چین میں سیلاب کے بعد سانپوں سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی حقیقت جانیے۔ کیا یہ سانپ پاکستان آ سکتے ہیں؟ 96

چین میں سیلاب کے بعد سانپوں کی خبریں: کیا وہ پاکستان آ سکتے ہیں؟

تحریر شئیر کریں

میٹا ٹائٹل: چین میں سیلاب کے بعد سانپوں کی خبریں: کیا وہ پاکستان آ سکتے ہیں؟

میٹا ڈسکرپشن: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چین سے سانپوں کے فرار کی خبروں کی حقیقت جانیے۔ کیا یہ سانپ پاکستان آ سکتے ہیں؟ ماہرین کی رائے اور مون سون کے دوران ضروری حفاظتی تدابیر پڑھیں۔

چین سے سانپ بھاگنے کی خبریں، حقیقت کیا ہے؟

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ چین میں شدید سیلاب کے دوران سینکڑوں سانپ فارموں سے نکل گئے ہیں، جس کے بعد بعض لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ سانپ سیلابی پانی کے ذریعے پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں؟

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ہر خبر درست نہیں ہوتی۔ اس وقت تک ایسے دعووں کی تمام تفصیلات کی معتبر ذرائع سے تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے انہیں احتیاط کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

کیا چین کے سانپ پاکستان آ سکتے ہیں؟

مختصر جواب ہے: نہیں۔

اس کی کئی سائنسی اور جغرافیائی وجوہات ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ دونوں ممالک کے دریائی نظام ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور چین کے جنوبی علاقوں میں آنے والا سیلاب پاکستان کے دریاؤں سے منسلک نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ کوئی بھی سانپ ہزاروں کلومیٹر کا سفر سیلابی پانی میں زندہ رہتے ہوئے طے نہیں کر سکتا۔ اسی لیے یہ خدشہ درست نہیں کہ چین سے بہہ کر آنے والے سانپ پاکستان پہنچ جائیں گے۔

پھر پاکستان میں سانپ کیوں نظر آتے ہیں؟

پاکستان میں مون سون اور سیلاب کے موسم میں مقامی سانپ اپنے بلوں سے نکل کر نسبتاً خشک جگہوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بارشوں کے دوران گھروں، کھیتوں اور آبادیوں میں سانپ دکھائی دینے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ سانپ پاکستان کے اپنے قدرتی ماحول کا حصہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی دوسرے ملک سے آنے والے۔

چین میں سانپوں کی فارمنگ کیوں کی جاتی ہے؟

چین کے بعض علاقوں میں سانپوں کی فارمنگ مختلف مقاصد کے لیے کی جاتی ہے۔ بعض مقامات پر انہیں خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ روایتی چینی ادویات میں بھی سانپ کے بعض اجزاء استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سانپ کے زہر سے اینٹی وینم تیار کی جاتی ہے، جو سانپ کے کاٹے کے علاج میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مون سون کے موسم میں حفاظتی تدابیر

بارشوں اور سیلاب کے موسم میں اپنے گھر اور صحن کو صاف ستھرا رکھیں۔ جھاڑیوں اور لمبی گھاس کی بروقت صفائی کریں تاکہ سانپوں کے چھپنے کی جگہ نہ بنے۔ گھر کے اردگرد کچرا یا ملبہ جمع نہ ہونے دیں۔ رات کے وقت باہر نکلتے ہوئے ٹارچ ضرور استعمال کریں۔ بچوں کو جھاڑیوں اور سیلابی پانی کے قریب اکیلے نہ جانے دیں۔ اگر کہیں سانپ نظر آئے تو اسے خود پکڑنے کی کوشش نہ کریں بلکہ متعلقہ ریسکیو ادارے سے رابطہ کریں۔

اگر سانپ کاٹ لے تو کیا کریں؟

اگر کسی شخص کو سانپ کاٹ لے تو اسے پرسکون رکھنے کی کوشش کریں اور متاثرہ عضو کو زیادہ حرکت نہ دیں۔ زخم کو کاٹنے، چوسنے یا اس پر دیسی ٹوٹکے آزمانے سے گریز کریں۔ متاثرہ شخص کو جتنی جلد ممکن ہو قریبی اسپتال منتقل کریں تاکہ ضرورت پڑنے پر بروقت علاج اور اینٹی وینم فراہم کی جا سکے۔

نتیجہ

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر پر فوراً یقین کرنا مناسب نہیں۔ اس وقت ایسی کوئی مستند معلومات موجود نہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ چین سے نکلنے والے سانپ پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔ البتہ پاکستان میں مون سون کے دوران مقامی سانپوں سے احتیاط ضرور کرنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کی آفات، قدرتی آزمائشوں اور خطرات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں