ایک سازشی پلان تیار کیا وہ یہ کہ تمام سائنس دان جو کہوٹہ لیبارٹری میں کام کر رہے ان پہ جھوٹے الزامات لگا کر انھیں ایٹمی راز افشا کرنے پر امریکہ کے حوالہ کرنے کو کہا گیا اور ایک جہاز ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور متعلقہ عملے کو لینے آن پہنچا تھا۔جنرل مشرف ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملے اور کہا کہ اگر آپ یہ سارا الزام اپنے سر لے لے تو پاکستان ہی نہیں پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی رول بیک ہونے سے بچ سکتا ہے

۔اس عظیم لیڈر نے میڈیا پہ آکر وہ الفاظ کہے جو سراسر جھوٹ تھے مگر حکمت اور وقت کے متقاضی تھےوہ الفاظ تھے ایٹمی راز افشا کرنے کے الزام کا اقرار۔پرویزمشرف نے یہ شرط بھی رکھی کہ اگر ْپ یہ الفاظ ادا کر دیں گے تو ہم آپ کو امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے اور اس وعدے پہ پورے بھی اترے،اس کے بعد ساری دنیا کی انٹیلیجینس ادارے ڈاکٹر قدیر کے پیچھے پڑ گئے۔پرویز مشرف نے ڈاکٹر قدیر کو محفوظ کرنے کے لیے انھیں نا صرف نظر بند رکھا بلکہ دفاعی ادروں کی زیرنگرانی بھی رکھا۔جس پہ بظاہر ڈاکٹر قدیر برہم نظر آتے اور مشرف کو برا بھلا بھی کہتے مگر سچ یہ نہیں تھا۔یہ سب دکھاوا تھا۔وقت کا تقاضا تھا ۔دوسری طرف پرویزمشرف نے امریکی پلان الٹ کر انھیں کہا کہ میں ان الزامات کی تحقیق خود کروں گا آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں مطلع کیا۔

یہ ہے وہ کہانی جس کا مقصد ایٹم بنانا ہی نہیں۔بلکہ بچانے کا کاکام بھی ڈاکٹر قدیر سے قدرت نے لیا اور وہ ان دونوں۔کاموں میں پورا اترے۔قوم کو سرخرو کرنے کی قیمت ڈاکٹر قدیر نے نظر بند ہو کے ادا کی۔اللہ ان سے راضی ہو۔ْمین

وہ لمحہ جب امریکی جہاز ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو گرفتار کرنے آن پہنچا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں