547

پر سکون ازدواجی زندگی کا راز

تحریر شئیر کریں

پرسکون ازدواجی زندگی کا راز ،جانئیے قلم کتاب پر


پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی کا کوئی حل نا نکالا گیا تو نتائج سنگین ہوں گء

ہے۔ایسا مسئلہ جس
جب کوئی انسان مثبت سوچ رکھتا ہے تو بڑی سے بڑی پریشانی بھی اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی،زندگی کی ہر خوشی مثبت سوچ میں پوشیدہ ہے۔مثبت سوچ کے بغیر اس کا کوئی عمل اسے کامیابی اور خوشی نہیں دے سکتا۔ہم قربانیاں دے رہے ہوتے ہیں،ہر ھال میں خود کو ایڈجسٹ کر رہے ہوتے ہیں مگر ان سب کے باوجود سوچ منفی ہوتی ہے جو خرابی پیدا کر رہی ہوتی ہے۔جب تک اندر سے کڑ کڑ ختم نہیں ہوگی تب تک آپ سکون محسوس نہیں کریں گے،


ہمارے ہاں تمام مسائل کے پیچھے ایک ہی وجہ پوشیدہ ہوتی ہے وہ ہے منفی سوچ،منفی سوچ گاڑی کی اس بیٹری کی طرح ہوتی ہے جو اس کی ساری انرجی چوس لیتی ہے پھر وہ جتنی بھی محنت کر لےمگر کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ سوچ کو تبدیل نا کر لیں۔


ہمارے ہاں شادی شدہ عورت کام کر رہی ہوتی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس کے اندر ایک منفی گفتگو کی بھی کیسٹ مسلسل چل رہی ہوتی ہے میری تو ویلیو ہی نہیں اس گھر میں،بس کام کرتے رہو،صبح کام شام بس اسی طرح مر جانا ایک دن،کاش میں بھی پڑھی لکھی ہوتی جاب کرتی،اپنی من پسند زندگی گزارتی ،اس طرح کی گفتگو جب اندر ہو رہی ہوتی ہے تو پھر سکون کیسے آئے گا؟پرسکون ازدواجی زندگی سے دور کیوں؟


صلہ انسان نہیں دیتے بلکہ اللہ کی ذات دیتی ہے اس کے لیےضروری ہے کہ بے لوث ہو کر کام کیا جائے،درخت چرند پرند انسان کے علاوہ کائنات کی ہر شے اپنے کام پہ لگی ہوئی ہے یہ کبھی شکوہ نہیں کرتے،سورج نے کبھی کہا ہے کہ میں سارا دن جلتا ہوں،چاند نے کبھی کہا کہ میں کیوں ساری رات ڈیوٹی دوں،یہ سب اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کرخدمات انجام دے رہے ہیں۔عورت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ہر وقت تعریف نہیں کی جا سکتی،ہر کوئی جانتا ہے کہ آپ کا ہونا اس گھر کے لئے کتنا ضروری ہے۔اگر ایک دن کے لئے ماں بیمار پڑجائے تو سارا نطام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔اسی لئے کہتے ہیں کہ ماں صحت مند تو سارا گھر صحت مند ہوتا ہے۔


ازدواجی زندگی کے مسائل کے حل کا ون سنگل فارمولا یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں مثبت سوچ کے حامل ہوں”یہی پرسکون ازدواجی زندگی کا راز ہے کہ دونوں آپس میں بیٹھ کر سوچیں کہ ہم ہر بات کو منفی طرز پہ کیوں سوچتے ہیں،فلاں بات کو اس طرح سے مثبت بھی تو سوچا جا سکتا تھا،مثال کے طور پر ہمارے گھروں کا عام مسئلہ شوہر نے فون اٹینڈ نہیں کیا یا بیوی نے ماحول گرم ہوگیا،اب اس بات کو جتنا منفی سوچیں گے لڑائی بڑھے گی مگر ایک مثبت سوچ سے جلتی آگ پہ پانی پھینک کر لڑائی ختم کی جا سکتی ہے اگر دونوں یہ سوچ لیں کہ ممکن اگلا بندہ مصروف ہو جس کی وجہ سے کال اٹینڈ نہیں کی۔


ایک اور منفی رویہ جب میرے گھر والے آتے ہیں تو اس کا موڈ آٖ ف ہوجاتا ہے حالانکہ دونوں کے لئے دونوں کے گھر والے برابر ہونے چاہئے،اللہ کا کرم دیکھیں کہ ساس سسر کوبھی ماں باپ کا درجہ دیا ہے۔بہو کا نکاح کبھی سسر سے نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا مقام حقیقی باپ کی طرح ہوتا ہے۔اگر بنیاد میں یہ بات شامل ہوتو پھر فرق نہیں آئے گا،داماد بیٹے کا فرق مٹ جائے گا،کتنی کمیاں اور محرومیاں جو ازخود ختم ہ وجائیں گیں۔


عورت اپنے میکے کو جس طرح دفاع کرتی اور منفی باتون کو چھپاتی ہے مگر سسرال کی مثبت باتوں کو بھی منفی بنا کر پیش کیا جاتا ہے ایسا کیونکر ہوتا ہے؟اگلا جیسا بھی ہو مگر آپ نے ردعمل میں ویسا نہیں ہونا،ری ایکشنری رویوں کی وجہ سے بسااوقات ہم اگلے بندے سے بھی دوہاتھ آگے جا رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں ادراک ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے اگلے سے بدلہ لینے کےچکر میں ہم بھی ویسے بن جاتے ہیں۔پرسکون ازدواجی زندگی کی راہ میں اس طرح کے روئے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔


جن لوگوں کی سوچ مثبت ہوتی ہے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں نہیں الجھتی ،بقول واصف علی واصف بڑی منزل کے مسافر چھوٹے جھگڑوں میں نہیں پڑتے،اس لئے اونچی منزلیں ان کا مقدر بنتی ہیں۔جب کہ منفی رویوں والے لوگ جلتے کڑھتے وہی رہتے ہیں جبکہ مثبت سوچ والے آگے نکل جاتے ہیں۔


جب ہم اپنے بارے میں دوسروں کی رائے کی پرواہ کرتے رہتے ہیں تب تک ترقی نہیں کرتے،کوشش یہ ہونی چاہئے کہ دوسروں کی باتوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں،مثلا جس شخص کی فلائیٹ ہے اگر اس شخص کا جھگڑا راستے میں کسی سے ہو جاتا ہے تو وہ پرواہ کیے بغیر چلتا رہے گا کیونکہ اگر وہ لڑنے بیٹھ جائے تو اس کی فلائیٹ مس ہو سکتی ہے،بالکل اسی طرح زندگی کی گاڑی کا بھی یہی معاملہ ہے

جب پرواز اونچی ہوتی ہے اور مقصد اللہ کی رضا ہوتی ہے تو پھر دنیا اور اسکی باتیں بہت پیچھے رہ جاتیں ہیں۔پرسکون ازدواجی زندگی کا راز مثبت اور بے لوث ہونے میں ہے جتنے مسائل زیادہ اتنا ہی مثبت اور بے لوث رویہ آپ کو ایک شاندار بہو بنا دے گا۔
پرسکون ازدواجی زندگی کا راز مثبت سوچ میں ہے،سوچ اگر منفی بھی ہے تو اسے کوشش اور محنت سے مثبت بنایا جا سکتا ہے،کسی سپیکر سے ہیلپ لی جا سکتی ہے انسان گرو کرنے والی مخلوق ہے وہ تادم مرگ اس جستجو میں رہتا ہے کہ کچھ پا لے کچھ حاصل کر لے،تو پھر منفی ذہنیت کا رونا کیوں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں