لاہور کے علاقے صدر میں کرسچن محلے کے جوزف نے اپنی جان لے لی۔۔۔کہا جا رہا ہے کہ جوزف کا زیادہ تر وقت پب جی کھیلتے گزرتا تھا ۔باپ کے منع کرنے پر دل برداشتہ ہوا اور اپنے ہاتھوں سے اپنی جان کا خاتمہ کر لیا۔
اس سے قبل دسمبر 2019 میں بھی انڈیا کے ایک نوجوان نے منع کرنے پر باپ کا گلا کاٹ دیا۔
پب جی گیم کی تباہ کاریاں جاری و ساری ہیں۔گھروں میں ایک آدھ بندہ ضرور پب جی کھیلتا ہے۔اور وہ بھی ایسے کہ لگتا اس گیم نے لوگوں پر جنون طاری کر دیا ہے۔وقت آگیا ہے کہ اس جنونی گیم کو بند کیا جاۓ۔عدالت عظمی اس کا نوٹس لے۔۔۔۔