421

پانچ جولائی سے کچھ تو سیکھیں

تحریر شئیر کریں

تحریر:اکرام اللہ
کراچی

عوامی سطح پر اگر کوئی سیاسی بات کی جائے ، سدھار کا مشورہ دیا جائے یا تنقید کا راستہ اختیار کیا جائے تو ہر گام پر ایسے جانباز بکھرے پڑے ملتے ہیں جو گزشتہ دہاہیوں میں پیپلز پارٹی اور مسم لیگ کی حکومتوں کی مبینہ کرپشن اور بہت سارے معاملات میں ناکامیوں کو حوالہ بنا کر لٹھ لے کر آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے کہ انھوں نے کیا تیر مارا تھا یا کون سے کارہائے نمایاں انجام دیئے تھے کہ آپ آج والوں کو نشانۂ تنقید بنانے جا رہے ہیں۔

اگر آپ کسی بھی سطح کے سیاسی کارکن ہیں تو آپ کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ نام نہاد عمرانی حکومت کا ناقد لازمی نہیں کہ آزمائے ہوؤں کو دوبارہ لانے پر مصر ہو یا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی وکالت کرتا ہو، میں ان دو پارٹیز کا نام اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ضیا اور مشرف کی فوجی آمریتوں کے علاوہ ماضی قریب میں یہی ملک کے سیاہ و سفید کی مالک پارٹیز سمجھی اور جانی جاتی ہیں۔

پاکستانی سیاست کی تاریخ کوئی بہت طویل نہیں لیکن ہماری قوم کا حافظہ کمزور یا پھر پروپیگنڈہ کرنے والوں کی چالیں اتنی مضبوط کہ ہم میں سے اکثر بڑی آسانی کے ساتھ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی پر دل کی بڑاس نکال کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور ان سے پہلے کی سیاسی وارداتوں کی فکر کرنا تو کجا خود آج کے حالات پر بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے خود کو دھوکہ دیئے جاتے ہیں یا پھر موجودہ تمام تر بدحالیوں ، بد انتظامیوں اور کرپشن کی داستانوں کو ملک کی سیاسی روایت اور اپنی قسمت جان کر رضاکارانہ طور پر چپ ہولیتے ہیں۔

مستقبل کا دانشور جب بھی آزادانہ طور پر ملک کے حالات اور اس پر مسلط ٹولے کے کرتوتوں کو قلم بند کرے گا تو سب سے طویل اور مؤثر باب سیاست بمقابلہ عسکریت کا ہوگا۔ ہمارا المیہ رہا کہ ہمارے ہاں ابتدا سے ہی عسکری جن بوتل میں بند رہنے پر آمادہ نہیں ہوا بلکہ بہانے بہانے سے بوتل سے نکل کر آسیب کی طرح ملک پر چھاتا رہا اور اگر مصلحتاً کبھی بوتل میں بند ہونے پر راضی ہوا بھی تو اپنے آلہ کاروں سے ہر ممکنہ بے جا مداخلت کے زریعے ملکی معاملات میں ٹانگ اڑاتا رہا۔

یہ معاملات پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ کے پیدا کردہ نہیں بلکہ خود بانئ پاکستان کی زندگی میں یہ تماشہ شروع ہو چکا تھا۔ قیوم نظامی اپنی کتاب قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل میں تحریر کرتا ہی کہ “قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بجھوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے” اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ الفاظ درج فرمائے کہ “میں اس آرمی آفیسر کو جانتا ہوں، وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے، اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے” ساتھ ہی یہ ہدایت فرمائی کہ ” وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا”.
الطاف گوہر اپنی کتاب گوہر گزشت میں بتاتے ہیں کہ قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور “جب قائد اعظم ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی جانے لگی تو انھوں نگ ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا” لیکن المیہ کہ جس فرد کے بارے میں بانئ پاکستان کے یہ تاثرات اور احساسات تھے بعد میں وہی فرد خود سے سینئر جرنیل کی موجودگی میں فوج کا سربراہ بنتا ہے اور پھر ملک کا پہلا مارشل لاء ایڈ منسٹریر بن کر گیارہ سال تک سیاسی عمل کا گلہ گھونٹ کر ملک پر مسلط رہتا ہے۔

عسکری مداخلت اور گھر کے بیدی ائیر مارشل (ر) اصغر خان کو اپنی کتاب جنرل اور سیاست میں زچ ہو کر لکھنا پڑتا ہے کہ اگر “ہم پر جرنیلوں نے ہی حکومت کرنی ہے تو حلف سے یہ الفاظ ہی حذف کرئیے جائیں کہ ‘میں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں ، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا”

ایوب خان کا تذکرہ اس وجہ سے کیا کہ ان کی براہ راست بانئ پاکستان کے ساتھ چپقلش رہی اور ملک کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہے ورنہ تو محلاتی سازشیں ہر دور میں جاری رہیں اور ملکی معاملات کبھی بلاواسطہ تو کبھی بلواسطہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے چلانے کے منصوبے ہر دور میں طے پاتے رہے ہیں۔

طوالت سے بچنے کے لیے حالیہ دور کے دو حوالے درج کررہا ہوں، پہلا یہ کہ 1990 کے الیکشن میں جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کی جانب سے اپنے من پسند افراد کی کامیابی کے لیے 70 ملین روپے کس خوشی میں بانٹے گئے دوئم یہ کہ حال ہی میں عمران خان کو جنرل پاشا اور پھر باجوہ کی آشیر باد اب بھی کسی سی ڈھکی چھپی ہے کیا۔

بہر حال آج 5 جولائی ہے، پاکستانی تاریخ کا وہ بدترین دن کہ جب قائد عوام کہلانے والے وزیر اعظم کی حکومت کو فوجی بوٹوں سے روندھ کر وزیر اعظم کو پابند سلاسل کیا گیا ۔ اور جنرل ضیا نے قوم سے نوے دن میں الیکشن کروانے کا وعدہ کرکے تادم مرگ 11 سال تک اقتدار کی ہما کو اپنے سر پر بٹھائے رکھا۔

آپ بھٹو کو پسند کریں یا برا سمجھیں لیکن اس کی حکومت ختم کرنا ملک کے سیاسی عمل کے لیے شدید دھچکا ہونے سے انکار شاید ہی کرسکیں بلکل اسی طرح بعد ازاں ان کے مارے جانے کے عمل کی بھی کوئی اخلاقی دلیل نہیں دی جاسکتی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کرنے اور ان کے عدالتی قتل نے ملک کے سیاسی نظام کی کایہ پلٹ دی ، اس سے حکومتی امور جرنیلوں کی گود میں آگئے اور پھر اس کے بعد ضیا اور مشرف نے سیاسی عمل کو جو نقصان پہنچایا اس کی تلافی میں شاید کئی دہائیاں لگ جائیں۔

ہر آمر نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے حقیقی سیاسی عمل کو سبو تاژ کرکے عوام کے اجتماعی شعور کو یرغمال بنانے کی کوشش کی، سیاسی رہنماؤں کی اس انداز میں کردار کشی کی گئی کہ عام آدمی لفظ سیاست کو ہی گالی سمجھ بیٹھا، سیاست کے نام پر عوام میں غیر مقبول چہروں کی اس انداز میں پروجیکشن کی گئی کہ لوگوں کی اکثریت انھیں نجات دہندہ سمجھنے لگی اور پھر ناکامیوں کا بار اپنے ہی پلانٹڈ افراد پر ڈال کر جمہوریت کو گویا گالی بنا ڈالا، سیاسی اداروں بشمول پارلیمان و پارٹیز کو ایسے کمزور کیا گیا کہ آج باجوہ برسر اقتدار نہ ہوتے ہوئے بھی ایوان میں موجود کٹھ پتلیوں کو اپنی انگلیوں سے نچواتا ہے، عدلیہ کو ڈکٹیٹ کرتا ہے ، خود کو ناگزیر باور کرواتے ہوئے آئین میں ترمیم کرکے خود اپنے لیے اور سپنے بعد آنے والے چیفس کو ساز باز کرنے یا چور راستہ اختیار کرنے کی بجائے قانونی دروازہ بنواتا ہے ، ملک میں آزادانہ طرز سیاست کو فروغ دینے سے روکنے کے لیے اپنے پیشرؤں کی پالیسز پر عمل پیرا رہ کر جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل سے لے کر پریس کو اپنے تابع رکھنے کے تمام تر منفی ھتکنڈے استعمال کرتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو زیر کرنے سے زیادہ کو اپنی آزادی ، سیاسی وقار بلند کرنے اور عوام کے اختیار کو حقیقی اختیار باور کروانے پر صرف کرنی ہوں گی ، انھیں کوئی بھی مصلحت خاطر میں لائے بغیر اٹھنا ہوگا، بھلے ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر اٹھیں یا کسی غیر معروف وزیر، محسود یا بلوچ کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا رویے پر ورنہ تو کوئی بعید نہیں کہ ملک کی حکمرانی بھی وسیع تر مفاد میں ہمیشہ کے لیے آرمی ویلفئیر ٹرسٹ کے نام کردی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں